مذہب کے نام پر تجارت
مذہب کے نام پر تجارت فکری جمود اور مسلم معاشرے کا المیہ تحریر: محمد مسعود (نوٹنگھم، برطانیہ) اسلام بنیادی طور پر عدل، مساوات، عقل، سائنس اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کے فروغ کے لیے نازل ہوا تھا تا کہ انسان کو جہالت، ظاہری رسومات اور ہر قسم کی غلامی سے نکال کر ایک باکردار اور بااخلاق انسان بنایا جا سکے۔ لیکن آج جب ہم اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے مذہبی ڈھانچے اور سماجی رویوں پر گہری اور غیر جانبدارانہ نظر ڈالتے ہیں تو یہ تلخ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہم نے اسلام کی اصل روح کو دفن کر کے اس کی جگہ ایک انتہائی بھیانک، منافقانہ اور معاشی استحصال پر مبنی نظام قائم کر لیا ہے۔ ہماری تباہی کی سب سے بڑی وجہ وہ مذہبی نظام ہے جس نے مساجد اور مدارس کو اصلاح کا ذریعہ بنانے کے بجائے مسلکی نفرتوں، کاروبار اور فکری جمود کی دکانوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ موجودہ دور کے مدارس میں جب ایک طالب علم آٹھ سال کی طویل مدت صرف کرتا ہے، تو وہ کسی انسانیت دوست، وسیع الظرف اور صاحبِ بصیرت عالمِ دین کے روپ میں باہر نہیں نکلتا، بلکہ وہ اپنے مخصوص فرقے کا ایک کٹر اور متعصب مبلغ بن کر سامنے آتا ہے۔ اس کی پوری تربیت اس فکری نہج پر ک...