اشاعتیں

حصارِ خاموشی

تصویر
ہر ایک شخص مجھے اب جدا دکھائی دیتا ہے ہجوم میں بھی کوئی تنہا دکھائی دیتا ہے کسی کے ہاتھ میں اب روشنی نہیں باقی ہر ایک دل مجھے بجھا دکھائی دیتا ہے وہ کون ہے جو زمانے سے بچ کے چلتا ہے ہر ایک شخص یہاں ڈرا دکھائی دیتا ہے عدالتوں میں بھی سچ کی صدا دبائی گئی ہر ایک لب مجھے سہما دکھائی دیتا ہے ہوا میں زہر ہے نفرت کا اس قدر پھیلا ہر ایک شہر مجھے جلتا دکھائی دیتا ہے یہ کس مقام پہ لا کر کھڑا کیا ہم کو ہر ایک رشتہ مجھے ٹوٹا دکھائی دیتا ہے میں اپنے گھر میں بھی خود کو مسافر پاتا ہوں ہر ایک کمرہ مجھے صحرا دکھائی دیتا ہے کسی کی یاد کا موسم نہیں اترتا ہے یہ دل بھی اب مجھے پیاسا دکھائی دیتا ہے کلام کرتے ہوئے دل اداس رہتا ہے مسعودؔ خود بھی مجھے تنہا دکھائی دیتا ہے یہ نظم “حصارِ خاموشی” معاشرتی تنہائی، خوف اور انسانی رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود موجودہ دور کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے جہاں انسان ہجوم میں رہتے ہوئے بھی تنہا محسوس کرتا ہے۔ لوگوں کے دلوں سے محبت اور روشنی ختم ہو چکی ہے اور ہر طرف خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کا ماحول نظر آتا ہے۔ شاعر محمد مسعود اس بات پر افسوس ...

آخری سفر اور دنیا داری

تصویر
​وہ ہاتھ جو آج میرے ہاتھوں میں بڑے مان سے تھمے ہیں وہ آنکھیں جو آج مجھ سے ملنے کو ترستی ہیں وہ رشتے جن کے لیے میں نے اپنی نیندیں اور خواب گروی رکھ دیے ایک دن سب بدل جائیں گے۔۔۔ ​جب میری آنکھیں بند ہوں گی اور سانس کی ڈوری ٹوٹے گی تو محبتوں کا وہ حصار، جس کے بیچ میں جی رہا ہوں اچانک ایک دیوار بن کر گرنے لگے گا میرے اپنے، جن کی دنیا میرے دم سے تھی وہ گھڑی کی سوئیوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہوں گے ​کسی کو جلدی ہو گی کہ تدفین کا وقت نکلا جا رہا ہے کسی کو اپنی بھوک ستائے گی کہ ابھی کھانا طے ہونا باقی ہے وہ جو مجھ سے لپٹ کر روتے تھے وہ فون پر اپنے ضروری کام نپٹاتے نظر آئیں گے ​بچے، جو میری زندگی کا حاصل ہیں شاید ان کے ذہن میں گھر کی تقسیم اور بینک بیلنس کا حساب ہو گا دوستوں کو اپنی محفلوں میں واپسی کی فکر ہو گی اور عزیز و اقارب کو اپنے گھروں کے دور دراز راستوں کی ​عجیب منظر ہو گا وہ بھی۔ لاش میری ہو گی، اور مصلحتیں ان کی دکھ میرا ہو گا، اور گھبراہٹ ان کی میں خاموش پڑا دیکھوں گا کہ انسان کتنا اکیلا ہے اور رشتے کتنے کمزور ​وہ جلدی میں ہوں گے کہ خاک کو خاک کے حوالے کریں اور میں اس خاموشی میں مسکرا ک...

میں پہلے جیسا ہونا چاہتا ہوں

تصویر
میں پہلے جیسا ہونا چاہتا ہوں مگر مجھے یاد نہیں کہ میں پہلے کیسا تھا۔ کیا میں وہ تھا جو ہنستے ہوئے تھک جاتا تھا؟ یا وہ جو خاموشی میں بھی اپنی آواز سن لیتا تھا؟ میرے قدموں میں شاید جلدی نہ تھی میرے دل میں شاید خوف کم تھا اور آئینے میں جو چہرہ تھا وہ سوال کم، یقین زیادہ تھا۔ اب میں خود کو ڈھونڈتا ہوں اپنی ہی پرانی تصویروں میں اپنے ہی چھوٹے خوابوں میں اور ادھورے لفظوں میں۔ میں بدل گیا ہوں یا بکھر گیا ہوں یہ بھی نہیں جانتا بس اتنا جانتا ہوں کہ کہیں اندر اب بھی کوئی مجھے پکار رہا ہے۔ میں پہلے جیسا ہونا چاہتا ہوں یا شاید… بس اپنے جیسا ہونا چاہتا ہوں جو کہیں راستے میں مجھ سے بچھڑ گیا تھا۔ یہ نظم ایک ایسے شخص کے اندرونی کرب اور شناخت کی تلاش کا اظہار ہے جو خود کو بدلتا ہوا محسوس کرتا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ وہ پہلے کیسا تھا۔ شاعر محمد مسعود ماضی کی سادہ خوشیوں، بے خوف دل اور یقین سے بھرے وجود کو یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ سب دھندلا چکا ہے۔ آئینہ اب سوالات سے بھرا چہرہ دکھاتا ہے اور دل میں بےچینی ہے۔ وہ اپنی پرانی تصویروں، چھوٹے خوابوں اور ادھورے لفظوں میں خود کو ڈھونڈتا ہے، م...

لفظوں کے درمیان ہم

تصویر
لفظوں کے درمیان ہم مرد نے جب بھی قلم اٹھائی، عورت کو اس نے خوابوں کی روشنی لکھا، اپنی کمی کو اس کی مسکراہٹ میں چھپایا، اور خود کو مکمل سمجھ لیا۔ عورت نے جب بھی قلم اٹھائی، مرد کو اس نے وقت کا فریب لکھا، وعدوں کی بھیڑ میں تنہا، اور سچ سے ذرا دور پایا۔ مگر لفظوں کے درمیان کہیں ایک خاموش سچ بھی سانس لیتا رہا، کہ دونوں ہی تھکے تھے، دونوں ہی ٹوٹے تھے۔ مسعود کہتا ہے، قصے ہمیشہ الزام سے شروع ہوتے ہیں، اور سمجھ سے ختم، جہاں محبت کو جیتنے کے لیے خود کو ہارنا پڑتا ہے۔ یہ نظم مرد اور عورت کے باہمی تصورات اور دکھوں کو نہایت نرم مگر گہرے انداز میں بیان کرتی ہے۔ مرد جب عورت کے بارے میں لکھتا ہے تو اسے خوابوں کی روشنی اور اپنی کمیوں کا مداوا سمجھتا ہے، یوں وہ خود کو مکمل محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس عورت جب مرد پر قلم اٹھاتی ہے تو اسے وقت کا فریب، وعدوں میں گھرا ہوا مگر سچ سے دور پاتی ہے، کیونکہ اس کے تجربات میں تنہائی اور ٹوٹے ہوئے وعدے نمایاں ہیں۔ نظم یہ واضح کرتی ہے کہ دونوں کے الفاظ اپنے اپنے دکھ کی سچائی رکھتے ہیں، مگر حقیقت صرف ایک رخ سے مکمل نہیں ہوتی۔ لفظوں کے درمیان ایک خاموش ...

کسک

تصویر
سجا کر مکر کی محفل، کیا خاموش منصف کو عدل کے ہر ترازو پر، بہت ہی ظلم ہوا ہے بھروسہ جس پہ کرتے تھے، اسی نے راستہ بدلا ہماری سادہ لوحی پر، بہت ہی ظلم ہوا ہے وہ جن کے ہاتھ میں اب تک، ہماری ہی لکیریں تھیں انہی کے ہاتھ سے اب تو، بہت ہی ظلم ہوا ہے پھٹے تلوے، کھلی آنکھیں اور یہ بکھری ہوئی یادیں سفر کی ہر مسافت پر، بہت ہی ظلم ہوا ہے لہو سے ہم نے لکھ ڈالا، فسانہ اپنی ہستی کا مگر یہ کہہ کے ٹالا گیا، بہت ہی ظلم ہوا ہے     اس نظم “کسک” میں شاعر محمد مسعود نے معاشرتی ناانصافی، دھوکے اور ٹوٹے ہوئے اعتماد کی گہری تصویر کشی کی ہے۔ نظم کا مرکزی احساس یہ ہے کہ ظلم صرف کھلے دشمنوں سے نہیں، بلکہ اکثر اُن ہی ہاتھوں سے ہوتا ہے جن پر کبھی کامل بھروسا کیا گیا ہو۔ شاعر محمد مسعود مکر و فریب کی سجی ہوئی محفلوں اور خاموش منصف کی علامت کے ذریعے اس عدل کی طرف اشارہ کرتا ہے جو نظر آتے ہوئے بھی بے اثر ہے۔ ہر بند میں کسی نہ کسی سطح پر ہونے والے ظلم کا ذکر ہے چاہے وہ اعتماد کا ٹوٹنا ہو، قریبی رشتوں کی بے وفائی ہو یا زندگی کے سفر میں پیش آنے والی مسلسل ٹھوکریں۔ پھٹے تلوے اور کھلی آنکھیں مسلسل...

نسبت

تصویر
لوگ اب بھی مجھے تیرا ہی سمجھتے ہیں رشتے تو بدلے دل نہ بدلا لوگ سمجھتے ہیں میں جہاں بھی گیا، تیری خوشبو ساتھ رہی میرے لہجے سے میری پہچان لوگ سمجھتے ہیں تو نے چھوڑا تو خبر یہ بھی نہ ہونے دی مجھے کہ میری خاموشی کو میری رضا لوگ سمجھتے ہیں میں نے آنکھوں سے بہائے ہیں کئی موسم مگر میری ہنسی کو ہی میرا حوصلہ لوگ سمجھتے ہیں تو کہیں اور کی دنیا میں خوش ہے شاید اور مجھے آج بھی تیرا پتہ لوگ سمجھتے ہیں میں نے لفظوں میں چھپایا ہے بہت کچھ مسعودؔ میری تحریر کو بس شاعری لوگ سمجھتے ہیں نسبت یہ غزل اندرونی کرب، جدائی اور پہچان کے دھوکے کا خوبصورت خلاصہ ہے۔ شاعر محمد مسعود ایک ایسے شخص کا حال بیان کرتا ہے جو ظاہری طور پر آگے بڑھ چکا ہے مگر باطن میں اب بھی ماضی کی نسبتوں میں بندھا ہوا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس نے رشتے بدل لیے ہیں، مگر درحقیقت اس کا دل اب بھی وہیں ٹھہرا ہوا ہے۔ شاعر محمد مسعود جہاں بھی جاتا ہے، محبوب کی خوشبو، یاد اور اثر اس کے ساتھ رہتے ہیں، جس سے اس کی پہچان آج بھی اسی نسبت سے جڑی ہوئی ہے۔ خاموشی کو لوگ اس کی رضامندی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ وہ خاموشی دراصل گہرے زخموں کی آواز ہے۔...

اثر دعا

تصویر
مجھے تیرا نہ ملنا لوگوں کی بددعاؤں کا اثر لگتا ہے کہ خواب ٹوٹتے رہتے ہیں اور دل ہی قصوروار لگتا ہے ہم نے چاہا تھا تجھے سادہ سی عبادت کی طرح یہ عشق اب بھی مگر سب سے بڑی آزمائش لگتا ہے نہ کوئی شکوہ زبان پر، نہ کوئی حرفِ ملامت یہ صبر ہی ہے جو ہر زخم پر پہرے دار لگتا ہے کسی کی ایک نظر نے اجاڑ دی میری دنیا یہ دل بھی اب مجھے شیشے کا شہر لگتا ہے محبتوں کے سفر میں ہم اکیلے ہی رہ گئے ہر ہمسفر یہاں وقتی اور ہر موڑ غدار لگتا ہے یہ جدائی بھی مسعودؔ کوئی معمولی کہانی نہیں یہ وہ باب ہے جو ہر بار پڑھوں تو نیا لگتا ہے اثر دعا یہ غزل انسانی زندگی میں محبت، جدائی اور تقدیر کے کرب کو نہایت سادگی اور گہرے احساس کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود محبوب کے نہ ملنے کو محض اتفاق نہیں بلکہ لوگوں کی بددعاؤں کا اثر سمجھتا ہے، جہاں خوابوں کا بار بار ٹوٹنا دل کو ہی قصوروار ٹھہرا دیتا ہے۔ محبت کو عبادت جیسا پاکیزہ جذبہ قرار دیا گیا ہے، مگر یہی عشق سب سے بڑی آزمائش بن کر سامنے آتا ہے۔ غزل میں صبر کو ایک محافظ کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو ہر زخم پر پہرہ دیتا ہے، اگرچہ اندر کا درد خاموش نہیں ہوتا۔ ایک نظ...