بچپن لوٹا دو
بچپن لوٹا دو بچپن کا وہ زمانہ کیا خوب تھا نہ کوئی غم تھا نہ کوئی حساب تھا مٹی کے گھروندے بنانا اور توڑنا ہر کھیل میں بس اک خواب تھا ماں کی آغوش میں جنت ملتی تھی باپ کا سایہ آفتاب تھا نہ دولت کی چاہ نہ شہرت کا جنوں دل تو بس دل کا بیتاب تھا اب تو مسعودؔ ہر خوشی مہنگی ہے وہ بچپن ہی سستا اور نایاب تھا اس نظم میں محمد مسعود بچپن کی معصومیت، بے فکری اور سادگی کو یاد کر رہا ہے۔ بچپن وہ دور تھا جب نہ غم تھے، نہ دنیا کی فکر، نہ دولت اور شہرت کی ہوس۔ مٹی کے کھلونوں میں ہی ساری خوشیاں تھیں، ماں کی گود میں جنت اور باپ کے سائے میں سکون ملتا تھا۔ مگر اب بڑے ہو کر ہر خوشی قیمت مانگتی ہے، اور وہی سستا، بے لوث اور نایاب بچپن سب سے قیمتی لگتا ہے۔ محمد مسعود کی خواہش ہے کہ کاش وہ زمانہ لوٹ آئے۔ محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ