اشاعتیں

خاموش درد

تصویر
خاموش درد دل کی دیواروں پہ ایک نقش سا رہتا ہے کوئی لمحہ ہے جو آنکھوں میں بہتا رہتا ہے میں ہنسا بھی تو ادھورا سا لگا اپنے آپ کو میرے اندر کوئی چپ چاپ سا روتا رہتا ہے تیری یادوں کے چراغوں سے ہے روشن یہ سفر ورنہ ہر راستہ تنہائی میں کھویا رہتا ہے میں نے لفظوں میں چھپایا ہے بہت سا درد اپنا ہر شعر میرے اندر سے ٹوٹا رہتا ہے لوگ کہتے ہیں زمانہ بڑا خوش ہے مسعود پر میرے دل میں ایک طوفان سا اٹھتا رہتا ہے یہ نظم 'خاموش درد' ایک ایسے دل کی کیفیت بیان کرتی ہے جس میں بظاہر سکون اور مسکراہٹ ہے مگر اندر ایک مسلسل بے چینی اور اداسی موجود ہے۔ شاعر محمد مسعود اپنے دل کی دیواروں پر یادوں کے نقش اور لمحوں کے بہاؤ کو محسوس کرتا ہے جو آنکھوں سے اشک بن کر بہتے رہتے ہیں۔ ہنسی کے باوجود ایک ادھورا پن اور اندرونی کرب اس کی شخصیت کا حصہ ہے۔ محبوب کی یادیں اس کی زندگی کے سفر کو روشنی دیتی ہیں مگر وہی یادیں تنہائی کو مزید گہرا بھی کرتی ہیں۔ شاعر محمد مسعود نے اپنے درد کو لفظوں میں چھپایا ہے لیکن ہر شعر میں اس کا ٹوٹا ہوا وجود جھلکتا ہے۔ معاشرے کی خوشی کے دعووں کے باوجود اس کے دل میں طوفان برپا رہ...

تیرا ہی سایہ

تصویر
تیرا ہی سایہ ہوا میں بکھرے ہیں جذبے، پیام تیرا ہی رہا برسوں زباں پہ چھایا رہا ہے، کلام تیرا ہی رہا برسوں جسے ڈھونڈتا پھرا ہوں ہر ایک راہ اور موڑ پر میرے ہر سمت نظر میں، مقام تیرا ہی رہا برسوں نہ کوئی اور سما سکا ہے، نہ سما سکے گا کبھی دل میں میرے دل کی ہر ایک دھڑکن میں، قیام تیرا ہی رہا برسوں بہار آئے کہ خزاں آئے، اٹھیں طوفان یا آندھیاں میرے دل کے گلستاں میں، بہار تیرا ہی رہا برسوں ہماری آنکھ کے تارے بھی، ہمارے خواب کے گھر بھی ہر ایک شام اور صبح میں، نظام تیرا ہی رہا برسوں کہاں جائیں بچھڑ کے ہم، تیری یادوں کے اس دائرے سے مسعودؔ دل کے در پہ فقط، پیام تیرا ہی رہا برسوں یہ غزل محبت کی گہرائی، وابستگی اور یاد کے تسلسل کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر محمد مسعود ایک ایسی کیفیت بیان کرتا ہے جہاں محبوب کی موجودگی صرف ظاہری نہیں بلکہ دل، روح اور سوچ کے ہر گوشے میں رچی بسی ہے۔ وقت گزرنے کے باوجود اس محبت کی شدت میں کوئی کمی نہیں آتی بلکہ ہر لمحہ اسی کے اثر میں ڈوبا رہتا ہے۔ شاعر محمد مسعود ہر راستے، ہر منظر اور ہر خیال میں محبوب کا عکس دیکھتا ہے، جیسے اس کی دنیا کا ہر نظام اسی کے گرد گھومت...

مٹی کی خوشبو

تصویر
مٹی کی خوشبو تمہاری یاد کے جگنو جو دل میں جھلملاتے ہیں اندھیری رات میں رستے ستارے بن کے آتے ہیں بہت پُرشور دنیا میں سکوں کی جستجو لے کر ہم اکثر اپنے ہی اندر کہیں ٹھہر سے جاتے ہیں وہ ہجر و وصل کے لمحے، وہ قصے بیتے برسوں کے کسی پرانی بیاض کے گوشوں سے اب لرزتے ہیں دیارِ غیر میں بھی ہم کو وہ مٹی پکارتی ہے جہاں ہم نے پرندوں کی طرح دن گنوائے ہیں وفا کی راہ میں جن کو کٹھن منزل ملی، وہ ہی زمانے بھر کی آنکھوں میں حقیقت جگمگاتے ہیں چلو اب بوجھ یادوں کا کہیں ساحل پہ رکھ دیں ہم مسافر تھک بھی جائیں تو سفر کب چھوڑ پاتے ہیں سخن کے اس گلستاں میں قلم کی آبرو رکھنا مسعود اب حرفِ سادہ بھی دلوں میں گھر بناتے ہیں یہ غزل مٹی کی خوشبو ایک گہری جذباتی اور فکری منظر کشی ہے جو انسان کی یادوں، وطن، محبت اور وقت کی گزر گاہ کو بَیانی کرتا ہے۔ شاعر محمد مسعود نے یادوں کو جگنوؤں سے تشبیہ دی ہے جو دل کے اندھیروں میں روشنی بکھیرتے ہیں، اور یہ دکھایا ہے کہ کیسے یادیں انسان کے اندر سکون کی تلاش میں بھی کبھی رک جانے کا سبب بنتی ہیں۔ ہجر و وصل کے لمحات اور بیتے ہوئے برسوں کے قصے، جیسے کسی پرانی کتاب کے گوشوں س...

برطانیہ کا سماجی نظام اور انفرادی جکڑ بندیاں

تصویر
برطانیہ کا سماجی نظام اور انفرادی جکڑ بندیاں  ادراک اور بے بسی   برطانیہ جیسے ترقی یافتہ اور منظم معاشرے میں زندگی گزارنا بظاہر ایک خواب کی مانند معلوم ہوتا ہے۔ بلند معیارِ زندگی، قانون کی حکمرانی، معاشی مواقع اور سماجی تحفظ کے نظام نے دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔ لیکن اس چکا چوند کے پیچھے ایک ایسا پیچیدہ اور مشینی نظام کارفرما ہے جو انسان کو اپنی گرفت میں اس طرح جکڑ لیتا ہے کہ جب تک اسے اس کے منفی اثرات کا احساس ہوتا ہے، تب تک واپسی کے تمام راستے مسدود ہو چکے ہوتے ہیں۔   برطانوی معاشرے کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا 'کنزیومر کلچر' (Consumer Culture) یا صارفی نظام ہے۔ یہاں کا پورا ڈھانچہ قرض اور اقساط (Credit and Interest) پر کھڑا ہے۔ گھر، گاڑی، فون، اور یہاں تک کہ روزمرہ کی گھریلو اشیاء بھی قرض کی بنیاد پر حاصل کی جاتی ہیں۔ ایک عام انسان جب اس معاشرے میں قدم رکھتا ہے، تو وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ان سہولیات کا سہارا لیتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ ترقی کر رہا ہے، لیکن درحقیقت وہ ایک ایسے چکر میں پھنس رہا ہوتا ہے جہاں اسے اپنے بلوں اور اقساط کی ادائیگی کے لیے...

قیدِ تنہائی کیسی ہوتی ہے؟

تصویر
قیدِ تنہائی کیسی ہوتی ہے؟ تحریر: محمد مسعود نوٹنگھم یو کے    قیدِ تنہائی صرف چار دیواری میں بند ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے اندر پھیل جانے والی ایک ایسی خاموشی ہے جو آہستہ آہستہ روح تک کو چھو لیتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان لوگوں کے ہجوم میں بھی خود کو اکیلا محسوس کرنے لگتا ہے۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق ہوتا ہے، مگر دل کے اندر ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے جسے کوئی آواز، کوئی ہنسی اور کوئی مصروفیت بھی پُر نہیں کر پاتی۔ قیدِ تنہائی کی اصل اذیت یہی ہے کہ انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ دل میں سینکڑوں باتیں جمع ہو جاتی ہیں، یادیں، پچھتاوے اور ادھورے خواب… مگر وہ سب خاموشی کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتے ہیں۔ انسان کبھی ماضی میں کھو جاتا ہے اور کبھی مستقبل کی بے یقینی اسے خوفزدہ کر دیتی ہے۔ ایسے میں وقت بھی عجیب سا لگنے لگتا ہے؛ لمحے صدیوں کی طرح گزرنے لگتے ہیں۔ جب انسان قیدِ تنہائی میں ہوتا ہے تو سب سے زیادہ اسے اپنی یادیں ستاتی ہیں۔ وہ چہرے جو کبھی زندگی کا حصہ تھے، وہ لمحے جو کبھی خوشیوں سے بھرپور تھے، اچانک آنکھوں کے سامنے آ ...

بے رحم یادیں

تصویر
​بے رحم یادیں بے رحم یادیں دراصل وہ خاموش مسافر ہیں جو بن بلائے ہمارے ذہن کی دہلیز پر آ بیٹھتی ہیں اور پھر وہاں سے جانے کا نام نہیں لیتیں۔ انسانی زندگی میں یادوں کی حیثیت ایک سائے کی سی ہے، جو دھوپ ہو یا چھاؤں، ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔ لیکن جب یہ یادیں "بے رحم" ہو جائیں، تو یہ محض ماضی کا قصہ نہیں رہتیں بلکہ ایک ایسا مستقل کرب بن جاتی ہیں جو انسان کے حال کو دیمک کی طرح چاٹنے لگتا ہے۔ یادوں کی بے رحمی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ یہ ہمیں ان لمحوں میں قید کر دیتی ہیں جو اب وجود ہی نہیں رکھتے۔ وہ وقت جو گزر گیا، وہ لوگ جو بچھڑ گئے، اور وہ باتیں جو اب قصہ پارینہ بن چکی ہیں، جب وہ یادوں کی صورت میں بار بار سامنے آتی ہیں تو انسان خود کو ایک ایسے قید خانے میں محسوس کرتا ہے جس کی دیواریں نظر نہیں آتیں مگر ان کا بوجھ روح کو تھکا دیتا ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ گزرے ہوئے دکھ سے زیادہ اس دکھ کی یاد تکلیف دہ ہوتی ہے، کیونکہ زخم تو بھر جاتے ہیں لیکن ان کے نشانات جب بھی نظر پڑیں، وہی پرانا درد تازہ کر دیتے ہیں۔ اس بے رحمی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یادیں کبھی انتخاب نہیں کرتیں۔ یہ نہیں دیکھتیں کہ انسا...

ہر درد کا درماں

تصویر
ہر درد کا درماں محبت میں عجب ایک کیف کا ساماں نظر آیا وہ جب مسکائے تو ہر درد کا درماں نظر آیا   ستارے اس لیے شاید زمین پر جھک کے بیٹھے ہیں انہیں تیرے رخِ روشن پہ ایک ایماں نظر آیا   تیری آنکھوں کے ساغر میں عجب جادو ہے اے جاناں خدا کی قسم مجھ کو تو سارا جہاں نظر آیا   وفا کے رستے میں ہم نے قدم رکھا ہے جب سے ہی ہمیں ہر خارِ گلشن بھی گلِ خنداں نظر آیا   غمِ دوراں کے مارے تھے، مگر جب تم ملے ہم کو حیاتِ نو کا ایک دلکش ہمیں عنواں نظر آیا   تیرے قدموں کی آہٹ سے مہک اٹھتی ہے یہ بستی تیرا ہر نقشِ پا ہم کو بہت تاہاں نظر آیا   تیری یادوں کی خوشبو سے ہے میرا دل ابھی روشن محبت کا حسیں جذبہ بہت رقصاں نظر آیا   تڑپتے دل کو اب اے کاش تھوڑی سی اماں مل جائے لبِ خاموش پہ اب شکوہِ ہجراں نظر آیا   مسعود اب تم کہو قصہ اپنی اس محبت کا تمہیں تو عشق میں ہر شخص ہی ناداں نظر آیا       یہ نظم محبت کی گہرائی اور عشق کی شدت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود نے محبوب کی مسکان، رخ روشن اور آنکھوں کے جادو کو اپنے درد کا علاج اور زندگی کی خوشیوں کا ذریعہ ...