اشاعتیں

تنہائی کا جال

تصویر
تنہائی کا جال نہ جانے کتنے گھر بسائے اپنا گھر بسا نہ سکی سب کی مانگ سجا دی لیکن اپنی مانگ سجا نہ سکی ہر آنگن میں گونج اٹھیں خوشیوں کی پیاری شہنائیاں اپنی ویران کوٹھری میں تنہائی سے جدا نہ سکی جوڑے کتنے ملوا ڈالے کتنی دعائیں ساتھ ملیں اپنی قسمت کے زخموں پر لیکن مرہم لگا نہ سکی مہندی کی خوشبو بانٹتی رہی ہر دل میں امید جگاتی رہی اپنے ہاتھوں کی قسمت میں کوئی رنگ رچا نہ سکی ہر بابل کے آنگن میں اس نے پھول محبت کے بوئے اپنے صحن کی سوکھی مٹی میں کوئی گل کھلا نہ سکی کہتی تھی اک روز سسک کر بیٹا! اتنا بتلا دے سب کے بگڑے کام سنوارے اپنی قسمت بنا نہ سکی رشتوں کی دلال کہلائی دنیا بھر کی خوشیاں بانٹیں اپنے دل کی ویرانی کو لیکن کبھی چھپا نہ سکی کیسا انصاف ہے مولا تیرا یہ کیسی تقدیر لکھی سب کے دیپ جلانے والی اپنا دیپ جلا نہ سکی مسعودؔ اس کی آنکھوں میں صدیوں کا اک صحرا تھا سب کو ہنستا دیکھ لیا خود ہنس کر دکھ بھلا نہ سکی یہ غزل ایک ایسی عورت کی دردناک زندگی کی عکاسی کرتی ہے جو عمر بھر دوسروں کے رشتے جوڑتی رہی، گھر آباد کرتی اور خوشیاں بانٹتی رہی، مگر خود محبت، ازدواجی سکون اور اپنے گھر کی نعم...

فادرز ڈے

تصویر
فادرز ڈے  ایک دن کی محبت یا عمر بھر کا سایہ؟   تحریر: محمد مسعود، نوٹنگھم، برطانیہ فادرز ڈے کیا ہے؟ یہ مغربی دنیا سے شروع ہونے والی ایک رسم ہے جس میں ہر سال جون کے تیسرے اتوار کو باپ سے محبت اور شکر گزاری کے اظہار کے لیے منایا جاتا ہے۔ 2026 میں یہ دن آج بروز اتوار 21 جون کو منایا جا رہا ہے۔ اس دن اولاد اپنے والد کو تحفے دیتی ہے، کارڈ لکھتی ہے، سوشل میڈیا پر ان کے ساتھ تصویریں لگاتی ہے اور ان کی قربانیوں کو یاد کرتی ہے۔ اس دن کا مقصد بظاہر بہت خوبصورت ہے کہ ہم اس ہستی کو یاد کریں جس نے اپنی جوانی، اپنی خواہشات اور اپنی نیندیں ہماری پرورش پر قربان کر دیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا باپ سے محبت کے اظہار کے لیے سال میں ایک دن کافی ہے؟ کیا وہ رشتہ جسے ہمارے دین نے جنت کا دروازہ قرار دیا، اسے ہم صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ تک محدود کر دیں؟  ہمارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "باپ جنت کے دروازوں میں سے بیچ کا دروازہ ہے، اب تمہاری مرضی ہے اسے ضائع کر دو یا اس کی حفاظت کرو"۔ ایک اور حدیث میں فرمایا: "اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے"۔ قرآن...

پردہ داری

تصویر
پردہ داری پردے میں پورا رہنا ہے ہمت کر کے چلنا ہے سر پر خوشی کا بوجھ لیے پھر بھی دل افسردہ ہے ہنستے ہوئے سب سے ملنا ہے درد کو دل میں رکھنا ہے محفل میں قہقہے بانٹیں ہیں رات کو آنسو پینا ہے پاؤں میں چھپے چھالے ہیں راہ کی کڑواہٹ سہنا ہے اپنے ہی کانٹوں سے الجھ کر اندر ہی اندر جلنا ہے دنیا کو دھوکا دینا ہے خود کو بھی بہلانا ہے آئینہ بھی حیران ہوا جھوٹی تصویر گھڑنا ہے زخموں کو مرہم دیتے ہیں مرہم سے زخم بڑھتا ہے مسعودؔ یہی دستور ہوا تنہائی میں سہتے رہنا ہے یہ غزل انسانی زندگی کے اس پہلو کی عکاسی کرتی ہے جہاں انسان اپنے دکھ، تکلیفوں اور اندرونی شکستگی کو دنیا کی نظروں سے چھپا کر جینے پر مجبور ہوتا ہے۔ محمد مسعود بیان کرتا ہے کہ بظاہر خوش اور مطمئن دکھائی دینے والا شخص اپنے دل میں بے شمار غم اور درد سموئے ہوتا ہے۔ وہ لوگوں سے مسکرا کر ملتا ہے، محفلوں میں خوشی بانٹتا ہے، لیکن تنہائی میں آنسوؤں کا ساتھ نبھاتا ہے۔ زندگی کی دشوار راہوں میں اسے کئی زخم اور اذیتیں ملتی ہیں، مگر وہ خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتا رہتا ہے۔ محمد مسعود اس تلخ حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ انسان کبھی کبھی دنیا کے...

تیرے بعد

تصویر
تیرے بعد ہم نے اپنوں کو بھی اپنا نہ کہا تیرے بعد دل کا دروازہ کسی پر نہ کھلا تیرے بعد چاند نکلا تو بہت دیر تلک تکتے رہے پھر یہ محسوس ہوا، چاند نہ تھا تیرے بعد بزم میں بیٹھے رہے شام سے پھر صبح تلک پر کوئی بات بھی دل کو نہ لگی تیرے بعد خوشبوئیں رستے میں ٹھہریں نہ نظارے ٹھہرے ہم نے منظر کو بھی مڑ کر نہ دیکھا تیرے بعد مسکراہٹ تو لبوں پر کئی بار آئی مگر وہ جو بےساختہ تھی، وہ نہ رہی تیرے بعد شہر سارا بھی اگر ہاتھ ملانے آ جائے مسعودؔ ہاتھ میں تنہائی رہی تیرے بعد تیرے بعد ہجر اور تنہائی کی کیفیت کو بیان کرنے والی غزل ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ محبوب کے جانے کے بعد اُس نے اپنوں کو بھی اپنا سمجھنا چھوڑ دیا۔ دل کا دروازہ ہر ایک پر بند ہو گیا۔ چاند نکلے تو دیکھتا رہا، مگر روشنی کا احساس نہ ہوا کیونکہ اصل اجالا وہی شخص تھا جو اب نہیں۔ محفلوں میں شریک تو ہوا مگر کوئی بات دل کو نہ چھو سکی۔ راستے کی خوشبوئیں اور منظر سب بے معنی ہو گئے۔ لبوں پر ہنسی کبھی آئی بھی تو وہ بے ساختہ خوشی جو پہلے تھی، وہ لوٹ کر نہ آئی۔  آخری شعر میں محمد مسعودؔ کہتا ہے کہ اب اگر سارا شہر بھی ہاتھ ملانے آ جائے، ...

منت کے دھاگے

تصویر
منت کے دھاگے جب دیکھا مطمین ہے وہ میرے بغیر تو   کھول آیا دھاگـے منت کـے درباروں سے ٹوٹا بھرم تو دل نے بھی رختِ سفر باندھا   لوٹ آئے ہم بھی اشکوں کے بازاروں سے ہر آرزو کا جنازہ اٹھایا تنہا میں نے   کفنایا خوابوں کو امید کے گلزاروں سے وہ بے نیازی سے گزرا نہ پوچھا حالِ دل   ہم ڈھونڈتے رہے اُسے یاد کے میناروں سے پوچھا انہوں نے کیوں ہو اداس اے مسعودؔ   ہم بولے لوٹ آئے ہیں ہم درباروں سے یہ غزل بے وفائی اور ٹوٹتی ہوئی امید کے کرب کو بیان کرتی ہے۔ محمد مسعود جب دیکھتا ہے کہ محبوب اس کے بغیر بھی مطمئن اور خوش ہے تو وہ مزاروں اور درباروں پر مانگی ہوئی منتیں، باندھے ہوئے دھاگے کھول آتا ہے۔ یہ عمل ہار مان لینے کا استعارہ ہے۔ دل کا بھرم ٹوٹنے پر وہ آنسوؤں کے بازار سے واپس پلٹ آتا ہے۔ ہر خواہش کا جنازہ تنہا اٹھاتا ہے اور خوابوں کو امید کے گلزار سے ہی کفن دے دیتا ہے۔ محبوب کی بے نیازی اسے مزید توڑ دیتی ہے، وہ اسے یادوں کے میناروں میں تلاش کرتا رہ جاتا ہے۔ مقطع میں محمد مسعود بتاتا ہے کہ جب محبوب نے اداسی کی وجہ پوچھی تو جواب صرف یہ تھا کہ ...

تنہائی کے سائے

تصویر
تنہائی کے سائے   درد کی شام ہے، دل بھی اداس ہے   تیری یادوں کا اک قافلہ پاس ہے   چاند نکلا تو ہم نے بھی آہیں بھریں   وہ بھی تنہا ہے، ہم سا کوئی داس ہے   خواب ٹوٹے تو آنکھوں میں رت جاگ اٹھی   زندگی سے مگر پھر بھی کچھ آس ہے   ہر تبسم کے پیچھے چھپا ہے لہو   مسکراہٹ بھی اب ایک لباس ہے   بے وفائی پہ رویا نہ شکوہ کیا   عشق والوں کا یہی تو لباس ہے   شمع جلتی رہی، رات کٹتی رہی   اور پروانہ جلنے میں ہی خاص ہے   اے مسعودؔ کس کو سنائیں دکھ اپنے   ہر طرف خود فریبی کا احساس ہے   یہ غزل تنہائی، درد اور خاموش جذبات کی گہری عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود ایک ایسی شام کا ذکر کرتا ہے جو اداسی سے بھری ہوئی ہے، جہاں دل بھی بوجھل ہے اور یادوں کا قافلہ ہمراہ چلتا محسوس ہوتا ہے۔ چاندنی رات میں بھی سکون نہیں، بلکہ تنہائی مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ ٹوٹے خواب آنکھوں میں جاگتی ہوئی راتوں کا سبب بنتے ہیں، مگر اس کے باوجود زندگی سے ایک ہلکی سی امید باقی رہتی ...

تنہائی کا سفر

تصویر
تنہائی کا سفر دل کے زخموں پہ کوئی مرہم نہیں ہوتا   درد جب حد سے بڑھے تو مدھم نہیں ہوتا رات بھر جاگ کے تکتا ہوں اندھیروں کو   اب تیرے بعد کوئی موسم نہیں ہوتا لوگ کہتے ہیں کہ صبر آ جائے گا ایک دن   زخمِ فرقت کا مگر مرہم نہیں ہوتا ہنس کے ملتے ہیں سب اپنے، پر خبر کیا ہے   ہر مسکراتے چہرے پہ غم نہیں ہوتا چاہا تھا جس کو عمر بھر کی راحت سمجھ کر   وہ بھی نکلا خواب، وہ صنم نہیں ہوتا ٹوٹے ہوئے دل سے دعا نکلی تو یہ نکلی   کوئی کسی سے یوں بچھڑ کے ختم نہیں ہوتا اشک پی لیتا ہوں چپکے سے میں مسعودؔ   درد سرِ محفل یوں رقم نہیں ہوتا یہ غزل جدائی اور اندرونی درد کی شدت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود کہتا ہے کہ دل کے گہرے زخموں کا کوئی علاج نہیں، جب تکلیف حد سے بڑھ جائے تو وہ کم بھی نہیں ہوتی۔ محبوب کے جانے کے بعد زندگی بے رنگ ہو گئی ہے، راتیں اندھیروں کو تکتے گزرتی ہیں اور کوئی موسم دل کو نہیں بھاتا۔  لوگ تسلی دیتے ہیں کہ وقت کے ساتھ صبر آ جائے گا، لیکن فراق کا دکھ ایسا ہے جس کا کوئی مرہم کارگر نہیں۔ دنیا کے سامنے مسک...