دینے والی ذات تو صرف رب کی ہے
دینے والی ذات تو صرف رب کی ہے سندھ سے کشمیر تک عقیدت کے نام پر غلامی کی داستان تحریر: محمد مسعود نونٹگھم برطانیہ یہ صرف سندھ کی کہانی نہیں، یہ میرے پورے پاکستان کی کہانی ہے، میرے دل کی کہانی ہے۔ یہ سندھ کے کسی ویران گوٹھ میں بیٹھی ہوئی اس ماں کی بھی کہانی ہے جس کے پاؤں میں دو پٹیوں والی سستی چپل تک نہیں، اور یہ لاہور کی بادشاہی مسجد کے سامنے بیٹھے اس پڑھے لکھے نوجوان کی بھی کہانی ہے جو ڈگری ہاتھ میں لے کر بھی ایک جعلی پیر کے سامنے جھکا ہوا ہے۔ یہ فیصل آباد کے اس مل مالک کی بھی کہانی ہے جو اپنی فیکٹری کا بونس پیر کو دے آتا ہے، اور یہ ملتان، ساہیوال، بہاولپور کے ان سادہ لوح کسانوں کی بھی کہانی ہے جو اپنی فصل کا پہلا حصہ گدی نشین کی نذر کر دیتے ہیں۔ یہ کوئٹہ، خضدار اور تربت کے ان بلوچ بھائیوں کی بھی کہانی ہے جو سردار اور پیر کے ایک ہی روپ سے ڈرے ہوئے ہیں، یہ پشاور اور سوات کے ان پختونوں کی بھی کہانی ہے جو تعویذ کو دوا سے زیادہ سچا سمجھتے ہیں، اور یہ میرے آزاد کشمیر کے مظفرآباد اور میرپور کے ان غیور لوگوں کی بھی کہانی ہے جو آج بھی درباروں پر جا کر اپنی قسمت کے فیصلے لوہے کی جالیوں سے ...