ٹھیک سے بچھڑنا بھی نہیں آتا خود کو میرے ہی دل میں چھوڑ گئے ہو تمہیں تو ٹھیک سے بچھڑنا بھی نہیں آتا تم گئے تو ہر خوشی بھی ساتھ لے گئے اب اس اُجڑے گھر میں جینا بھی نہیں آتا سنو، ہم نے تو تمہیں بہت ٹوٹ کر چاہا تھا تمہیں تو ٹوٹ کر چاہا جانا بھی نہیں آتا روز رات ڈھلتے ہی تیری یاد بہت آتی ہے اس دلِ ناداں کو سمجھانا بھی نہیں آتا لوگ کہتے ہیں، بھلا دو اُس بے وفا کو پر ہمیں تو تمہیں بھلانا بھی نہیں آتا درد اتنا ہے کہ لفظ بھی کم پڑ گئے مسعودؔ کو اب تو رونا بھی نہیں آتا Poet Mohammed Masood Nottingham یہ غزل جدائی، محبت، تنہائی اور یاد کے گہرے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ محمد مسعود ایک ایسے شخص سے مخاطب ہے جو بظاہر زندگی سے رخصت ہو چکا ہے، مگر اپنی یادیں محمد مسعود کے دل میں چھوڑ گیا ہے۔ اس شخص کے جانے کے بعد زندگی کی خوشیاں بھی جیسے ختم ہو گئی ہیں اور گھر و دل دونوں ویران محسوس ہوتے ہیں۔ محمد مسعود نے شخص کو بے حد شدت اور خلوص سے چاہا، مگر اسے یہ احساس ہے کہ شاید شخص اس محبت کی گہرائی کو کبھی سمجھ نہ سکا۔ رات کی تنہائی میں شخص کی یاد مزید شدت اختیار کرتی ہے اور دل کو سمج...