گزرے ہوئے وقت
گزرے ہوئے وقت گزرے ہوئے وقتوں کی، یادیں ستاتی ہیں مجھ کو بچھڑے ہوئے لوگوں کی، باتیں رلاتی ہیں مجھ کو وہ بچپن کی گلیاں، وہ یاروں کی محفلیں وہ ہنسی کی صدائیں، اب نیند نہ آتی ہیں مجھ کو ماں کی دعاؤں والی، وہ شامیں کہاں گئیں باپ کے سائے والی، چھاؤں ترساتی ہے مجھ کو وہ خط جو کبھی لکھے تھے، محبت کے نام پر ان کی سیاہی اب بھی، اشکوں سے مٹاتی ہے مجھ کو وقت نے سب چھین لیا، کچھ بھی نہ چھوڑا پاس بس ایک ادھوری تصویر، ہر پل دکھاتی ہے مجھ کو اے مسعود! اب نہ کر، گزرے وقتوں کا گلہ جو لوٹ کر نہیں آتے، وہی یاد آتے ہیں مجھ کو 6 جنوری 1990 میری ڈائری کا ایک ورق آج پرانی ڈائری کھولی تو یہ غزل سامنے آئی، جو میں نے 6 جنوری 1990 کو لکھی تھی۔ سوچا آپ سب کے ساتھ شیئر کروں۔ یہ غزل گزرے ہوئے خوبصورت وقتوں کی یاد میں لکھی گئی ہے۔ انسان سب کچھ پا کر بھی وہ وقت واپس نہیں لا سکتا جو بچھڑ گیا۔ بچپن، ماں باپ کا سایہ، دوستوں کی محفلیں اور پرانی محبتیں صرف یادوں میں رہ جاتی ہیں، اور یہی یادیں دل کو سب سے زیادہ رلاتی ہیں۔