اشاعتیں

بچپن لوٹا دو

تصویر
بچپن لوٹا دو بچپن کا وہ زمانہ کیا خوب تھا نہ کوئی غم تھا نہ کوئی حساب تھا مٹی کے گھروندے بنانا اور توڑنا ہر کھیل میں بس اک خواب تھا ماں کی آغوش میں جنت ملتی تھی باپ کا سایہ آفتاب تھا نہ دولت کی چاہ نہ شہرت کا جنوں دل تو بس دل کا بیتاب تھا اب تو مسعودؔ ہر خوشی مہنگی ہے وہ بچپن ہی سستا اور نایاب تھا اس نظم میں محمد مسعود بچپن کی معصومیت، بے فکری اور سادگی کو یاد کر رہا ہے۔ بچپن وہ دور تھا جب نہ غم تھے، نہ دنیا کی فکر، نہ دولت اور شہرت کی ہوس۔ مٹی کے کھلونوں میں ہی ساری خوشیاں تھیں، ماں کی گود میں جنت اور باپ کے سائے میں سکون ملتا تھا۔ مگر اب بڑے ہو کر ہر خوشی قیمت مانگتی ہے، اور وہی سستا، بے لوث اور نایاب بچپن سب سے قیمتی لگتا ہے۔ محمد مسعود کی خواہش ہے کہ کاش وہ زمانہ لوٹ آئے۔ محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ 

ہوائے جدائی

تصویر
ہوائے جدائی دل آج بھی تری یاد کی فضا میں ہے  ہر ایک سانس تری غم بھری صدا میں ہے چراغ بجھ گئے، لیکن یہ دل سلگتا ہے  ابھی بھی درد ترا دل کی ہر دعا میں ہے جو شام ڈھلتی ہے، یادوں کے پھول کھلتے ہیں  تری ہی خوشبو مری روح کی فضا میں ہے تمام رات تری یاد سے رہا روشن  وہ ایک خواب ابھی تک مری نگاہ میں ہے نہ جانے کب سے ترے لوٹنے کی آس لیے  یہ دل ابھی بھی ترے عشق کی وفا میں ہے مسعودؔ خود کو بھلا بیٹھا تیری فرقت میں  مگر وہ آج بھی تیری ہی التجا میں ہے یہ غزل ہجر و جدائی کے درد، محبوب کی یاد اور اس کے لوٹ آنے کی امید کی عکاسی کرتی ہے۔ محمد مسعود کے دل میں جدائی کے باوجود محبت کی شمع روشن ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یادیں مدھم نہیں ہوتیں بلکہ تنہائی، انتظار اور ادھوری محبت کا احساس مزید گہرا ہوتا جاتا ہے۔

تم نے چاہا ہی نہیں

تصویر
تم نے چاہا ہی نہیں تم نے چاہا ہی نہیں ورنہ سنور جاتے ہم تمہارے لہجے میں آ کر بکھر جاتے ہم تمہیں تو شوق تھا بس آزمانے کا ہم تو پہلی نظر میں ہی مر جاتے ہم یہ جو ہجر کی رات ہے کٹ ہی جائے گی تم اگر یاد آؤ تو اکثر ڈر جاتے ہم لوگ تو بس تماشا دیکھتے ہیں مسعود تم جو ہاتھ تھام لیتے تو نکھر جاتے ہم محبوب کی بے رخی اور نہ چاہنے کی وجہ سے دو محبت کرنے والے جدا ہو گئے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ اس کی طرف سے محبت میں کوئی کمی نہیں تھی، اگر محبوب تھوڑی سی توجہ دے دیتا تو رشتہ بچ سکتا تھا۔ یہ غزل ایک طرفہ محبت، ہجر کا دکھ اور اس شکوے کو بیان کرتی ہے کہ تم نے چاہا ہی نہیں ورنہ ہم بچھڑتے ہی نہیں

دردِ ہجر

تصویر
دردِ ہجر دردِ دل کی شام میں دل کو جلا رہا ہوں اشکوں کی بارشوں میں خواب بہا رہا ہوں غمِ ہجر کی راہوں میں تنہا بھٹک رہا ہوں یادوں کے زخم دل میں پھر سے سجا رہا ہوں وقت کی تیز دھوپ میں جلتا رہا ہوں لیکن ہر درد اپنے دل کا دنیا سے چھپا رہا ہوں تنہائیوں کی شب میں سسکی دبی ہوئی ہے ہر اشک سے میں دل کا اک غم مٹا رہا ہوں یہ دردِ ہجر شاید مر کر بھی کم نہ ہو گا مسعودؔ اپنی غم کی داستاں سنا رہا ہوں اس غزل کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ بعض جدائیاں وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں، بلکہ انسان کے دل میں ہمیشہ کے لیے ایک خاموش درد بن کر زندہ رہتی ہیں

چراغِ مساوات

تصویر
چراغِ مساوات ہر ایک دل میں محبت کا نور ہونا چاہیے ہر ایک شخص کو عزت ضرور ہونا چاہیے نہ کوئی اونچا ہو، نیچا نہ کوئی دنیا میں ہر ایک دل سے تکبر کو دور ہونا چاہیے نہ فرق مسجد و مندر کا ہو محبت میں ہر ایک دل کو محبت کا طور ہونا چاہیے کسی کی آنکھ سے ٹپکے جو درد کا آنسو تو اپنے دل کو بھی غم سے چُور ہونا چاہیے یہی ہے درسِ مساوات، اے مرے مسعودؔ ہر ایک شخص کو انساں ضرور ہونا چاہیے یہ غزل انسانی برابری، محبت، اخوت اور مذہبی رواداری کا پیغام دیتی ہے۔ محمد مسعودؔ اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ انسان کی اصل عظمت اس کے مرتبے، مذہب یا دولت میں نہیں بلکہ اس کے اخلاق، محبت اور دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے میں ہے۔ غزل کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ نفرت، غرور اور امتیاز کو مٹا کر ہر انسان کو عزت اور مساوی مقام دیا جائے، کیونکہ حقیقی انسانیت ہی مساوات کا روشن چراغ ہے۔

برطانیہ کی سیاست میں نفرت کا زہر اور پاکستانی برادری کا غیر یقینی مستقبل

تصویر
برطانیہ کی سیاست میں نفرت کا زہر اور پاکستانی برادری کا غیر یقینی مستقبل تحریر: محمد مسعود، نوٹنگھم، برطانیہ برطانیہ کی سیاسی فضا میں ان دنوں نفرت، تعصب اور نسل پرستی کی ایک ایسی خطرناک لہر اٹھ رہی ہے جس نے نہ صرف اس ملک میں آباد مسلمانوں، پاکستانیوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ انسانی حقوق، جمہوریت اور مساوات کے دعویداروں کے سامنے بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ محض چند افراد کی متعصبانہ سوچ کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسی سیاسی ذہنیت کا اظہار ہے جو نفرت کو سیاسی طاقت حاصل کرنے کا ذریعہ بنا رہی ہے۔ حال ہی میں برطانیہ کے ایک بڑے نشریاتی ادارے کی جانب سے تقریباً ایک سال پر محیط خفیہ تحقیقات میں سامنے آنے والے انکشافات نے ایک تیزی سے مقبول ہوتی سیاسی جماعت کے اندر موجود مبینہ نسل پرستانہ رجحانات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ تحقیقات ایک معروف ٹیلی ویژن چینل کی تحقیقاتی ٹیم نے انجام دیں، جس کے نمائندے عام کارکنوں کے روپ میں اس جماعت کی انتخابی سرگرمیوں کا حصہ بنے۔ تقریباً ایک سال تک یہ نمائندے جماعت کے امیدواروں، کارکنوں اور منتخب کونسلروں کے ساتھ موجود...

قصور وار

تصویر
جس گھر میں بھابھی کے ہوتے ہوئے روزانہ ماں کھانا بناتی ہو وہاں قصور بھابھی کا نہیں بھائی کا ہے