منت کے دھاگے
منت کے دھاگے جب دیکھا مطمین ہے وہ میرے بغیر تو کھول آیا دھاگـے منت کـے درباروں سے ٹوٹا بھرم تو دل نے بھی رختِ سفر باندھا لوٹ آئے ہم بھی اشکوں کے بازاروں سے ہر آرزو کا جنازہ اٹھایا تنہا میں نے کفنایا خوابوں کو امید کے گلزاروں سے وہ بے نیازی سے گزرا نہ پوچھا حالِ دل ہم ڈھونڈتے رہے اُسے یاد کے میناروں سے پوچھا انہوں نے کیوں ہو اداس اے مسعودؔ ہم بولے لوٹ آئے ہیں ہم درباروں سے یہ غزل بے وفائی اور ٹوٹتی ہوئی امید کے کرب کو بیان کرتی ہے۔ محمد مسعود جب دیکھتا ہے کہ محبوب اس کے بغیر بھی مطمئن اور خوش ہے تو وہ مزاروں اور درباروں پر مانگی ہوئی منتیں، باندھے ہوئے دھاگے کھول آتا ہے۔ یہ عمل ہار مان لینے کا استعارہ ہے۔ دل کا بھرم ٹوٹنے پر وہ آنسوؤں کے بازار سے واپس پلٹ آتا ہے۔ ہر خواہش کا جنازہ تنہا اٹھاتا ہے اور خوابوں کو امید کے گلزار سے ہی کفن دے دیتا ہے۔ محبوب کی بے نیازی اسے مزید توڑ دیتی ہے، وہ اسے یادوں کے میناروں میں تلاش کرتا رہ جاتا ہے۔ مقطع میں محمد مسعود بتاتا ہے کہ جب محبوب نے اداسی کی وجہ پوچھی تو جواب صرف یہ تھا کہ ...