اشاعتیں

شاعر محمد مسعود لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

حصارِ خاموشی

تصویر
ہر ایک شخص مجھے اب جدا دکھائی دیتا ہے ہجوم میں بھی کوئی تنہا دکھائی دیتا ہے کسی کے ہاتھ میں اب روشنی نہیں باقی ہر ایک دل مجھے بجھا دکھائی دیتا ہے وہ کون ہے جو زمانے سے بچ کے چلتا ہے ہر ایک شخص یہاں ڈرا دکھائی دیتا ہے عدالتوں میں بھی سچ کی صدا دبائی گئی ہر ایک لب مجھے سہما دکھائی دیتا ہے ہوا میں زہر ہے نفرت کا اس قدر پھیلا ہر ایک شہر مجھے جلتا دکھائی دیتا ہے یہ کس مقام پہ لا کر کھڑا کیا ہم کو ہر ایک رشتہ مجھے ٹوٹا دکھائی دیتا ہے میں اپنے گھر میں بھی خود کو مسافر پاتا ہوں ہر ایک کمرہ مجھے صحرا دکھائی دیتا ہے کسی کی یاد کا موسم نہیں اترتا ہے یہ دل بھی اب مجھے پیاسا دکھائی دیتا ہے کلام کرتے ہوئے دل اداس رہتا ہے مسعودؔ خود بھی مجھے تنہا دکھائی دیتا ہے یہ نظم “حصارِ خاموشی” معاشرتی تنہائی، خوف اور انسانی رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود موجودہ دور کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے جہاں انسان ہجوم میں رہتے ہوئے بھی تنہا محسوس کرتا ہے۔ لوگوں کے دلوں سے محبت اور روشنی ختم ہو چکی ہے اور ہر طرف خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کا ماحول نظر آتا ہے۔ شاعر محمد مسعود اس بات پر افسوس ...

اثر دعا

تصویر
مجھے تیرا نہ ملنا لوگوں کی بددعاؤں کا اثر لگتا ہے کہ خواب ٹوٹتے رہتے ہیں اور دل ہی قصوروار لگتا ہے ہم نے چاہا تھا تجھے سادہ سی عبادت کی طرح یہ عشق اب بھی مگر سب سے بڑی آزمائش لگتا ہے نہ کوئی شکوہ زبان پر، نہ کوئی حرفِ ملامت یہ صبر ہی ہے جو ہر زخم پر پہرے دار لگتا ہے کسی کی ایک نظر نے اجاڑ دی میری دنیا یہ دل بھی اب مجھے شیشے کا شہر لگتا ہے محبتوں کے سفر میں ہم اکیلے ہی رہ گئے ہر ہمسفر یہاں وقتی اور ہر موڑ غدار لگتا ہے یہ جدائی بھی مسعودؔ کوئی معمولی کہانی نہیں یہ وہ باب ہے جو ہر بار پڑھوں تو نیا لگتا ہے اثر دعا یہ غزل انسانی زندگی میں محبت، جدائی اور تقدیر کے کرب کو نہایت سادگی اور گہرے احساس کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود محبوب کے نہ ملنے کو محض اتفاق نہیں بلکہ لوگوں کی بددعاؤں کا اثر سمجھتا ہے، جہاں خوابوں کا بار بار ٹوٹنا دل کو ہی قصوروار ٹھہرا دیتا ہے۔ محبت کو عبادت جیسا پاکیزہ جذبہ قرار دیا گیا ہے، مگر یہی عشق سب سے بڑی آزمائش بن کر سامنے آتا ہے۔ غزل میں صبر کو ایک محافظ کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو ہر زخم پر پہرہ دیتا ہے، اگرچہ اندر کا درد خاموش نہیں ہوتا۔ ایک نظ...