اشاعتیں

فروری, 2015 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اس کڑی دھوپ میں جلتے ہوئے پاؤں کی طرح

اس کڑی دھوپ میں جلتے ہوئے پاؤں کی طرح محمد مسعود میڈوز نونٹگھم  اس کڑی دھوپ میں جلتے ہوئے پاؤں کی طرح تو کسی اور کے آنگن میں ہے چھاؤں کی طرح تو تو واقف ہے میرے جذبوں کی سچائی سے پھر کیوں خاموش ہے پتھر کے خداؤں کی طرح میں تو خوشبو کی طرح ساتھ رہا ہوں تیرے تو بھٹکتا رہا بے چین ہواؤں کی طرح وہ جو برباد ہوئے تھے وہی بدنام ہوئے ہیں تم تو معصوم رہے اپنی اداؤں کی طرح غم تو یہ ہے کہ ہمیں کوئی خوشی راس نہیں زندگی کاٹ رہے ہیں ہم سزاؤں کی طرح 🌹🌹🌹

تمہیں مجھ سے محبت ہے

تمہیں مجھ سے محبت ہے محبت کی طبعیت میں یہ کیسا بچپناقدرت نے رکھا ہے  کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے ا سے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے یقین کی آخر ی حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو ! نگاہوں سے ٹپکتی ہو ‘ لہو میں جگمگاتی ہو ! ہزاروں طرح کے دلکش ‘ حسیں ہالے بناتی ہو ! ا سے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی کہ جیسے طفل سادہ شام کو اک بیج بوئے اور شب میں بار ہا اٹھے زمیں کو کھود کر دیکھے کہ پودا اب کہاں تک ہے محبت کی طبعیت میں عجب تکرار کی خو ہے کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی بچھڑ نے کی گھڑ ی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو اسے بس ایک ہی دھن ہے کہو ’’مجھ سے محبت ہے ‘‘ کہو ’’مجھ سے محبت ہے تمہیں مجھ سے محبت ہے سمندر سے کہیں گہری ‘ستاروں سے سوا روشن پہاڑوں کی طرح قائم ‘ ہوا ئوں کی طرح دائم زمیں سے آسماں تک جس قدر اچھے مناظر ہیں محبت کے کنائے ہیں ‘ وفا کے استعار ے ہیں ہمارے ہیں ہمارے واسطے یہ چاندنی راتیں سنورتی ہیں سنہر ا دن نکلتا ہے محبت جس طرف جائے ‘ زمانہ ساتھ چلتا ہے کچھ ایسی بے سکو نی ہے وفا کی سر زمینو...

آخر کب تک

آخر کب تک  محمد مسعود میڈوز نونٹگھم  یو کے  آخر کب تک داغِ جگر کو  سب سے چھپا کے رکھوں گی  روکھی پھیکی چہرے پر  مُسکان سجا کے رکھوں گی ایک نہ اِک دن بھید یہ میرا  سب پر ہی کھل جائے گا لوگوں سے کہنے کو  کوئی بات بنا کے رکھوں گی شہر یہ سارا دِن مُجھ کو  تاریک سا اب تو لگتا ہے تیرے لوٹ آنے تک میں  دل کو جلا کے رکھوں گی 

طبیب بن کے جو آ گئے ہو

طبیب بن کے جو آ گئے ہو محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے طبیب بن کے جو آ گئے ہو میں نیم جاں تھا تو تم کہاں تھے تمہاری اُلفت کی بے حسی پر میں نوحہ خواں تھا تو تم کہاں تھے ہر ایک گُل تھا خزاں رسیدہ کہ آگ ہر سو لگی ہوئی تھی بہار آئی تو آ گئے ہو یہاں دھواں تھا تو تم کہاں تھے اندھیرا جب تک طویل راہوں میں رہا حکمراں تھا تو تم کہاں تھے شعور گفتار آگیا ہے اب مجھے نہ میرے لہجے میں زہر گھولو مجھے اب اپنی زبان ملی ہے میں بے زبان تھا تو تم کہاں تھے