اشاعتیں

تمہیں خبر ہی نہیں

تصویر
تمہیں خبر ہی نہیں تمہیں خبر ہی نہیں، دل پہ کیا گزرتی ہے تیری جدائی میں ہر سانس بکھرتی ہے میں ہنس کے ملتا ہوں لوگوں سے آج بھی لیکن میری نگاہ میں اک شام سی اترتی ہے کبھی جو رات کے پچھلے پہر تجھے سوچوں تو چاندنی بھی میرے کمرے میں ٹھہرتی ہے وہ ایک شخص جو میرا کبھی ہوا ہی نہیں اسی کی یاد میرے ساتھ ساتھ چلتی ہے میں اپنے خواب کو سینے میں دفن کر دوں گا مگر تری یاد کہاں دل سے پھر نکلتی ہے کسی کے ہاتھ میں ہاتھ دے کے دیکھ لیا ہر ایک لمس میں اک اجنبی سی وحشت ہے عجیب عشق ہے جس کا کوئی علاج نہیں یہ پیاس بڑھتی ہے لیکن کبھی نہیں مرتی ہے مسعودؔ عشق کی قیمت بھی کیا عجب نکلی خوشی تو چھن گئی، تنہائی ہی ملتی ہے یہ غزل ایک نامکمل، یک طرفہ اور شدید عشق کی کہانی ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ محبوب کو خبر ہی نہیں کہ اس کی جدائی میں اس کے دل پر کیا قیامت گزرتی ہے، ہر سانس بکھر جاتی ہے۔ ظاہری طور پر وہ دنیا کے سامنے ہنستا مسکراتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، مگر اس کی آنکھوں میں ہر وقت ایک اداس شام اتری رہتی ہے۔ رات کے تنہا لمحوں میں جب وہ محبوب کو سوچتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے چاندنی بھی اس کے کمرے میں ٹھہر کر...

ایک ادھوری کہانی

تصویر
ایک ادھوری کہانی کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں بس ادھوری رہ جاتی ہیں۔ تحریر: محمد مسعود، نوٹنگھم، برطانیہ قسط دوم ( آخری حصہ ) انتظار بھی عجیب کیفیت ہے۔ یہ ہمیشہ دروازے پر نظریں جمائے بیٹھنے کا نام نہیں، نہ ہر انتظار میں کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے۔ بعض انتظار بہت خاموش ہوتے ہیں۔ انسان معمول کے مطابق زندگی گزارتا رہتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، ہنستا ہے، اپنے کام کرتا ہے، مگر دل کے کسی گوشے میں ایک چراغ جلتا رہتا ہے جسے نہ وہ بجھاتا ہے اور نہ اس کی روشنی کسی کو دکھاتا ہے۔ شاید کچھ انتظار انسان کی عادت بن جاتے ہیں۔ اور عادتیں جب روح میں اتر جائیں تو انہیں چھوڑنا آسان نہیں رہتا۔ لوگ اکثر کہتے ہیں کہ جو چلا گیا اسے جانے دو، زندگی کسی کے لیے نہیں رکتی، آگے بڑھنا سیکھو۔ بات بالکل درست ہے۔ مگر کہنے اور سہنے والے کے درمیان ہمیشہ ایک فاصلہ رہتا ہے۔ جس نے کسی کو ٹوٹ کر چاہا نہ ہو، اسے بھلانے کا مشورہ بہت آسانی سے دے سکتا ہے۔ جس نے رات کے سناٹے میں کسی کی یاد سے لڑائی نہ کی ہو، اسے یہ کہنا آسان لگتا ہے کہ سوچنا چھوڑ دو۔ دل اگر حکم مانتا تو دنیا میں محبت کا کوئی غم ہی نہ ہوتا۔ ہم خود سے کہتے کہ آج ...

مذہب کے نام پر تجارت

تصویر
مذہب کے نام پر تجارت فکری جمود اور مسلم معاشرے کا المیہ تحریر: محمد مسعود (نوٹنگھم، برطانیہ) اسلام بنیادی طور پر عدل، مساوات، عقل، سائنس اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کے فروغ کے لیے نازل ہوا تھا تا کہ انسان کو جہالت، ظاہری رسومات اور ہر قسم کی غلامی سے نکال کر ایک باکردار اور بااخلاق انسان بنایا جا سکے۔ لیکن آج جب ہم اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے مذہبی ڈھانچے اور سماجی رویوں پر گہری اور غیر جانبدارانہ نظر ڈالتے ہیں تو یہ تلخ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہم نے اسلام کی اصل روح کو دفن کر کے اس کی جگہ ایک انتہائی بھیانک، منافقانہ اور معاشی استحصال پر مبنی نظام قائم کر لیا ہے۔ ہماری تباہی کی سب سے بڑی وجہ وہ مذہبی نظام ہے جس نے مساجد اور مدارس کو اصلاح کا ذریعہ بنانے کے بجائے مسلکی نفرتوں، کاروبار اور فکری جمود کی دکانوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ موجودہ دور کے مدارس میں جب ایک طالب علم آٹھ سال کی طویل مدت صرف کرتا ہے، تو وہ کسی انسانیت دوست، وسیع الظرف اور صاحبِ بصیرت عالمِ دین کے روپ میں باہر نہیں نکلتا، بلکہ وہ اپنے مخصوص فرقے کا ایک کٹر اور متعصب مبلغ بن کر سامنے آتا ہے۔ اس کی پوری تربیت اس فکری نہج پر ک...

دینے والی ذات تو صرف رب کی ہے

تصویر
دینے والی ذات تو صرف رب کی ہے سندھ سے کشمیر تک عقیدت کے نام پر غلامی کی داستان تحریر: محمد مسعود نونٹگھم برطانیہ  یہ صرف سندھ کی کہانی نہیں، یہ میرے پورے پاکستان کی کہانی ہے، میرے دل کی کہانی ہے۔ یہ سندھ کے کسی ویران گوٹھ میں بیٹھی ہوئی اس ماں کی بھی کہانی ہے جس کے پاؤں میں دو پٹیوں والی سستی چپل تک نہیں، اور یہ لاہور کی بادشاہی مسجد کے سامنے بیٹھے اس پڑھے لکھے نوجوان کی بھی کہانی ہے جو ڈگری ہاتھ میں لے کر بھی ایک جعلی پیر کے سامنے جھکا ہوا ہے۔ یہ فیصل آباد کے اس مل مالک کی بھی کہانی ہے جو اپنی فیکٹری کا بونس پیر کو دے آتا ہے، اور یہ ملتان، ساہیوال، بہاولپور کے ان سادہ لوح کسانوں کی بھی کہانی ہے جو اپنی فصل کا پہلا حصہ گدی نشین کی نذر کر دیتے ہیں۔ یہ کوئٹہ، خضدار اور تربت کے ان بلوچ بھائیوں کی بھی کہانی ہے جو سردار اور پیر کے ایک ہی روپ سے ڈرے ہوئے ہیں، یہ پشاور اور سوات کے ان پختونوں کی بھی کہانی ہے جو تعویذ کو دوا سے زیادہ سچا سمجھتے ہیں، اور یہ میرے آزاد کشمیر کے مظفرآباد اور میرپور کے ان غیور لوگوں کی بھی کہانی ہے جو آج بھی درباروں پر جا کر اپنی قسمت کے فیصلے لوہے کی جالیوں سے ...

ایک ادھوری کہانی

تصویر
ایک ادھوری کہانی کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں بس ادھوری رہ جاتی ہیں۔ تحریر: محمد مسعود، نوٹنگھم، برطانیہ قسط اوّل جانے کس کس کی بد دعا کام آ گئی، کس کی نظر نے راستہ بدل دیا، یا شاید قسمت کے کاغذ پر ہمارا ساتھ اتنا ہی لکھا تھا۔ میں آج بھی اس سوال کا جواب تلاش کرتا ہوں کہ ہمارے درمیان آخر ایسی کون سی دیوار آ گئی تھی جسے ہم محبت کی تمام تر طاقت کے باوجود گرا نہ سکے۔ کبھی سوچتا ہوں دیوار حالات کی تھی، کبھی وقت کو قصور وار ٹھہراتا ہوں اور کبھی اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ شاید ہم دونوں میں سے کسی ایک نے اس رشتے کو اتنی مضبوطی سے تھاما ہی نہیں تھا جتنی مضبوطی سے دوسرے نے تھام رکھا تھا۔ جو بھی تھا، انجام یہی ہوا کہ ہوتے ہوتے وہ شخص مجھ سے بچھڑ گیا جس کے بارے میں کبھی یہ گمان تک نہ تھا کہ ایک دن اس کے بغیر بھی زندگی گزارنی پڑے گی۔ عجیب ہے یہ زندگی بھی۔ جن لوگوں کے بغیر ہم ایک لمحہ گزارنے کا تصور نہیں کر سکتے، وقت ہمیں انہی کے بغیر برسوں گزارنا سکھا دیتا ہے۔ سانس چلتی رہتی ہے، صبح ہوتی رہتی ہے، شام ڈھلتی رہتی ہے، دنیا اپنے معمول پر چلتی رہتی ہے، مگر انسان کے اندر کہیں ایک گھڑی ایسی بھی ہوتی ہے جو اسی...

درد خاموش

ہم ہنس دیے تو سب نے سمجھا کہ غم نہیں، دل سے پوچھو مسعودؔ، کیا کچھ سہہ کے خاموش ہیں۔

ٹھیک سے بچھڑنا بھی نہیں آتا

تصویر
ٹھیک سے بچھڑنا بھی نہیں آتا خود کو میرے ہی دل میں چھوڑ گئے ہو تمہیں تو ٹھیک سے بچھڑنا بھی نہیں آتا تم گئے تو ہر خوشی بھی ساتھ لے گئے اب اس اُجڑے گھر میں جینا بھی نہیں آتا سنو، ہم نے تو تمہیں بہت ٹوٹ کر چاہا تھا تمہیں تو ٹوٹ کر چاہا جانا بھی نہیں آتا روز رات ڈھلتے ہی تیری یاد بہت آتی ہے اس دلِ ناداں کو سمجھانا بھی نہیں آتا لوگ کہتے ہیں، بھلا دو اُس بے وفا کو پر ہمیں تو تمہیں بھلانا بھی نہیں آتا درد اتنا ہے کہ لفظ بھی کم پڑ گئے مسعودؔ کو اب تو رونا بھی نہیں آتا  Poet Mohammed Masood Nottingham  یہ غزل جدائی، محبت، تنہائی اور یاد کے گہرے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ محمد مسعود ایک ایسے  شخص سے مخاطب ہے جو بظاہر زندگی سے رخصت ہو چکا ہے، مگر اپنی یادیں محمد مسعود کے دل میں چھوڑ گیا ہے۔ اس شخص کے جانے کے بعد زندگی کی خوشیاں بھی جیسے ختم ہو گئی ہیں اور گھر و دل دونوں ویران محسوس ہوتے ہیں۔ محمد مسعود نے شخص کو بے حد شدت اور خلوص سے چاہا، مگر اسے یہ احساس ہے کہ شاید شخص اس محبت کی گہرائی کو کبھی سمجھ نہ سکا۔ رات کی تنہائی میں شخص کی یاد مزید شدت اختیار کرتی ہے اور دل کو سمج...