اشاعتیں

تم یاد آتے ہو

تصویر
تم یاد آتے ہو  جب چراغوں کو بجھاتا ہوں تم یاد آتے ہو خود سے تنہائی میں ملتا ہوں تم یاد آتے ہو رات خاموش ہو اور چاند اتر آئے تو پھر کھڑکیاں جب بھی کھولتا ہوں تم یاد آتے ہو کوئی خوشبو جو ترے لمس کا دھوکا دے دے سانس لیتا ہوں تو بے ساختہ تم  یاد آتے ہو لوگ کہتے ہیں کہ وقت زخم مٹا دیتا ہے وقت گزرتا ہے تو بہت زیادہ تم یاد آتے ہو ایک تصویر چھپا رکھی ہے دل میں اب تک اس کو اشکوں سے جو پڑھتا ہوں تم یاد آتے ہو کتنی کوشش کی ترے بعد سنبھلنے کی مگر جب بھی ہنستا ہوں تو اندر سے تم یاد آتے ہو کوئی پوچھے کہ محبت کا صلہ کیا پایا نام لیتا نہیں، چپ رہتا ہوں تم یاد آتے ہو مسعود کی آنکھوں میں کہاں نیند رہی رات ڈھلتی ہے تو بے حد تم یاد آتے ہو یہ غزل ایک ایسے شخص کے گہرے احساسات کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے محبوب سے بچھڑ چکا ہے، مگر اس کی یادیں آج بھی اس کی زندگی کے ہر لمحے میں موجود ہیں۔ تنہائی، خاموش رات، چاندنی، کھلی کھڑکیاں اور جانی پہچانی خوشبو اسے بار بار محبوب کی یاد دلاتی ہیں۔ محمد مسعود وقت کے بارے میں اس عام خیال کو رد کرتا ہے کہ وقت ہر زخم کو بھر دیتا ہے، کیونکہ یہاں گزرتا ہوا وقت ج...

تیری یادوں کی خوشبو

تصویر
تیری خوشبو کے موسم چاندنی رات تھی، تُو بھی قریب آیا تھا دل نے پہلی ہی نظر میں تجھے اپنایا تھا تیری آنکھوں میں عجب سا کوئی جادو دیکھا میں نے ہر خواب کو پلکوں پہ سجایا تھا تیری باتوں کی مہک آج بھی سانسوں میں ہے جیسے گلشن میں کوئی پھول کھلایا تھا تیرے لمس کی حرارت ابھی باقی ہے مجھ میں جیسے برفوں کو کسی نے بھی پگھلایا تھا تو جو ہنستا ہے تو لگتا ہے بہار آتی ہے تو جو روٹھے تو زمانہ بھی خفا پایا تھا رات تنہائی میں جب تیرا خیال آتا ہے میں نے خود کو تیری بانہوں میں سمایا تھا عشق میں ڈوب کے جینا ہی مزہ دیتا ہے یہ سبق تُو نے ہی مسعودؔ کو سکھایا تھا یہ غزل محبت کے ایک لطیف اور خوشبودار احساس کی عکاسی کرتی ہے جس میں شاعر محمد مسعود اپنے محبوب کے ساتھ گزارے گئے حسین لمحات کو یاد کرتا ہے۔ چاندنی رات میں پہلی ملاقات کا منظر دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتا ہے اور پہلی نظر کی چاہت عمر بھر کا رشتہ بن جاتی ہے۔ محبوب کی آنکھوں کا جادو، باتوں کی مہک اور لمس کی حرارت شاعر محمد مسعود کے وجود میں آج بھی زندہ ہیں۔ وہ محبوب کی مسکراہٹ کو بہار سے تشبیہ دیتا ہے اور اس کی ناراضی کو پورے زمانے کی اداسی س...

جدائی کا قصور

تصویر
جدائی کا قصور وہ مجھے تنہائی کے سپرد چھوڑ گیا میرے سارے خواب بکھیر کر چھوڑ گیا پہلے کہتا تھا کہ تو ہی میری دنیا ہے پھر وہی دنیا اجاڑ کر چھوڑ گیا ہاتھ تھاما تھا جس نے عمر بھر کے لیے وہ بیچِ راہ میں ہی ہاتھ چھوڑ گیا ہم نے دل میں بسایا تھا اسے خدا کی طرح وہ شخص بت کی طرح دل توڑ کر چھوڑ گیا رات بھر جلتے رہے اس کی یاد کے چراغ وہ صبح ہوتے ہی سبھی بجھا کر چھوڑ گیا لوگ کہتے ہیں محبت میں سکون ملتا ہے وہ مجھے ہجر کا طوفان دے کر چھوڑ گیا اے مسعود! اب کس سے کریں شکوہ اس کا وہ ہمیں زندہ لاش بنا کر چھوڑ گیا یہ غزل ایک ٹوٹے ہوئے دل کی داستان ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ اس کا محبوب اسے تنہائی کے حوالے کر کے اور اس کے سارے خواب بکھیر کر چلا گیا ہے۔ وہ شخص جو کبھی اسے اپنی پوری دنیا کہتا تھا، آج وہی دنیا اجاڑ کر چھوڑ گیا۔ جس نے عمر بھر ساتھ نبھانے کے لیے ہاتھ تھاما تھا، اس نے بیچ راستے میں ہی ساتھ چھوڑ دیا۔ محمد مسعود نے اسے خدا کی طرح دل میں بسایا تھا مگر اس نے بت کی طرح بے رحمی سے دل توڑ دیا۔ محمد مسعود کی راتیں اس کی یاد میں جلتے چراغوں کی طرح گزرتی ہیں جنہیں محبوب صبح ہوتے ہی بجھا دیتا ہے۔...

جانے والے کے نام

تصویر
جانے والے کے نام چلا گیا تو دل کی ہر خوشی بھی لے گیا وہ میرے خواب، میری زندگی بھی لے گیا بہت کہا تھا، دل توڑ کر نہ جانا تم وہ ہنس کے میری لبوں کی ہنسی بھی لے گیا گلی میں آج بھی تیرے قدموں کی صدا ہے ہوا کا جھونکا تیری خوشبو بھی لے گیا چراغ جلتے رہے تیری راہوں میں رات بھر سحر ہوئی تو جیسے روشنی بھی لے گیا وفا کا ذکر کیا تو وہ خفا سا ہو گیا جو بات کی تو میری خامشی بھی لے گیا یہ دل ابھی بھی منتظر ہے، لوٹ آئے شاید وہ جانے والا میری آخری آس بھی لے گیا چلو مسعودؔ، اب صبر کا دامن تھام لو وہ جس کو چاہا تھا، وہی بے بسی بھی دے گیا یہ غزل ایک ٹوٹے ہوئے دل کی فریاد ہے جو اپنے محبوب کے چلے جانے پر لکھی گئی ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ جانے والے کے ساتھ ہی اس کی ساری خوشیاں، خواب اور زندگی بھی چلی گئی ہے۔ اس میں اس لمحے کا درد بیان کیا گیا ہے جب محبوب کو روکا بھی گیا کہ دل نہ توڑو، مگر وہ ہنستے ہوئے چلا گیا اور ہنسی تک چھین لی۔ آج بھی اس کی گلی میں قدموں کی آہٹ محسوس ہوتی ہے اور ہوا کا ہر جھونکا اس کی کمی کا احساس دلاتا ہے۔ محمد مسعود رات بھر اس کی راہوں میں چراغ جلاتا رہا لیکن صبح ہوتے ہی و...

خود گرنے والے پتے

تصویر
خود گرنے والے پتے ہم نے اپنی زندگی سے کسی کو نہیں نکالا، جو پتے خراب تھے، وہ خود ہی گر گئے۔ ہم نے تو ہر رشتے کو محبت کی دھوپ دی، ہر تعلق کو خلوص کا پانی دیا، مگر کچھ شاخوں پر ٹھہرنے کے لیے پتے نہیں، وفا چاہیے ہوتی ہے۔ وقت گزرا تو حقیقت کھلتی گئی، کچھ چہرے موسموں کی طرح بدلتے گئے، کچھ رشتے بوجھ بن گئے، اور کچھ لوگ خاموشی سے دور ہوتے گئے۔ ہم نے کسی کو روکا نہیں، کسی کو بد دعا نہیں دی، بس اتنا سمجھ لیا کہ درخت کبھی اپنے پتوں کو نہیں گراتا، جب موسم بدلتا ہے تو جو پتے کمزور ہوں، وہ خود ہی شاخ چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم آج بھی اپنی جگہ قائم ہیں، نہ کسی کے جانے کا شکوہ ہے، نہ کسی کے لوٹ آنے کی خواہش۔ کیونکہ زندگی نے ایک بات بہت خوب سکھا دی ہے: ہر جانے والا نقصان نہیں ہوتا، کچھ لوگ صرف اس لیے جاتے ہیں تا کہ ہماری زندگی میں نئے موسم کے لیے جگہ بن سکے یہ نظم اس تلخ مگر پر سکون حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ زندگی سے ہم نے کسی کو زبردستی نہیں نکالا، بلکہ جو رشتے کمزور، مطلبی یا بے وفا تھے وہ خود ہی وقت کے ساتھ جھڑ گئے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ اس نے ہر تعلق کو محبت، خلوص اور وفا کی دھوپ اور پانی دیا، ل...

میرا میرپور 1990 سے 2026 تک

تصویر
میرا میرپور 1990 سے 2026 تک کبھی کبھی انسان ہزاروں میل دور بیٹھا ہوتا ہے، مگر اس کا دل آج بھی اپنے گاؤں کی کسی گلی، کسی درخت، کسی بازار یا کسی پرانی یاد میں اٹکا رہتا ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ چھتیس سال پہلے، 1990 میں، جب میں نے میرپور، آزاد کشمیر کی سرزمین چھوڑی، تو میرے قدم ضرور برطانیہ کی طرف بڑھ گئے تھے، مگر میرا دل وہیں رہ گیا تھا۔ میں بھی ان ہزاروں نوجوانوں میں شامل تھا جنہوں نے بہتر مستقبل، روزگار اور اپنے خاندان کی خوشحالی کے خواب آنکھوں میں سجائے پردیس کا رخ کیا تھا۔ اس وقت دل میں صرف ایک ہی امید تھی کہ جب برسوں بعد اپنے شہر کی طرف دیکھوں گا تو میرپور ترقی کی نئی منزلیں طے کر چکا ہو گا۔ سوچتا تھا کہ ہمارے بزرگوں کی منگلا ڈیم کی قربانیوں کا صلہ اس شہر کو ضرور ملے گا، اوورسیز کشمیریوں کی محنت اور محبت سے یہ شہر خوشحالی کی مثال بن جائے گا، اور ہماری آنے والی نسلیں ایک روشن مستقبل میں سانس لیں گی۔ لیکن..۔۔۔۔ آج 2026 میں، جب چھتیس سال بعد میں اپنے میرپور کو دیکھتا ہوں، تو دل پر ایک ایسا بوجھ اتر آتا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ یہ صرف ایک شہر کی کہانی نہیں، بلکہ ا...

پرانی یادوں کی خوشبو

تصویر
پرانی یادوں کی خوشبو وہ پرانے دن وہ باتیں وہ زمانہ یاد ہے دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر، دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے اس غزل کا مرکزی خیال یادوں کی طاقت اور ان کی نہ مٹنے والی خوشبو ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ بظاہر وقت بہت آگے نکل گیا ہے، گلیاں بدل گئیں، چہرے بچھڑ گئے، مگر دل آج بھی اسی پرانے زمانے میں اٹکا ہوا ہے۔ وقت کی آندھی باہر کی دنیا کے سارے نقش تو مٹا سکتی ہے، لیکن دل کی دیوار پر بنا ہوا محبوب کا ٹھکانہ نہیں مٹا سکتی۔ انسان خود کو یہ دلاسہ دیتا ہے کہ وہ بھول جائے گا، مگر زندگی کے ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی بہانہ اسے پھر اسی یاد میں لے...