اشاعتیں

تم نے چاہا ہی نہیں

تصویر
تم نے چاہا ہی نہیں تم نے چاہا ہی نہیں ورنہ سنور جاتے ہم تمہارے لہجے میں آ کر بکھر جاتے ہم تمہیں تو شوق تھا بس آزمانے کا ہم تو پہلی نظر میں ہی مر جاتے ہم یہ جو ہجر کی رات ہے کٹ ہی جائے گی تم اگر یاد آؤ تو اکثر ڈر جاتے ہم لوگ تو بس تماشا دیکھتے ہیں مسعود تم جو ہاتھ تھام لیتے تو نکھر جاتے ہم محبوب کی بے رخی اور نہ چاہنے کی وجہ سے دو محبت کرنے والے جدا ہو گئے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ اس کی طرف سے محبت میں کوئی کمی نہیں تھی، اگر محبوب تھوڑی سی توجہ دے دیتا تو رشتہ بچ سکتا تھا۔ یہ غزل ایک طرفہ محبت، ہجر کا دکھ اور اس شکوے کو بیان کرتی ہے کہ تم نے چاہا ہی نہیں ورنہ ہم بچھڑتے ہی نہیں

دردِ ہجر

تصویر
دردِ ہجر دردِ دل کی شام میں دل کو جلا رہا ہوں اشکوں کی بارشوں میں خواب بہا رہا ہوں غمِ ہجر کی راہوں میں تنہا بھٹک رہا ہوں یادوں کے زخم دل میں پھر سے سجا رہا ہوں وقت کی تیز دھوپ میں جلتا رہا ہوں لیکن ہر درد اپنے دل کا دنیا سے چھپا رہا ہوں تنہائیوں کی شب میں سسکی دبی ہوئی ہے ہر اشک سے میں دل کا اک غم مٹا رہا ہوں یہ دردِ ہجر شاید مر کر بھی کم نہ ہو گا مسعودؔ اپنی غم کی داستاں سنا رہا ہوں اس غزل کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ بعض جدائیاں وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں، بلکہ انسان کے دل میں ہمیشہ کے لیے ایک خاموش درد بن کر زندہ رہتی ہیں

چراغِ مساوات

تصویر
چراغِ مساوات ہر ایک دل میں محبت کا نور ہونا چاہیے ہر ایک شخص کو عزت ضرور ہونا چاہیے نہ کوئی اونچا ہو، نیچا نہ کوئی دنیا میں ہر ایک دل سے تکبر کو دور ہونا چاہیے نہ فرق مسجد و مندر کا ہو محبت میں ہر ایک دل کو محبت کا طور ہونا چاہیے کسی کی آنکھ سے ٹپکے جو درد کا آنسو تو اپنے دل کو بھی غم سے چُور ہونا چاہیے یہی ہے درسِ مساوات، اے مرے مسعودؔ ہر ایک شخص کو انساں ضرور ہونا چاہیے یہ غزل انسانی برابری، محبت، اخوت اور مذہبی رواداری کا پیغام دیتی ہے۔ محمد مسعودؔ اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ انسان کی اصل عظمت اس کے مرتبے، مذہب یا دولت میں نہیں بلکہ اس کے اخلاق، محبت اور دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے میں ہے۔ غزل کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ نفرت، غرور اور امتیاز کو مٹا کر ہر انسان کو عزت اور مساوی مقام دیا جائے، کیونکہ حقیقی انسانیت ہی مساوات کا روشن چراغ ہے۔

برطانیہ کی سیاست میں نفرت کا زہر اور پاکستانی برادری کا غیر یقینی مستقبل

تصویر
برطانیہ کی سیاست میں نفرت کا زہر اور پاکستانی برادری کا غیر یقینی مستقبل تحریر: محمد مسعود، نوٹنگھم، برطانیہ برطانیہ کی سیاسی فضا میں ان دنوں نفرت، تعصب اور نسل پرستی کی ایک ایسی خطرناک لہر اٹھ رہی ہے جس نے نہ صرف اس ملک میں آباد مسلمانوں، پاکستانیوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ انسانی حقوق، جمہوریت اور مساوات کے دعویداروں کے سامنے بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ محض چند افراد کی متعصبانہ سوچ کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسی سیاسی ذہنیت کا اظہار ہے جو نفرت کو سیاسی طاقت حاصل کرنے کا ذریعہ بنا رہی ہے۔ حال ہی میں برطانیہ کے ایک بڑے نشریاتی ادارے کی جانب سے تقریباً ایک سال پر محیط خفیہ تحقیقات میں سامنے آنے والے انکشافات نے ایک تیزی سے مقبول ہوتی سیاسی جماعت کے اندر موجود مبینہ نسل پرستانہ رجحانات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ تحقیقات ایک معروف ٹیلی ویژن چینل کی تحقیقاتی ٹیم نے انجام دیں، جس کے نمائندے عام کارکنوں کے روپ میں اس جماعت کی انتخابی سرگرمیوں کا حصہ بنے۔ تقریباً ایک سال تک یہ نمائندے جماعت کے امیدواروں، کارکنوں اور منتخب کونسلروں کے ساتھ موجود...

قصور وار

تصویر
جس گھر میں بھابھی کے ہوتے ہوئے روزانہ ماں کھانا بناتی ہو وہاں قصور بھابھی کا نہیں بھائی کا ہے

مکہ مکرمہ میں خاموش پھانسیاں

تصویر
مکہ مکرمہ میں خاموش پھانسیاں دو بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت، ایک حقیقت اور کئی سوالات بغیر جوابات کے تحریر: محمد مسعود ناٹنگھم، برطانیہ مکہ مکرمہ، وہ مقدس سر زمین جہاں دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے آتے ہیں، جہاں مسجدِ حرام کی عظمت ہر مسلمان کے دل میں بسی ہوئی ہے، جہاں خانۂ کعبہ کو دیکھ کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اسی مقدس شہر سے ایک ایسی خبر سامنے آئی جس نے بے شمار مسلمانوں کو حیرت، افسوس اور تشویش میں مبتلا کر دیا۔ چودہ اکتوبر دو ہزار چھبیس کو سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ دو بنگلہ دیشی شہریوں، نذرالاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر، کو مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں مبینہ طور پر غیر اخلاقی فعل کے مقدمے میں سزائے موت دے دی گئی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق دونوں افراد کو تحقیقات کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان پر لگائے گئے الزامات ثابت قرار دیے گئے اور انہیں تعزیری سزا کے تحت موت کی سزا سنائی گئی۔ بعد میں متعلقہ عدالتی منظوری اور شاہی حکم کے بعد سزا پر عمل درآمد کر دیا گیا۔ لیکن اس خبر کے ساتھ کئی ایسے سوالات بھی پیدا ہوئے جن کے واضح جوابات اب تک عام لوگوں ...

تمہیں خبر ہی نہیں

تصویر
تمہیں خبر ہی نہیں تمہیں خبر ہی نہیں، دل پہ کیا گزرتی ہے تیری جدائی میں ہر سانس بکھرتی ہے میں ہنس کے ملتا ہوں لوگوں سے آج بھی لیکن میری نگاہ میں اک شام سی اترتی ہے کبھی جو رات کے پچھلے پہر تجھے سوچوں تو چاندنی بھی میرے کمرے میں ٹھہرتی ہے وہ ایک شخص جو میرا کبھی ہوا ہی نہیں اسی کی یاد میرے ساتھ ساتھ چلتی ہے میں اپنے خواب کو سینے میں دفن کر دوں گا مگر تری یاد کہاں دل سے پھر نکلتی ہے کسی کے ہاتھ میں ہاتھ دے کے دیکھ لیا ہر ایک لمس میں اک اجنبی سی وحشت ہے عجیب عشق ہے جس کا کوئی علاج نہیں یہ پیاس بڑھتی ہے لیکن کبھی نہیں مرتی ہے مسعودؔ عشق کی قیمت بھی کیا عجب نکلی خوشی تو چھن گئی، تنہائی ہی ملتی ہے یہ غزل ایک نامکمل، یک طرفہ اور شدید عشق کی کہانی ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ محبوب کو خبر ہی نہیں کہ اس کی جدائی میں اس کے دل پر کیا قیامت گزرتی ہے، ہر سانس بکھر جاتی ہے۔ ظاہری طور پر وہ دنیا کے سامنے ہنستا مسکراتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، مگر اس کی آنکھوں میں ہر وقت ایک اداس شام اتری رہتی ہے۔ رات کے تنہا لمحوں میں جب وہ محبوب کو سوچتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے چاندنی بھی اس کے کمرے میں ٹھہر کر...