اشاعتیں

How is Mohammed Masood

تصویر
Muhammad Masood: A Renowned Writer and Entrepreneur Based in Nottingham, UK Muhammad Masood is a multifaceted personality with a distinguished reputation in both the literary and business sectors. His journey reflects a perfect balance between creative expression and professional excellence. 1. Literary Identity (Poet & Columnist) Muhammad Masood is an accomplished poet, short story writer, and columnist. His literary portfolio includes a rich collection of poems, stories, and insightful articles on various social and intellectual themes. His work is celebrated for its deep observational quality and a profound connection to his cultural roots. 2. Background and Heritage Originally hailing from the famous village of Rathoa Muhammad Ali in the Mirpur district of Azad Kashmir, his heritage plays a vital role in his creative life. The essence of his homeland is vividly reflected in his writings, offering readers a window into Kashmiri culture, traditions, and values. 3. Professional Li...

How is Mohammed Masood

تصویر
جواب: محمد مسعود (برطانیہ میں مقیم کشمیری ادیب اور کاروباری شخصیت) ​محمد مسعود ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں، جن کی پہچان ادب اور کاروبار دونوں شعبوں میں یکساں طور پر مستحکم ہے۔ ان کے بارے میں تفصیلی معلومات درج ذیل ہیں: ​1. ادبی پہچان (شاعر اور کالم نگار): محمد مسعود ایک منجھے ہوئے شاعر، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ ان کی تحریروں میں نظمیں، کہانیاں اور مختلف سماجی و فکری موضوعات پر آرٹیکلز شامل ہیں۔ ان کا کلام اور نثر ان کی گہری مشاہداتی حس اور اپنی مٹی سے محبت کا عکاس ہے۔ ​2. پس منظر اور جائے پیدائش: ان کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع میرپور کے مشہور گاؤں رٹھوعہ محمد علی سے ہے۔ اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کا رنگ ان کی تخلیقات میں نمایاں نظر آتا ہے، جو قارئین کو کشمیری ثقافت اور اقدار سے روشناس کرواتی ہیں۔ ​3. پیشہ ورانہ زندگی (برطانیہ): محمد مسعود طویل عرصے سے نوٹنگھم، برطانیہ میں مقیم ہیں۔ پیشہ ورانہ طور پر وہ برطانیہ میں اپنا ٹرانسپورٹ کا کاروبار (Transport Business) کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ وہ ایک کامیاب بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی کمیونٹی میں ایک باوقار مقام رکھتے ہیں۔ ​4. رابطہ اور رسا...

How is Mohammed Masood from Nottingham

تصویر
Mohammed Masood Nottingham – Urdu Poet Name: Mohammed Masood Nottingham Also Known As: M Masood Nottingham UK Born: Rathua Muhammad Ali, Mirpur, Azad Kashmir, Pakistan Residence: Nottingham, United Kingdom Occupation: Urdu Poet, Writer, Blogger Language: Urdu Genres: Ghazal, Poetry, Prose Themes: Migration, Love, Homeland Nostalgia, Spirituality, Social Reflection Biography: Mohammed Masood Nottingham is a contemporary Urdu poet living in Nottingham, UK. He originally hails from Mirpur, Azad Kashmir, and has become known for his evocative ghazals and reflective poetry. His work captures the emotional depth of migration, longing for homeland, love, and spiritual contemplation. Masood’s poetry combines classical Urdu traditions with accessible language, making it appealing to a wide readership. He actively shares his work online via literary platforms and his personal blog, “M Masood Nottingham UK,” reaching Urdu readers worldwide. Online Search Keywords: Mohammed Masood Nottingham Moham...

فریبِ بندگی

تصویر
فریبِ بندگی ​تمہاری یاد کی وہ پرانی سی ایک ایک بات رُلا دیتی ہے ​ہمیں تو تنہائی میں اب گزری ہوئی ہر رات رُلا دیتی ہے ​بڑے ہی حوصلے سے جیتے ہیں ہم اس جہاں کے اندر ​مگر کبھی اپنوں کی دی ہوئی وہ ایک مات رُلا دیتی ہے ​خوشی کے رنگ میں بھی چھپا ہوتا ہے ایک گہرا غم ​کبھی کبھی تو ہمیں خوشیوں کی یہ برسات رُلا دیتی ہے ​سنا ہے پتھروں کے سینے میں بھی تو ایک دل ہوتا ہے ​مگر ہمیں تو انسانوں کی لکھی ہوئی اوقات رُلا دیتی ہے ​بہت ہی ضبط سے جیتا ہے زمانے میں یہ مسعود لیکن ​اسے تو مخلص لوگوں کی بس چھوٹی سی بات رُلا دیتی ہے ​ یہ نظم "فریبِ بندگی" انسانی احساسات، تنہائی، دکھ اور باطنی کرب کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود ماضی کی یادوں کو ایسا بوجھ قرار دیتا ہے جو ہر لمحہ آنکھیں نم کر دیتا ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ بظاہر مضبوط حوصلے کے ساتھ زندگی گزارنے کے باوجود اپنوں کی دی ہوئی شکست اور بے رخی دل کو گہرے زخم دیتی ہے۔ خوشیوں کی چمک میں بھی ایک پوشیدہ غم موجود ہے جو کبھی کبھی شدت سے محسوس ہوتا ہے۔ شاعر محمد مسعود انسانی رویّوں کی سنگدلی پر افسوس کرتا ہے اور کہتا ہے کہ پتھروں میں بھی دل ہ...

تیری خوشبو کے موسم

تصویر
تیری خوشبو کے موسم چاندنی رات تھی، تُو بھی قریب آیا تھا دل نے پہلی ہی نظر میں تجھے اپنایا تھا تیری آنکھوں میں عجب سا کوئی جادو دیکھا میں نے ہر خواب کو پلکوں پہ سجایا تھا تیری باتوں کی مہک آج بھی سانسوں میں ہے جیسے گلشن میں کوئی پھول کھلایا تھا تیرے لمس کی حرارت ابھی باقی ہے مجھ میں جیسے برفوں کو کسی نے بھی پگھلایا تھا تو جو ہنستا ہے تو لگتا ہے بہار آتی ہے تو جو روٹھے تو زمانہ بھی خفا پایا تھا رات تنہائی میں جب تیرا خیال آتا ہے میں نے خود کو تیری بانہوں میں سمایا تھا عشق میں ڈوب کے جینا ہی مزہ دیتا ہے یہ سبق تُو نے ہی "مسعودؔ" کو سکھایا تھا یہ غزل محبت کے ایک لطیف اور خوشبودار احساس کی عکاسی کرتی ہے جس میں شاعر محمد مسعود اپنے محبوب کے ساتھ گزارے گئے حسین لمحات کو یاد کرتا ہے۔ چاندنی رات میں پہلی ملاقات کا منظر دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتا ہے اور پہلی نظر کی چاہت عمر بھر کا رشتہ بن جاتی ہے۔ محبوب کی آنکھوں کا جادو، باتوں کی مہک اور لمس کی حرارت شاعر محمد مسعود کے وجود میں آج بھی زندہ ہیں۔ وہ محبوب کی مسکراہٹ کو بہار سے تشبیہ دیتا ہے اور اس کی ناراضی کو پورے زمان...

خاموش راز

تصویر
کسی کو کیا خبر ہے دل پہ کیا گزری ہوئی ہے میں ہنستا ہوں مگر آنکھوں میں ایک نمی چھپی ہوئی ہے میرے اور میرے رب کے سوا کون جانے حالِ دل یہ کیسی آگ ہے جو روح میں جلی ہوئی ہے اپنوں کی محفلوں میں بھی تنہا کھڑا ہوں میں میرے نصیب میں شاید یہ خاموشی لکھی ہوئی ہے لبوں پہ ذکرِ شکر ہے، دل میں طوفان بے کنار یہ زندگی بھی کیسی آزمائش بنی ہوئی ہے ہر ایک چہرہ ملا، پر سکونِ دل نہ مل سکا ہر ایک خوشی بھی جیسے ادھوری رچی ہوئی ہے مسعودؔ اپنے درد کو اشعار میں ڈھال دے یہی دوا ہے جو تجھے رب نے عطا کی ہوئی ہے                         شاعر محمد مسعود نوٹنگھم یو کے  یہ غزل انسان کے باطنی احساسات، تنہائی اور دل کے پوشیدہ دکھوں کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود بیان کرتا ہے کہ اس کی زندگی میں جو کچھ گزر رہا ہے، اس سے کوئی واقف نہیں، یہاں تک کہ اس کے اپنے بھی اس کے حالِ دل سے بے خبر ہیں۔ وہ ظاہری طور پر خوش اور مطمئن دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے اندر دکھ، اداسی اور بے سکونی چھپی ہوئی ہے۔ شاعر محمد مسعود اپنے رب کو ہی وہ ہستی مانتا ہے جو اس کے دل ...

حصارِ خاموشی

تصویر
ہر ایک شخص مجھے اب جدا دکھائی دیتا ہے ہجوم میں بھی کوئی تنہا دکھائی دیتا ہے کسی کے ہاتھ میں اب روشنی نہیں باقی ہر ایک دل مجھے بجھا دکھائی دیتا ہے وہ کون ہے جو زمانے سے بچ کے چلتا ہے ہر ایک شخص یہاں ڈرا دکھائی دیتا ہے عدالتوں میں بھی سچ کی صدا دبائی گئی ہر ایک لب مجھے سہما دکھائی دیتا ہے ہوا میں زہر ہے نفرت کا اس قدر پھیلا ہر ایک شہر مجھے جلتا دکھائی دیتا ہے یہ کس مقام پہ لا کر کھڑا کیا ہم کو ہر ایک رشتہ مجھے ٹوٹا دکھائی دیتا ہے میں اپنے گھر میں بھی خود کو مسافر پاتا ہوں ہر ایک کمرہ مجھے صحرا دکھائی دیتا ہے کسی کی یاد کا موسم نہیں اترتا ہے یہ دل بھی اب مجھے پیاسا دکھائی دیتا ہے کلام کرتے ہوئے دل اداس رہتا ہے مسعودؔ خود بھی مجھے تنہا دکھائی دیتا ہے یہ نظم “حصارِ خاموشی” معاشرتی تنہائی، خوف اور انسانی رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود موجودہ دور کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے جہاں انسان ہجوم میں رہتے ہوئے بھی تنہا محسوس کرتا ہے۔ لوگوں کے دلوں سے محبت اور روشنی ختم ہو چکی ہے اور ہر طرف خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کا ماحول نظر آتا ہے۔ شاعر محمد مسعود اس بات پر افسوس ...