پرانی یادوں کی خوشبو
پرانی یادوں کی خوشبو وہ پرانے دن وہ باتیں وہ زمانہ یاد ہے دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر، دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے اس غزل کا مرکزی خیال یادوں کی طاقت اور ان کی نہ مٹنے والی خوشبو ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ بظاہر وقت بہت آگے نکل گیا ہے، گلیاں بدل گئیں، چہرے بچھڑ گئے، مگر دل آج بھی اسی پرانے زمانے میں اٹکا ہوا ہے۔ وقت کی آندھی باہر کی دنیا کے سارے نقش تو مٹا سکتی ہے، لیکن دل کی دیوار پر بنا ہوا محبوب کا ٹھکانہ نہیں مٹا سکتی۔ انسان خود کو یہ دلاسہ دیتا ہے کہ وہ بھول جائے گا، مگر زندگی کے ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی بہانہ اسے پھر اسی یاد میں لے...