اشاعتیں

میرا میرپور 1990 سے 2026 تک

تصویر
میرا میرپور 1990 سے 2026 تک کبھی کبھی انسان ہزاروں میل دور بیٹھا ہوتا ہے، مگر اس کا دل آج بھی اپنے گاؤں کی کسی گلی، کسی درخت، کسی بازار یا کسی پرانی یاد میں اٹکا رہتا ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ چھتیس سال پہلے، 1990 میں، جب میں نے میرپور، آزاد کشمیر کی سرزمین چھوڑی، تو میرے قدم ضرور برطانیہ کی طرف بڑھ گئے تھے، مگر میرا دل وہیں رہ گیا تھا۔ میں بھی ان ہزاروں نوجوانوں میں شامل تھا جنہوں نے بہتر مستقبل، روزگار اور اپنے خاندان کی خوشحالی کے خواب آنکھوں میں سجائے پردیس کا رخ کیا تھا۔ اس وقت دل میں صرف ایک ہی امید تھی کہ جب برسوں بعد اپنے شہر کی طرف دیکھوں گا تو میرپور ترقی کی نئی منزلیں طے کر چکا ہو گا۔ سوچتا تھا کہ ہمارے بزرگوں کی منگلا ڈیم کی قربانیوں کا صلہ اس شہر کو ضرور ملے گا، اوورسیز کشمیریوں کی محنت اور محبت سے یہ شہر خوشحالی کی مثال بن جائے گا، اور ہماری آنے والی نسلیں ایک روشن مستقبل میں سانس لیں گی۔ لیکن..۔۔۔۔ آج 2026 میں، جب چھتیس سال بعد میں اپنے میرپور کو دیکھتا ہوں، تو دل پر ایک ایسا بوجھ اتر آتا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ یہ صرف ایک شہر کی کہانی نہیں، بلکہ ا...

پرانی یادوں کی خوشبو

تصویر
پرانی یادوں کی خوشبو وہ پرانے دن وہ باتیں وہ زمانہ یاد ہے دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر، دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے اس غزل کا مرکزی خیال یادوں کی طاقت اور ان کی نہ مٹنے والی خوشبو ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ بظاہر وقت بہت آگے نکل گیا ہے، گلیاں بدل گئیں، چہرے بچھڑ گئے، مگر دل آج بھی اسی پرانے زمانے میں اٹکا ہوا ہے۔ وقت کی آندھی باہر کی دنیا کے سارے نقش تو مٹا سکتی ہے، لیکن دل کی دیوار پر بنا ہوا محبوب کا ٹھکانہ نہیں مٹا سکتی۔ انسان خود کو یہ دلاسہ دیتا ہے کہ وہ بھول جائے گا، مگر زندگی کے ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی بہانہ اسے پھر اسی یاد میں لے...

یاد آتے ہیں

تصویر
یاد آتے ہیں رات ڈھلتے ہی وہ لمحے بے حساب یاد آتے ہیں چاندنی میں تیرے چہرے کے نقاب یاد آتے ہیں دل کی ویرانی میں جب بھی کوئی دیا جلتا ہے شہرِ غم میں تیرے کوچے بے حساب یاد آتے ہیں بھولنے کی کوششیں کر کے بھی دیکھا ہے بہت اور بھی شدت سے لیکن وہ عذاب یاد آتے ہیں جب ہواؤں میں تری زلفوں کی خوشبو گھل گئی پھر مہکتے وہی سارے گلاب یاد آتے ہیں وقت نے چھین لیے ہم سے جو موسم ہنسی کے آج تنہائی میں وہ سب شاداب یاد آتے ہیں چپ کے صحرا میں صدا دیتا ہے کوئی روز و شب مسعودؔ اب تو ہمیں اپنے ہی خواب یاد آتے ہیں یہ غزل جدائی، یادوں، محبت اور تنہائی کے گہرے احساسات کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر اپنے محبوب کی یادوں میں اس قدر کھویا ہوا ہے کہ رات کی خاموشی، چاندنی، خوشبو، ہوائیں اور ماضی کے حسین موسم سب اسے محبوب کی یاد دلاتے ہیں۔ وہ محبوب کو بھلانے کی بہت کوشش کرتا ہے، مگر وقت گزرنے کے باوجود اس کی یادیں پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ دل پر دستک دیتی ہیں۔ محبوب کی زلفوں کی خوشبو، چہرے کا حسن اور گزرے ہوئے خوشگوار لمحے شاعر کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ وقت اگرچہ خوشیوں کے موسم چھین لیتا ہے، لیکن ان کی یادیں دل ...

تنہائی کا جال

تصویر
تنہائی کا جال نہ جانے کتنے گھر بسائے اپنا گھر بسا نہ سکی سب کی مانگ سجا دی لیکن اپنی مانگ سجا نہ سکی ہر آنگن میں گونج اٹھیں خوشیوں کی پیاری شہنائیاں اپنی ویران کوٹھری میں تنہائی سے جدا نہ سکی جوڑے کتنے ملوا ڈالے کتنی دعائیں ساتھ ملیں اپنی قسمت کے زخموں پر لیکن مرہم لگا نہ سکی مہندی کی خوشبو بانٹتی رہی ہر دل میں امید جگاتی رہی اپنے ہاتھوں کی قسمت میں کوئی رنگ رچا نہ سکی ہر بابل کے آنگن میں اس نے پھول محبت کے بوئے اپنے صحن کی سوکھی مٹی میں کوئی گل کھلا نہ سکی کہتی تھی اک روز سسک کر بیٹا! اتنا بتلا دے سب کے بگڑے کام سنوارے اپنی قسمت بنا نہ سکی رشتوں کی دلال کہلائی دنیا بھر کی خوشیاں بانٹیں اپنے دل کی ویرانی کو لیکن کبھی چھپا نہ سکی کیسا انصاف ہے مولا تیرا یہ کیسی تقدیر لکھی سب کے دیپ جلانے والی اپنا دیپ جلا نہ سکی مسعودؔ اس کی آنکھوں میں صدیوں کا اک صحرا تھا سب کو ہنستا دیکھ لیا خود ہنس کر دکھ بھلا نہ سکی یہ غزل ایک ایسی عورت کی دردناک زندگی کی عکاسی کرتی ہے جو عمر بھر دوسروں کے رشتے جوڑتی رہی، گھر آباد کرتی اور خوشیاں بانٹتی رہی، مگر خود محبت، ازدواجی سکون اور اپنے گھر کی نعم...

فادرز ڈے

تصویر
فادرز ڈے  ایک دن کی محبت یا عمر بھر کا سایہ؟   تحریر: محمد مسعود، نوٹنگھم، برطانیہ فادرز ڈے کیا ہے؟ یہ مغربی دنیا سے شروع ہونے والی ایک رسم ہے جس میں ہر سال جون کے تیسرے اتوار کو باپ سے محبت اور شکر گزاری کے اظہار کے لیے منایا جاتا ہے۔ 2026 میں یہ دن آج بروز اتوار 21 جون کو منایا جا رہا ہے۔ اس دن اولاد اپنے والد کو تحفے دیتی ہے، کارڈ لکھتی ہے، سوشل میڈیا پر ان کے ساتھ تصویریں لگاتی ہے اور ان کی قربانیوں کو یاد کرتی ہے۔ اس دن کا مقصد بظاہر بہت خوبصورت ہے کہ ہم اس ہستی کو یاد کریں جس نے اپنی جوانی، اپنی خواہشات اور اپنی نیندیں ہماری پرورش پر قربان کر دیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا باپ سے محبت کے اظہار کے لیے سال میں ایک دن کافی ہے؟ کیا وہ رشتہ جسے ہمارے دین نے جنت کا دروازہ قرار دیا، اسے ہم صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ تک محدود کر دیں؟  ہمارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "باپ جنت کے دروازوں میں سے بیچ کا دروازہ ہے، اب تمہاری مرضی ہے اسے ضائع کر دو یا اس کی حفاظت کرو"۔ ایک اور حدیث میں فرمایا: "اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے"۔ قرآن...

پردہ داری

تصویر
پردہ داری پردے میں پورا رہنا ہے ہمت کر کے چلنا ہے سر پر خوشی کا بوجھ لیے پھر بھی دل افسردہ ہے ہنستے ہوئے سب سے ملنا ہے درد کو دل میں رکھنا ہے محفل میں قہقہے بانٹیں ہیں رات کو آنسو پینا ہے پاؤں میں چھپے چھالے ہیں راہ کی کڑواہٹ سہنا ہے اپنے ہی کانٹوں سے الجھ کر اندر ہی اندر جلنا ہے دنیا کو دھوکا دینا ہے خود کو بھی بہلانا ہے آئینہ بھی حیران ہوا جھوٹی تصویر گھڑنا ہے زخموں کو مرہم دیتے ہیں مرہم سے زخم بڑھتا ہے مسعودؔ یہی دستور ہوا تنہائی میں سہتے رہنا ہے یہ غزل انسانی زندگی کے اس پہلو کی عکاسی کرتی ہے جہاں انسان اپنے دکھ، تکلیفوں اور اندرونی شکستگی کو دنیا کی نظروں سے چھپا کر جینے پر مجبور ہوتا ہے۔ محمد مسعود بیان کرتا ہے کہ بظاہر خوش اور مطمئن دکھائی دینے والا شخص اپنے دل میں بے شمار غم اور درد سموئے ہوتا ہے۔ وہ لوگوں سے مسکرا کر ملتا ہے، محفلوں میں خوشی بانٹتا ہے، لیکن تنہائی میں آنسوؤں کا ساتھ نبھاتا ہے۔ زندگی کی دشوار راہوں میں اسے کئی زخم اور اذیتیں ملتی ہیں، مگر وہ خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتا رہتا ہے۔ محمد مسعود اس تلخ حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ انسان کبھی کبھی دنیا کے...

تیرے بعد

تصویر
تیرے بعد ہم نے اپنوں کو بھی اپنا نہ کہا تیرے بعد دل کا دروازہ کسی پر نہ کھلا تیرے بعد چاند نکلا تو بہت دیر تلک تکتے رہے پھر یہ محسوس ہوا، چاند نہ تھا تیرے بعد بزم میں بیٹھے رہے شام سے پھر صبح تلک پر کوئی بات بھی دل کو نہ لگی تیرے بعد خوشبوئیں رستے میں ٹھہریں نہ نظارے ٹھہرے ہم نے منظر کو بھی مڑ کر نہ دیکھا تیرے بعد مسکراہٹ تو لبوں پر کئی بار آئی مگر وہ جو بےساختہ تھی، وہ نہ رہی تیرے بعد شہر سارا بھی اگر ہاتھ ملانے آ جائے مسعودؔ ہاتھ میں تنہائی رہی تیرے بعد تیرے بعد ہجر اور تنہائی کی کیفیت کو بیان کرنے والی غزل ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ محبوب کے جانے کے بعد اُس نے اپنوں کو بھی اپنا سمجھنا چھوڑ دیا۔ دل کا دروازہ ہر ایک پر بند ہو گیا۔ چاند نکلے تو دیکھتا رہا، مگر روشنی کا احساس نہ ہوا کیونکہ اصل اجالا وہی شخص تھا جو اب نہیں۔ محفلوں میں شریک تو ہوا مگر کوئی بات دل کو نہ چھو سکی۔ راستے کی خوشبوئیں اور منظر سب بے معنی ہو گئے۔ لبوں پر ہنسی کبھی آئی بھی تو وہ بے ساختہ خوشی جو پہلے تھی، وہ لوٹ کر نہ آئی۔  آخری شعر میں محمد مسعودؔ کہتا ہے کہ اب اگر سارا شہر بھی ہاتھ ملانے آ جائے، ...