اشاعتیں

اردو شاعری لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تمہاری یاد کا موسم

تصویر
تمہاری یاد کا موسم   تمہاری یاد کا موسم، مہک کر رہ گیا دل میں   کوئی خوشبو کا جھونکا تھا، ٹھہر کر رہ گیا دل میں   چراغِ آرزو جلتا رہا تنہائی کی شب میں   تمہارا عکس تھا جو رات بھر، جل کر رہ گیا دل میں   محبت کا قرینہ بھی عجب سادہ تھا ہم دونوں کا   نہ شکوہ لب پہ آیا، نہ گلہ کر رہ گیا دل میں   ہر اک موجِ ہوا نے نام تیرا گنگنایا ہے   صدا تیری ہی گونجی، ہر پہر کر رہ گیا دل میں   میں مسعودؔ اب کس سے کہوں، قصہ ادھورا ہے   وہ حرفِ آخری جو ان کہہ کر رہ گیا دل میں   یہ نظم محبت، یاد اور جدائی کے جذبات کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود کے مطابق محبوب کی یاد ایک ایسے موسم کی طرح ہے جو دل میں ہمیشہ کے لیے بسی ہوئی ہے اور اس کی خوشبو وقت گزرنے کے باوجود مدھم نہیں ہوتی۔ تنہائی کی راتوں میں آرزو کا چراغ جلتا رہتا ہے اور محبوب کا عکس دل کے اندر موجود رہ کر زندگی کو روشن بھی کرتا ہے اور اداس بھی۔ محبت کا انداز سادہ اور خاموش ہے، جس میں نہ کوئی شکوہ ہے نہ کوئی شکایت، ص...

خاموش راز

تصویر
کسی کو کیا خبر ہے دل پہ کیا گزری ہوئی ہے میں ہنستا ہوں مگر آنکھوں میں ایک نمی چھپی ہوئی ہے میرے اور میرے رب کے سوا کون جانے حالِ دل یہ کیسی آگ ہے جو روح میں جلی ہوئی ہے اپنوں کی محفلوں میں بھی تنہا کھڑا ہوں میں میرے نصیب میں شاید یہ خاموشی لکھی ہوئی ہے لبوں پہ ذکرِ شکر ہے، دل میں طوفان بے کنار یہ زندگی بھی کیسی آزمائش بنی ہوئی ہے ہر ایک چہرہ ملا، پر سکونِ دل نہ مل سکا ہر ایک خوشی بھی جیسے ادھوری رچی ہوئی ہے مسعودؔ اپنے درد کو اشعار میں ڈھال دے یہی دوا ہے جو تجھے رب نے عطا کی ہوئی ہے                         شاعر محمد مسعود نوٹنگھم یو کے  یہ غزل انسان کے باطنی احساسات، تنہائی اور دل کے پوشیدہ دکھوں کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود بیان کرتا ہے کہ اس کی زندگی میں جو کچھ گزر رہا ہے، اس سے کوئی واقف نہیں، یہاں تک کہ اس کے اپنے بھی اس کے حالِ دل سے بے خبر ہیں۔ وہ ظاہری طور پر خوش اور مطمئن دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے اندر دکھ، اداسی اور بے سکونی چھپی ہوئی ہے۔ شاعر محمد مسعود اپنے رب کو ہی وہ ہستی مانتا ہے جو اس کے دل ...

لفظوں کے درمیان ہم

تصویر
لفظوں کے درمیان ہم مرد نے جب بھی قلم اٹھائی، عورت کو اس نے خوابوں کی روشنی لکھا، اپنی کمی کو اس کی مسکراہٹ میں چھپایا، اور خود کو مکمل سمجھ لیا۔ عورت نے جب بھی قلم اٹھائی، مرد کو اس نے وقت کا فریب لکھا، وعدوں کی بھیڑ میں تنہا، اور سچ سے ذرا دور پایا۔ مگر لفظوں کے درمیان کہیں ایک خاموش سچ بھی سانس لیتا رہا، کہ دونوں ہی تھکے تھے، دونوں ہی ٹوٹے تھے۔ مسعود کہتا ہے، قصے ہمیشہ الزام سے شروع ہوتے ہیں، اور سمجھ سے ختم، جہاں محبت کو جیتنے کے لیے خود کو ہارنا پڑتا ہے۔ یہ نظم مرد اور عورت کے باہمی تصورات اور دکھوں کو نہایت نرم مگر گہرے انداز میں بیان کرتی ہے۔ مرد جب عورت کے بارے میں لکھتا ہے تو اسے خوابوں کی روشنی اور اپنی کمیوں کا مداوا سمجھتا ہے، یوں وہ خود کو مکمل محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس عورت جب مرد پر قلم اٹھاتی ہے تو اسے وقت کا فریب، وعدوں میں گھرا ہوا مگر سچ سے دور پاتی ہے، کیونکہ اس کے تجربات میں تنہائی اور ٹوٹے ہوئے وعدے نمایاں ہیں۔ نظم یہ واضح کرتی ہے کہ دونوں کے الفاظ اپنے اپنے دکھ کی سچائی رکھتے ہیں، مگر حقیقت صرف ایک رخ سے مکمل نہیں ہوتی۔ لفظوں کے درمیان ایک خاموش ...

دل کے زخموں کی گہرائی

تصویر
وہ گئے ہیں تو موسم بھی اب بے کیف سا لگتا ہے مجھے شام کو۔ تیری دوری کی آفت بڑی سنگین ہے کیسے لکھوں اس کڑے انجام کو۔ عمر بھر کی مسافت میں ایک پل سکون نہ ملا ڈھونڈتا رہا صبح و شام کو۔ دل کے زخموں کی گہرائی کو کون ماپے گا کون دے گا میرے علاج کو۔ شہر خاموش تھا، جُگنو بھی نہیں تھے چاند نے تنہا کیا اس مقام کو۔ اب یہ خواہش ہے کہ دنیا سے کنارہ کر لوں، تھام لوں اپنے نئے کام کو۔ وقت آئے گا جب دل کی دُعا قبول ہوگی پھر بدلیں گے بُرے انجام کو۔ دیکھنے میں مگر کیا برائی ہے جی بھر کے تھامو اس پیغام کو۔ ہاتھ پھیلا کے مانگی تھی میں نے یہ روشنی چھوڑ دو اب پرانے الزام کو۔ بس یہی اک تمنا ہے، میں اور تُو ہوں پھر بھول جائیں اس سارے نظام کو۔ دل کے زخموں کی گہرائی یہ غزل کا بنیادی موضوع ہجر اور جدائی کے شدید دکھ کو بیان کرنا ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اپنی محبوبہ کے جانے کے بعد محسوس ہونے والی بے کیفی اور شام کے اداس موسم کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ محبوب کی دوری ایک سنگین آفت ہے جس کا انجام بہت کڑا ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) نے زندگی کو ایک طویل مسافت قرار دیا ہے جہاں اسے کبھی ایک پل کا بھی سکون میسر نہی...

خوابوں کی تعبیر

  وہ خواب جو کسی کونے میں دل نے پال رکھا تھا، حقیقت بن کے آئے گا، ہمارا یہ عہد آج سچا ہے۔ صرف آنکھوں میں سجانا ہی نہیں کافی ہے خوابوں کو، انہیں تعمیر کرنے کا بھی ہمارا اب ایک عزم پکّا ہے۔ جو مشکل راہ میں آئی، اسے ہم پار کر لیں گے، ہمارے ہاتھ میں اب تو یقین کا ایک  پکا تِکا ہے۔ نہ گھبراؤ کسی ناکامی سے، یہ زندگی کا کھیل ہے، ہر ایک ٹھوکر سے ہی منزل کا رستہ صاف لِکھا ہے۔ کرو محنت، نہ ہارو حوصلہ اب دوست میرے مسعود، کہ اب تعبیر کا موسم ہے،  دیکھو ستارہ چمک اٹھا ہے۔ خوابوں کی تعبیر یہ غزل خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے پختہ عزم، جدوجہد اور امید کا درس دیتی ہے۔ شاعر  ( محمد مسعود ) کہتا ہے کہ وہ خواب جو دل میں پال رکھے تھے، انہیں اب سچائی میں بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ محض آنکھوں میں خوبصورت منظر سجانے کا وقت نہیں ہے، بلکہ ان خوابوں کی عملی تعمیر کے لیے عزم کو مضبوط کرنے کا وقت ہے۔ غزل کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ راستے میں آنے والی تمام مشکلات اور ناکامیوں سے گھبرانا نہیں چاہیے، کیونکہ یہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ ہر ٹھوکر اور ناکامی دراصل ہمیں ہماری منزل کے قریب لاتی ہے اور راستہ ص...