اشاعتیں

ٹھیک سے بچھڑنا بھی نہیں آتا

تصویر
ٹھیک سے بچھڑنا بھی نہیں آتا خود کو میرے ہی دل میں چھوڑ گئے ہو تمہیں تو ٹھیک سے بچھڑنا بھی نہیں آتا تم گئے تو ہر خوشی بھی ساتھ لے گئے اب اس اُجڑے گھر میں جینا بھی نہیں آتا سنو، ہم نے تو تمہیں بہت ٹوٹ کر چاہا تھا تمہیں تو ٹوٹ کر چاہا جانا بھی نہیں آتا روز رات ڈھلتے ہی تیری یاد بہت آتی ہے اس دلِ ناداں کو سمجھانا بھی نہیں آتا لوگ کہتے ہیں، بھلا دو اُس بے وفا کو پر ہمیں تو تمہیں بھلانا بھی نہیں آتا درد اتنا ہے کہ لفظ بھی کم پڑ گئے مسعودؔ کو اب تو رونا بھی نہیں آتا  Poet Mohammed Masood Nottingham  یہ غزل جدائی، محبت، تنہائی اور یاد کے گہرے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ محمد مسعود ایک ایسے  شخص سے مخاطب ہے جو بظاہر زندگی سے رخصت ہو چکا ہے، مگر اپنی یادیں محمد مسعود کے دل میں چھوڑ گیا ہے۔ اس شخص کے جانے کے بعد زندگی کی خوشیاں بھی جیسے ختم ہو گئی ہیں اور گھر و دل دونوں ویران محسوس ہوتے ہیں۔ محمد مسعود نے شخص کو بے حد شدت اور خلوص سے چاہا، مگر اسے یہ احساس ہے کہ شاید شخص اس محبت کی گہرائی کو کبھی سمجھ نہ سکا۔ رات کی تنہائی میں شخص کی یاد مزید شدت اختیار کرتی ہے اور دل کو سمج...

خاموش درد

تصویر
خاموش درد تحریر: محمد مسعود، نوٹنگھم برطانیہ برطانیہ میں بہت سے لوگ دولت کی کمی سے نہیں، بلکہ تنہائی، جذباتی تھکن اور اپنائیت کی کمی سے لڑ رہے ہیں۔ یہ ایک جملہ نہیں، یہ اس دھرتی پر بسنے والے ہزاروں دلوں کی چیخ ہے جو ہونٹوں تک آتے آتے دم توڑ جاتی ہے۔ یہاں چمکتی ہوئی سڑکیں ہیں، صاف ستھرے گھر ہیں، ہر ضرورت کی چیز میسر ہے، بینک میں پیسہ ہے، گاڑی دروازے پر کھڑی ہے، مگر جب شام ڈھلتی ہے تو گھر کی دیواریں اجنبی لگنے لگتی ہیں۔ کچن میں کھانا پڑا ہے مگر کھانے والا کوئی نہیں، فون میں سینکڑوں نمبر ہیں مگر حال پوچھنے والا کوئی نہیں۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ انسان ہجوم میں بھی تنہا ہے۔ پردیس کا دکھ روٹی کا دکھ نہیں ہوتا، یہ تو دل کے اجڑنے کا دکھ ہوتا ہے۔ ہم اپنے پیاروں کو چھوڑ کر آئے تھے کہ بچوں کا مستقبل بن جائے گا، ماں باپ کو سہولت ملے گی، بہن بھائیوں کا سہارا بنیں گے۔ ہم نے سوچا تھا چند سال کی بات ہے، پھر لوٹ جائیں گے۔ مگر وقت نے ہمیں ایسے جکڑا کہ ہم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔ یہاں کے اپنے اصول ہیں، یہاں کی اپنی دوڑ ہے۔ صبح سے شام تک کام، شام سے رات تک فکر۔ بچے بڑے ہو گئے، ان کی زبان بدل گئی، ان کے خواب...

تم یاد آتے ہو

تصویر
تم یاد آتے ہو  جب چراغوں کو بجھاتا ہوں تم یاد آتے ہو خود سے تنہائی میں ملتا ہوں تم یاد آتے ہو رات خاموش ہو اور چاند اتر آئے تو پھر کھڑکیاں جب بھی کھولتا ہوں تم یاد آتے ہو کوئی خوشبو جو ترے لمس کا دھوکا دے دے سانس لیتا ہوں تو بے ساختہ تم  یاد آتے ہو لوگ کہتے ہیں کہ وقت زخم مٹا دیتا ہے وقت گزرتا ہے تو بہت زیادہ تم یاد آتے ہو ایک تصویر چھپا رکھی ہے دل میں اب تک اس کو اشکوں سے جو پڑھتا ہوں تم یاد آتے ہو کتنی کوشش کی ترے بعد سنبھلنے کی مگر جب بھی ہنستا ہوں تو اندر سے تم یاد آتے ہو کوئی پوچھے کہ محبت کا صلہ کیا پایا نام لیتا نہیں، چپ رہتا ہوں تم یاد آتے ہو مسعود کی آنکھوں میں کہاں نیند رہی رات ڈھلتی ہے تو بے حد تم یاد آتے ہو یہ غزل ایک ایسے شخص کے گہرے احساسات کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے محبوب سے بچھڑ چکا ہے، مگر اس کی یادیں آج بھی اس کی زندگی کے ہر لمحے میں موجود ہیں۔ تنہائی، خاموش رات، چاندنی، کھلی کھڑکیاں اور جانی پہچانی خوشبو اسے بار بار محبوب کی یاد دلاتی ہیں۔ محمد مسعود وقت کے بارے میں اس عام خیال کو رد کرتا ہے کہ وقت ہر زخم کو بھر دیتا ہے، کیونکہ یہاں گزرتا ہوا وقت ج...

تیری یادوں کی خوشبو

تصویر
تیری خوشبو کے موسم چاندنی رات تھی، تُو بھی قریب آیا تھا دل نے پہلی ہی نظر میں تجھے اپنایا تھا تیری آنکھوں میں عجب سا کوئی جادو دیکھا میں نے ہر خواب کو پلکوں پہ سجایا تھا تیری باتوں کی مہک آج بھی سانسوں میں ہے جیسے گلشن میں کوئی پھول کھلایا تھا تیرے لمس کی حرارت ابھی باقی ہے مجھ میں جیسے برفوں کو کسی نے بھی پگھلایا تھا تو جو ہنستا ہے تو لگتا ہے بہار آتی ہے تو جو روٹھے تو زمانہ بھی خفا پایا تھا رات تنہائی میں جب تیرا خیال آتا ہے میں نے خود کو تیری بانہوں میں سمایا تھا عشق میں ڈوب کے جینا ہی مزہ دیتا ہے یہ سبق تُو نے ہی مسعودؔ کو سکھایا تھا یہ غزل محبت کے ایک لطیف اور خوشبودار احساس کی عکاسی کرتی ہے جس میں شاعر محمد مسعود اپنے محبوب کے ساتھ گزارے گئے حسین لمحات کو یاد کرتا ہے۔ چاندنی رات میں پہلی ملاقات کا منظر دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتا ہے اور پہلی نظر کی چاہت عمر بھر کا رشتہ بن جاتی ہے۔ محبوب کی آنکھوں کا جادو، باتوں کی مہک اور لمس کی حرارت شاعر محمد مسعود کے وجود میں آج بھی زندہ ہیں۔ وہ محبوب کی مسکراہٹ کو بہار سے تشبیہ دیتا ہے اور اس کی ناراضی کو پورے زمانے کی اداسی س...

جدائی کا قصور

تصویر
جدائی کا قصور وہ مجھے تنہائی کے سپرد چھوڑ گیا میرے سارے خواب بکھیر کر چھوڑ گیا پہلے کہتا تھا کہ تو ہی میری دنیا ہے پھر وہی دنیا اجاڑ کر چھوڑ گیا ہاتھ تھاما تھا جس نے عمر بھر کے لیے وہ بیچِ راہ میں ہی ہاتھ چھوڑ گیا ہم نے دل میں بسایا تھا اسے خدا کی طرح وہ شخص بت کی طرح دل توڑ کر چھوڑ گیا رات بھر جلتے رہے اس کی یاد کے چراغ وہ صبح ہوتے ہی سبھی بجھا کر چھوڑ گیا لوگ کہتے ہیں محبت میں سکون ملتا ہے وہ مجھے ہجر کا طوفان دے کر چھوڑ گیا اے مسعود! اب کس سے کریں شکوہ اس کا وہ ہمیں زندہ لاش بنا کر چھوڑ گیا یہ غزل ایک ٹوٹے ہوئے دل کی داستان ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ اس کا محبوب اسے تنہائی کے حوالے کر کے اور اس کے سارے خواب بکھیر کر چلا گیا ہے۔ وہ شخص جو کبھی اسے اپنی پوری دنیا کہتا تھا، آج وہی دنیا اجاڑ کر چھوڑ گیا۔ جس نے عمر بھر ساتھ نبھانے کے لیے ہاتھ تھاما تھا، اس نے بیچ راستے میں ہی ساتھ چھوڑ دیا۔ محمد مسعود نے اسے خدا کی طرح دل میں بسایا تھا مگر اس نے بت کی طرح بے رحمی سے دل توڑ دیا۔ محمد مسعود کی راتیں اس کی یاد میں جلتے چراغوں کی طرح گزرتی ہیں جنہیں محبوب صبح ہوتے ہی بجھا دیتا ہے۔...

جانے والے کے نام

تصویر
جانے والے کے نام چلا گیا تو دل کی ہر خوشی بھی لے گیا وہ میرے خواب، میری زندگی بھی لے گیا بہت کہا تھا، دل توڑ کر نہ جانا تم وہ ہنس کے میری لبوں کی ہنسی بھی لے گیا گلی میں آج بھی تیرے قدموں کی صدا ہے ہوا کا جھونکا تیری خوشبو بھی لے گیا چراغ جلتے رہے تیری راہوں میں رات بھر سحر ہوئی تو جیسے روشنی بھی لے گیا وفا کا ذکر کیا تو وہ خفا سا ہو گیا جو بات کی تو میری خامشی بھی لے گیا یہ دل ابھی بھی منتظر ہے، لوٹ آئے شاید وہ جانے والا میری آخری آس بھی لے گیا چلو مسعودؔ، اب صبر کا دامن تھام لو وہ جس کو چاہا تھا، وہی بے بسی بھی دے گیا یہ غزل ایک ٹوٹے ہوئے دل کی فریاد ہے جو اپنے محبوب کے چلے جانے پر لکھی گئی ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ جانے والے کے ساتھ ہی اس کی ساری خوشیاں، خواب اور زندگی بھی چلی گئی ہے۔ اس میں اس لمحے کا درد بیان کیا گیا ہے جب محبوب کو روکا بھی گیا کہ دل نہ توڑو، مگر وہ ہنستے ہوئے چلا گیا اور ہنسی تک چھین لی۔ آج بھی اس کی گلی میں قدموں کی آہٹ محسوس ہوتی ہے اور ہوا کا ہر جھونکا اس کی کمی کا احساس دلاتا ہے۔ محمد مسعود رات بھر اس کی راہوں میں چراغ جلاتا رہا لیکن صبح ہوتے ہی و...