مکہ مکرمہ میں خاموش پھانسیاں
مکہ مکرمہ میں خاموش پھانسیاں دو بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت، ایک حقیقت اور کئی سوالات بغیر جوابات کے تحریر: محمد مسعود ناٹنگھم، برطانیہ مکہ مکرمہ، وہ مقدس سر زمین جہاں دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے آتے ہیں، جہاں مسجدِ حرام کی عظمت ہر مسلمان کے دل میں بسی ہوئی ہے، جہاں خانۂ کعبہ کو دیکھ کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اسی مقدس شہر سے ایک ایسی خبر سامنے آئی جس نے بے شمار مسلمانوں کو حیرت، افسوس اور تشویش میں مبتلا کر دیا۔ چودہ اکتوبر دو ہزار چھبیس کو سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ دو بنگلہ دیشی شہریوں، نذرالاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر، کو مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں مبینہ طور پر غیر اخلاقی فعل کے مقدمے میں سزائے موت دے دی گئی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق دونوں افراد کو تحقیقات کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان پر لگائے گئے الزامات ثابت قرار دیے گئے اور انہیں تعزیری سزا کے تحت موت کی سزا سنائی گئی۔ بعد میں متعلقہ عدالتی منظوری اور شاہی حکم کے بعد سزا پر عمل درآمد کر دیا گیا۔ لیکن اس خبر کے ساتھ کئی ایسے سوالات بھی پیدا ہوئے جن کے واضح جوابات اب تک عام لوگوں ...