گزرے ہوئے وقت کی بازگشت
گزرے ہوئے وقت کی بازگشت گزرے ہوئے وقتوں کا سماں یاد آتا ہے بچھڑے ہوؤں کا وہ جہاں یاد آتا ہے وہ چاندنی راتیں، وہ ہنسی، وہ فسانے وہ لمسِ ہوا کا نشاں یاد آتا ہے کتابِ دل پہ نقش ہیں وہ لمحے سارے ہر اک ورق پہ اک داستاں یاد آتا ہے نہ پوچھو کیسے کٹ رہے ہیں دن جدائی کے تمہارے ساتھ گزرا ہر سماں یاد آتا ہے وہ گلیاں، وہ رستے، وہ قدموں کی آہٹ وہ بچپن کا سارا جہاں یاد آتا ہے چلے گئے تو وقت بھی ٹھہر سا گیا ہے مگر دل کو وہی کارواں یاد آتا ہے کہیں تنہا بیٹھے جو مسعودؔ سوچے تو گزرا ہوا وقت وہیں لوٹ آتا ہے اس غزل کا مرکزی خیال یہ ہے کہ گزرا ہوا وقت صرف وقت نہیں ہوتا، اس کے ساتھ جڑی یادیں، بچھڑے ہوئے لوگ اور حسین لمحے دل میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ انسان آگے بڑھ جاتا ہے مگر اس کا دل اکثر ماضی کی انہی یادوں میں بھٹکتا رہتا ہے۔