اشاعتیں

دینے والی ذات تو صرف رب کی ہے

تصویر
دینے والی ذات تو صرف رب کی ہے سندھ سے کشمیر تک عقیدت کے نام پر غلامی کی داستان تحریر: محمد مسعود نونٹگھم برطانیہ  یہ صرف سندھ کی کہانی نہیں، یہ میرے پورے پاکستان کی کہانی ہے، میرے دل کی کہانی ہے۔ یہ سندھ کے کسی ویران گوٹھ میں بیٹھی ہوئی اس ماں کی بھی کہانی ہے جس کے پاؤں میں دو پٹیوں والی سستی چپل تک نہیں، اور یہ لاہور کی بادشاہی مسجد کے سامنے بیٹھے اس پڑھے لکھے نوجوان کی بھی کہانی ہے جو ڈگری ہاتھ میں لے کر بھی ایک جعلی پیر کے سامنے جھکا ہوا ہے۔ یہ فیصل آباد کے اس مل مالک کی بھی کہانی ہے جو اپنی فیکٹری کا بونس پیر کو دے آتا ہے، اور یہ ملتان، ساہیوال، بہاولپور کے ان سادہ لوح کسانوں کی بھی کہانی ہے جو اپنی فصل کا پہلا حصہ گدی نشین کی نذر کر دیتے ہیں۔ یہ کوئٹہ، خضدار اور تربت کے ان بلوچ بھائیوں کی بھی کہانی ہے جو سردار اور پیر کے ایک ہی روپ سے ڈرے ہوئے ہیں، یہ پشاور اور سوات کے ان پختونوں کی بھی کہانی ہے جو تعویذ کو دوا سے زیادہ سچا سمجھتے ہیں، اور یہ میرے آزاد کشمیر کے مظفرآباد اور میرپور کے ان غیور لوگوں کی بھی کہانی ہے جو آج بھی درباروں پر جا کر اپنی قسمت کے فیصلے لوہے کی جالیوں سے ...

ایک ادھوری کہانی

تصویر
ایک ادھوری کہانی کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں بس ادھوری رہ جاتی ہیں۔ تحریر: محمد مسعود، نوٹنگھم، برطانیہ قسط اوّل جانے کس کس کی بد دعا کام آ گئی، کس کی نظر نے راستہ بدل دیا، یا شاید قسمت کے کاغذ پر ہمارا ساتھ اتنا ہی لکھا تھا۔ میں آج بھی اس سوال کا جواب تلاش کرتا ہوں کہ ہمارے درمیان آخر ایسی کون سی دیوار آ گئی تھی جسے ہم محبت کی تمام تر طاقت کے باوجود گرا نہ سکے۔ کبھی سوچتا ہوں دیوار حالات کی تھی، کبھی وقت کو قصور وار ٹھہراتا ہوں اور کبھی اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ شاید ہم دونوں میں سے کسی ایک نے اس رشتے کو اتنی مضبوطی سے تھاما ہی نہیں تھا جتنی مضبوطی سے دوسرے نے تھام رکھا تھا۔ جو بھی تھا، انجام یہی ہوا کہ ہوتے ہوتے وہ شخص مجھ سے بچھڑ گیا جس کے بارے میں کبھی یہ گمان تک نہ تھا کہ ایک دن اس کے بغیر بھی زندگی گزارنی پڑے گی۔ عجیب ہے یہ زندگی بھی۔ جن لوگوں کے بغیر ہم ایک لمحہ گزارنے کا تصور نہیں کر سکتے، وقت ہمیں انہی کے بغیر برسوں گزارنا سکھا دیتا ہے۔ سانس چلتی رہتی ہے، صبح ہوتی رہتی ہے، شام ڈھلتی رہتی ہے، دنیا اپنے معمول پر چلتی رہتی ہے، مگر انسان کے اندر کہیں ایک گھڑی ایسی بھی ہوتی ہے جو اسی...

درد خاموش

ہم ہنس دیے تو سب نے سمجھا کہ غم نہیں، دل سے پوچھو مسعودؔ، کیا کچھ سہہ کے خاموش ہیں۔

ٹھیک سے بچھڑنا بھی نہیں آتا

تصویر
ٹھیک سے بچھڑنا بھی نہیں آتا خود کو میرے ہی دل میں چھوڑ گئے ہو تمہیں تو ٹھیک سے بچھڑنا بھی نہیں آتا تم گئے تو ہر خوشی بھی ساتھ لے گئے اب اس اُجڑے گھر میں جینا بھی نہیں آتا سنو، ہم نے تو تمہیں بہت ٹوٹ کر چاہا تھا تمہیں تو ٹوٹ کر چاہا جانا بھی نہیں آتا روز رات ڈھلتے ہی تیری یاد بہت آتی ہے اس دلِ ناداں کو سمجھانا بھی نہیں آتا لوگ کہتے ہیں، بھلا دو اُس بے وفا کو پر ہمیں تو تمہیں بھلانا بھی نہیں آتا درد اتنا ہے کہ لفظ بھی کم پڑ گئے مسعودؔ کو اب تو رونا بھی نہیں آتا  Poet Mohammed Masood Nottingham  یہ غزل جدائی، محبت، تنہائی اور یاد کے گہرے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ محمد مسعود ایک ایسے  شخص سے مخاطب ہے جو بظاہر زندگی سے رخصت ہو چکا ہے، مگر اپنی یادیں محمد مسعود کے دل میں چھوڑ گیا ہے۔ اس شخص کے جانے کے بعد زندگی کی خوشیاں بھی جیسے ختم ہو گئی ہیں اور گھر و دل دونوں ویران محسوس ہوتے ہیں۔ محمد مسعود نے شخص کو بے حد شدت اور خلوص سے چاہا، مگر اسے یہ احساس ہے کہ شاید شخص اس محبت کی گہرائی کو کبھی سمجھ نہ سکا۔ رات کی تنہائی میں شخص کی یاد مزید شدت اختیار کرتی ہے اور دل کو سمج...

خاموش درد

تصویر
خاموش درد تحریر: محمد مسعود، نوٹنگھم برطانیہ برطانیہ میں بہت سے لوگ دولت کی کمی سے نہیں، بلکہ تنہائی، جذباتی تھکن اور اپنائیت کی کمی سے لڑ رہے ہیں۔ یہ ایک جملہ نہیں، یہ اس دھرتی پر بسنے والے ہزاروں دلوں کی چیخ ہے جو ہونٹوں تک آتے آتے دم توڑ جاتی ہے۔ یہاں چمکتی ہوئی سڑکیں ہیں، صاف ستھرے گھر ہیں، ہر ضرورت کی چیز میسر ہے، بینک میں پیسہ ہے، گاڑی دروازے پر کھڑی ہے، مگر جب شام ڈھلتی ہے تو گھر کی دیواریں اجنبی لگنے لگتی ہیں۔ کچن میں کھانا پڑا ہے مگر کھانے والا کوئی نہیں، فون میں سینکڑوں نمبر ہیں مگر حال پوچھنے والا کوئی نہیں۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ انسان ہجوم میں بھی تنہا ہے۔ پردیس کا دکھ روٹی کا دکھ نہیں ہوتا، یہ تو دل کے اجڑنے کا دکھ ہوتا ہے۔ ہم اپنے پیاروں کو چھوڑ کر آئے تھے کہ بچوں کا مستقبل بن جائے گا، ماں باپ کو سہولت ملے گی، بہن بھائیوں کا سہارا بنیں گے۔ ہم نے سوچا تھا چند سال کی بات ہے، پھر لوٹ جائیں گے۔ مگر وقت نے ہمیں ایسے جکڑا کہ ہم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔ یہاں کے اپنے اصول ہیں، یہاں کی اپنی دوڑ ہے۔ صبح سے شام تک کام، شام سے رات تک فکر۔ بچے بڑے ہو گئے، ان کی زبان بدل گئی، ان کے خواب...

تم یاد آتے ہو

تصویر
تم یاد آتے ہو  جب چراغوں کو بجھاتا ہوں تم یاد آتے ہو خود سے تنہائی میں ملتا ہوں تم یاد آتے ہو رات خاموش ہو اور چاند اتر آئے تو پھر کھڑکیاں جب بھی کھولتا ہوں تم یاد آتے ہو کوئی خوشبو جو ترے لمس کا دھوکا دے دے سانس لیتا ہوں تو بے ساختہ تم  یاد آتے ہو لوگ کہتے ہیں کہ وقت زخم مٹا دیتا ہے وقت گزرتا ہے تو بہت زیادہ تم یاد آتے ہو ایک تصویر چھپا رکھی ہے دل میں اب تک اس کو اشکوں سے جو پڑھتا ہوں تم یاد آتے ہو کتنی کوشش کی ترے بعد سنبھلنے کی مگر جب بھی ہنستا ہوں تو اندر سے تم یاد آتے ہو کوئی پوچھے کہ محبت کا صلہ کیا پایا نام لیتا نہیں، چپ رہتا ہوں تم یاد آتے ہو مسعود کی آنکھوں میں کہاں نیند رہی رات ڈھلتی ہے تو بے حد تم یاد آتے ہو یہ غزل ایک ایسے شخص کے گہرے احساسات کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے محبوب سے بچھڑ چکا ہے، مگر اس کی یادیں آج بھی اس کی زندگی کے ہر لمحے میں موجود ہیں۔ تنہائی، خاموش رات، چاندنی، کھلی کھڑکیاں اور جانی پہچانی خوشبو اسے بار بار محبوب کی یاد دلاتی ہیں۔ محمد مسعود وقت کے بارے میں اس عام خیال کو رد کرتا ہے کہ وقت ہر زخم کو بھر دیتا ہے، کیونکہ یہاں گزرتا ہوا وقت ج...

تیری یادوں کی خوشبو

تصویر
تیری خوشبو کے موسم چاندنی رات تھی، تُو بھی قریب آیا تھا دل نے پہلی ہی نظر میں تجھے اپنایا تھا تیری آنکھوں میں عجب سا کوئی جادو دیکھا میں نے ہر خواب کو پلکوں پہ سجایا تھا تیری باتوں کی مہک آج بھی سانسوں میں ہے جیسے گلشن میں کوئی پھول کھلایا تھا تیرے لمس کی حرارت ابھی باقی ہے مجھ میں جیسے برفوں کو کسی نے بھی پگھلایا تھا تو جو ہنستا ہے تو لگتا ہے بہار آتی ہے تو جو روٹھے تو زمانہ بھی خفا پایا تھا رات تنہائی میں جب تیرا خیال آتا ہے میں نے خود کو تیری بانہوں میں سمایا تھا عشق میں ڈوب کے جینا ہی مزہ دیتا ہے یہ سبق تُو نے ہی مسعودؔ کو سکھایا تھا یہ غزل محبت کے ایک لطیف اور خوشبودار احساس کی عکاسی کرتی ہے جس میں شاعر محمد مسعود اپنے محبوب کے ساتھ گزارے گئے حسین لمحات کو یاد کرتا ہے۔ چاندنی رات میں پہلی ملاقات کا منظر دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتا ہے اور پہلی نظر کی چاہت عمر بھر کا رشتہ بن جاتی ہے۔ محبوب کی آنکھوں کا جادو، باتوں کی مہک اور لمس کی حرارت شاعر محمد مسعود کے وجود میں آج بھی زندہ ہیں۔ وہ محبوب کی مسکراہٹ کو بہار سے تشبیہ دیتا ہے اور اس کی ناراضی کو پورے زمانے کی اداسی س...