اشاعتیں

درد بھری شاعری لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

خاموش درد

تصویر
خاموش درد دل کی دیواروں پہ ایک نقش سا رہتا ہے کوئی لمحہ ہے جو آنکھوں میں بہتا رہتا ہے میں ہنسا بھی تو ادھورا سا لگا اپنے آپ کو میرے اندر کوئی چپ چاپ سا روتا رہتا ہے تیری یادوں کے چراغوں سے ہے روشن یہ سفر ورنہ ہر راستہ تنہائی میں کھویا رہتا ہے میں نے لفظوں میں چھپایا ہے بہت سا درد اپنا ہر شعر میرے اندر سے ٹوٹا رہتا ہے لوگ کہتے ہیں زمانہ بڑا خوش ہے مسعود پر میرے دل میں ایک طوفان سا اٹھتا رہتا ہے یہ نظم 'خاموش درد' ایک ایسے دل کی کیفیت بیان کرتی ہے جس میں بظاہر سکون اور مسکراہٹ ہے مگر اندر ایک مسلسل بے چینی اور اداسی موجود ہے۔ شاعر محمد مسعود اپنے دل کی دیواروں پر یادوں کے نقش اور لمحوں کے بہاؤ کو محسوس کرتا ہے جو آنکھوں سے اشک بن کر بہتے رہتے ہیں۔ ہنسی کے باوجود ایک ادھورا پن اور اندرونی کرب اس کی شخصیت کا حصہ ہے۔ محبوب کی یادیں اس کی زندگی کے سفر کو روشنی دیتی ہیں مگر وہی یادیں تنہائی کو مزید گہرا بھی کرتی ہیں۔ شاعر محمد مسعود نے اپنے درد کو لفظوں میں چھپایا ہے لیکن ہر شعر میں اس کا ٹوٹا ہوا وجود جھلکتا ہے۔ معاشرے کی خوشی کے دعووں کے باوجود اس کے دل میں طوفان برپا رہ...

قیدِ تنہائی کیسی ہوتی ہے؟

تصویر
قیدِ تنہائی کیسی ہوتی ہے؟ تحریر: محمد مسعود نوٹنگھم یو کے    قیدِ تنہائی صرف چار دیواری میں بند ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے اندر پھیل جانے والی ایک ایسی خاموشی ہے جو آہستہ آہستہ روح تک کو چھو لیتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان لوگوں کے ہجوم میں بھی خود کو اکیلا محسوس کرنے لگتا ہے۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق ہوتا ہے، مگر دل کے اندر ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے جسے کوئی آواز، کوئی ہنسی اور کوئی مصروفیت بھی پُر نہیں کر پاتی۔ قیدِ تنہائی کی اصل اذیت یہی ہے کہ انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ دل میں سینکڑوں باتیں جمع ہو جاتی ہیں، یادیں، پچھتاوے اور ادھورے خواب… مگر وہ سب خاموشی کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتے ہیں۔ انسان کبھی ماضی میں کھو جاتا ہے اور کبھی مستقبل کی بے یقینی اسے خوفزدہ کر دیتی ہے۔ ایسے میں وقت بھی عجیب سا لگنے لگتا ہے؛ لمحے صدیوں کی طرح گزرنے لگتے ہیں۔ جب انسان قیدِ تنہائی میں ہوتا ہے تو سب سے زیادہ اسے اپنی یادیں ستاتی ہیں۔ وہ چہرے جو کبھی زندگی کا حصہ تھے، وہ لمحے جو کبھی خوشیوں سے بھرپور تھے، اچانک آنکھوں کے سامنے آ ...

تیری خوشبو کے موسم

تصویر
تیری خوشبو کے موسم چاندنی رات تھی، تُو بھی قریب آیا تھا دل نے پہلی ہی نظر میں تجھے اپنایا تھا تیری آنکھوں میں عجب سا کوئی جادو دیکھا میں نے ہر خواب کو پلکوں پہ سجایا تھا تیری باتوں کی مہک آج بھی سانسوں میں ہے جیسے گلشن میں کوئی پھول کھلایا تھا تیرے لمس کی حرارت ابھی باقی ہے مجھ میں جیسے برفوں کو کسی نے بھی پگھلایا تھا تو جو ہنستا ہے تو لگتا ہے بہار آتی ہے تو جو روٹھے تو زمانہ بھی خفا پایا تھا رات تنہائی میں جب تیرا خیال آتا ہے میں نے خود کو تیری بانہوں میں سمایا تھا عشق میں ڈوب کے جینا ہی مزہ دیتا ہے یہ سبق تُو نے ہی "مسعودؔ" کو سکھایا تھا یہ غزل محبت کے ایک لطیف اور خوشبودار احساس کی عکاسی کرتی ہے جس میں شاعر محمد مسعود اپنے محبوب کے ساتھ گزارے گئے حسین لمحات کو یاد کرتا ہے۔ چاندنی رات میں پہلی ملاقات کا منظر دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتا ہے اور پہلی نظر کی چاہت عمر بھر کا رشتہ بن جاتی ہے۔ محبوب کی آنکھوں کا جادو، باتوں کی مہک اور لمس کی حرارت شاعر محمد مسعود کے وجود میں آج بھی زندہ ہیں۔ وہ محبوب کی مسکراہٹ کو بہار سے تشبیہ دیتا ہے اور اس کی ناراضی کو پورے زمان...

خاموش محبت کی عبادت

تصویر
دل نے تیری یاد کو عبادت بنا لیا خاموش محبتوں کو روایت بنا لیا آنکھوں نے تیرے خواب سنبھالے ہیں اس طرح جیسے کسی نے درد کو دولت بنا لیا تو پاس تھا تو سانس بھی مہکی ہوئی لگی تو دور کیا ہوا، تو قیامت بنا لیا ہم نے تیری ہنسی کو دعا کی طرح پڑھا لفظوں نے تیرے نام کو آیت بنا لیا اک لمسِ مہرباں نے بدل دی ہے کائنات ہم نے اسی خیال کو جنت بنا لیا کچھ بھی نہ مانگا تیرے سوا کبھی بس ایک تیری چاہت کو قسمت بنا لیا خاموش محبت کی عبادت یہ شاعری محبت کے اس پاکیزہ درجے کو بیان کرتی ہے جہاں محبوب کی یاد محض ایک احساس نہیں بلکہ عبادت کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) نے اپنی خاموش محبت کو ایک ایسی روایت میں ڈھال لیا ہے جو دنیا کے شور سے بے نیاز ہے۔ محبوب کے خوابوں کو آنکھوں میں اس طرح چھپا کر رکھا گیا ہے جیسے کوئی قیمتی خزانہ ہو، یہاں تک کہ محبت میں ملنے والا دکھ بھی شاعر مسعود کے لیے ایک سرمایہ بن گیا ہے۔ محبوب کی موجودگی زندگی میں خوشبو اور سکون کا باعث تھی، جبکہ اس کی دوری ایک قیامت سے کم نہیں۔ شاعر ( محمد مسعود ) نے محبوب کی ہنسی کو دعا اور اس کے نام کو آیت کی طرح مقدس مانا ہے، جو...

کرب نہاں

تصویر
یہ مجھ کو کیوں ہے اس دنیا پہ اتنا یقیں  جو میرا حال ہے سب کو، وہ معلوم نہیں  ہمیں تو خود بھی معلوم ہے، ہم تھے ہی کہیں وہ منزل تھی، وہ رستہ تھا، وہ ساری زمیں  وہ مجھ سے کہہ رہا تھا، مجھ کو جانا ہے وہیں  یہ خوابوں کی ہے دنیا یا حقیقت ہے کہیں،  جو مسعود نے یہ سوچا ہے، یہ تو سچ ہے  کہ ایسا کوئی بھی چہرہ جہاں میں نہیں تمہیں کیا علم ہے، یہ زندگی کیسی ہے میری  جو زخم ہے ظاہری تو ہے مخفی بھی کہیں اگرچہ ہجر میں ہے گزری یہ ساری عمر  مگر اس رنج و غم کی کوئی حد نہیں،  کربِ نہاں یہ غزل شاعر ( محمد مسعود ) کی حیرت، تذبذب، اور اندرونی کرب کو بیان کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) دنیا کی صداقت پر اپنے پختہ یقین پر حیران ہے، جبکہ اس کے اندرونی غم اور حالتِ زار سے دنیا بے خبر ہے۔ یہ کیفیت ایک داخلی کشمکش کو ظاہر کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) ایک ماضی کی منزل، راستے، اور زمین کا ذکر کرتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی کھوئی ہوئی حقیقت یا یاد کو تسلیم کرتا ہے جو اب اس کے پاس نہیں ہے۔ یہ اشارے کسی گمشدہ منزل یا آرزو کی طرف ہیں۔ غزل میں ایک محبوب یا کسی د...

یک طرفہ محبت

تصویر
​کہو یہ دل سے کہ اب عشق کا گماں نہ کرے جو راہ اس کی نہیں ہے، اُدھر کو رَواں نہ کرے ​یہ وصل و ہجر کی قصّے کتاب میں ہی سہی اس ایک شخص کو اب زندگی بیاں نہ کرے ​جہاں قبول کی صورت نہ ہو نصیبوں میں وہاں یہ درد بھلا کب تلک فغاں نہ کرے؟ ​یہ ایک طرفہ سفر ہے، جو تمام ہونا نہیں، تو اے دلِ ناداں! کسی کی یہاں پَرواہ نہ کرے! ​اٹھو مسعود کہ یہ دنیا بہت ہزار رنگیں ہے یہ روشنی ہے فقط اس کو اپنی جاں نہ کرے یک طرفہ محبت یہ غزل یک طرفہ محبت کے درد کو پہچان کر دل کو سمجھانے اور خود کو سنبھالنے کا پیغام دیتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اپنے دل کو مخاطب کر کے کہہ رہا ہے کہ اسے چاہیے کہ وہ ایسے عشق کے وہم میں نہ پڑے جس کی کوئی حقیقت نہیں، اور ایسی راہ پر چلنا چھوڑ دے جو اس کی منزل نہیں۔ غزل میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ محبوب سے ملاقات وصل یا جدائی ہجر کی باتیں صرف کتابوں میں ہی اچھی لگتی ہیں، اور اب اس ایک شخص کو اپنی پوری زندگی کا محور بنانا چھوڑ دینا چاہیے۔ جہاں تقدیر میں محبت کا قبول ہونا لکھا ہی نہ ہو، وہاں یہ درد کب تک آہ و فریاد فغاں کرتا رہے گا؟ شاعر دلِ ناداں کو نصیحت کرتا ہے کہ چونکہ یہ محبت ایک یک طرف...

خوبصورت الفاظ

تصویر
ہمیں کوئی خوبصورت لفظ کہا جائے تو ہم بیس سال چھوٹے ہو جاتے ہیں اور جب کوئی تکلیف دہ بات کہی جائے تو ہم ہزار سال کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔   غلط ہیں وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ باتیں بس یونہی کہی اور سنی جاتی ہیں۔حقیقت میں دلوں کو زندہ رکھنے والی چیزیں خوبصورت باتیں ہیں،   مہربان الفاظ، نرمی اور محبت، شکر گزاری کا اظہار اور اچانک کی گئی تعریفیں۔انسان ا تنی نازک مخلوق ہے،  ایک مہربان بات اسے آسمان کی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے اور ایک تکلیف دہ بات اسے زمین پر گرا دیتی ھے کسی کا دن خراب کر کے اپنا دن اچھا کرنے کی کوشش نہ کریں کسی سے ایسا سوال نہ کریں جس سے وہ ڈسٹرب ہو جائے ۔پرسنل زندگی کو کریدنے اور معلومات لینے کی کوشش نہ کریں۔ خوش رہیں خوشیاں بانٹیں۔

ہم تنہا لوگ

کبھی کبھی ہم اتنے تنہا ہو جاتے ہیں کہ ہمارے پاس دکھ بانٹنے کے لیے اپنی ذات تک موجود نہیں ہوتی  انسان زندگی میں کچھ درد اپنی آنکھوں میں اور  کچھ درد اپنی مُسکراہٹ میں چُھپا لیتا ہے اور  کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو دل کے مکین بنتے ہیں۔  وہ هلكی هلكی تکلیف دیتے ہیں ، جو چاہتے نہ چاہتے برداشت ہو جاتی ہے ، کرنی پڑتی ہے ۔  اگر ان پر مرہم نہ رکھا جائے تو وقت کے ساتھ ، یہ درد تہہ تر تہہ دل پر  گہرے ، ان دیکھے زخم بناتے ہیں ، جن سے خون رستا ہے ، جو خشک نہیں ہوتا ، رستا ہی رہتا ہے 🙃 کچھ وقت کے لیے اس پر کُھرنڈ کی ایک تهہ آ بھی جائے پھر بھی ، تکلیف کا احساس بےکل رکھتا ہی ہے ۔  یہ ہم سب کا دل ہے جو ٹکڑے ٹکڑے ہے،  جس کی کرچیاں ہمارے ہی وجود میں پیوست ہیں ۔  لیکن دنیا میں کوئی زخم ایسا نہیں جس کا مرہم موجود نہ ہو۔  اس کا بھی مرہم موجود ہے۔ اس دل کو ایسا نہ رہنے دیں، اس پر توجہ دیں، اس کے مرہم کا انتظام کریں۔  اور اس کا پہلا اور بہترین مرہم یہ ہے کہ اسے "دعا" کے حوالے کر دیں۔ اسے دعا کی امان میں دے دیں۔ اسے اس رب کے پاس لے جائیں جس نے سینے میں ایک د...

رنج، غصہ، گلہ، تھا، میرا تھا

رنج، غصہ، گلہ، تھا، میرا تھا جو بھی اس شخص کا تھا، میرا تھا بے وفا، بد دماغ، ہر جائی کیا نہ تھا اور کیا تھا میرا تھا تجھ کو کیا لینا دینا ہے واعظ وہ صنم تھا خدا تھا میرا تھا اس کا تھا جو لٹا دیا اس نے اس میں جو کچھ بچا تھا میرا تھا کاش وہ اپنی جان چھڑا لیتا میرا جو مسلہ تھا میرا تھا کیوں کرے کوئی طنز مجھ پر وہ برا تھا بھلا تھا میرا تھا

مجبور ‏نہ ‏کر ‏

تصویر
مُجھے مجبور نہ کر اے دِل! کہ رو پڑوں میں میرے اشکوں کہ بہنے سے اُسے تکلیف ہوتی ہے  اک راز ہے وہ ، دِل میں رہے اگر  تو اچھا  ہو  گا میرے ہر آنسو میں کیونکہ، اُسی کی تحریر ہوتی ہے محمد مسعود میڈوز نوٹنگھم یو کے موبائل نمبر 00447971835287  

آخری مسکراہٹ

تصویر
میرا دل کرتا ہے میں شدید بیمار ہو جاؤں  اُسے پتا لگے   وہ مجھے دیکھنے آئے  وہ روئے  میری منتیں کرے  لیکن میرے لبوں پہ بس آخری مسکراہٹ ہو 🍁 محمد مسعود میڈوز نوٹنگھم یو کے 📞 00447971835287  

یا اللہ

تصویر

میرا درد

تصویر

میری شاعری

تصویر