قیدِ تنہائی کیسی ہوتی ہے؟
قیدِ تنہائی کیسی ہوتی ہے؟ تحریر: محمد مسعود نوٹنگھم یو کے قیدِ تنہائی صرف چار دیواری میں بند ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے اندر پھیل جانے والی ایک ایسی خاموشی ہے جو آہستہ آہستہ روح تک کو چھو لیتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان لوگوں کے ہجوم میں بھی خود کو اکیلا محسوس کرنے لگتا ہے۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق ہوتا ہے، مگر دل کے اندر ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے جسے کوئی آواز، کوئی ہنسی اور کوئی مصروفیت بھی پُر نہیں کر پاتی۔ قیدِ تنہائی کی اصل اذیت یہی ہے کہ انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ دل میں سینکڑوں باتیں جمع ہو جاتی ہیں، یادیں، پچھتاوے اور ادھورے خواب… مگر وہ سب خاموشی کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتے ہیں۔ انسان کبھی ماضی میں کھو جاتا ہے اور کبھی مستقبل کی بے یقینی اسے خوفزدہ کر دیتی ہے۔ ایسے میں وقت بھی عجیب سا لگنے لگتا ہے؛ لمحے صدیوں کی طرح گزرنے لگتے ہیں۔ جب انسان قیدِ تنہائی میں ہوتا ہے تو سب سے زیادہ اسے اپنی یادیں ستاتی ہیں۔ وہ چہرے جو کبھی زندگی کا حصہ تھے، وہ لمحے جو کبھی خوشیوں سے بھرپور تھے، اچانک آنکھوں کے سامنے آ ...