تم یاد آتے ہو
تم یاد آتے ہو جب چراغوں کو بجھاتا ہوں تم یاد آتے ہو خود سے تنہائی میں ملتا ہوں تم یاد آتے ہو رات خاموش ہو اور چاند اتر آئے تو پھر کھڑکیاں جب بھی کھولتا ہوں تم یاد آتے ہو کوئی خوشبو جو ترے لمس کا دھوکا دے دے سانس لیتا ہوں تو بے ساختہ تم یاد آتے ہو لوگ کہتے ہیں کہ وقت زخم مٹا دیتا ہے وقت گزرتا ہے تو بہت زیادہ تم یاد آتے ہو ایک تصویر چھپا رکھی ہے دل میں اب تک اس کو اشکوں سے جو پڑھتا ہوں تم یاد آتے ہو کتنی کوشش کی ترے بعد سنبھلنے کی مگر جب بھی ہنستا ہوں تو اندر سے تم یاد آتے ہو کوئی پوچھے کہ محبت کا صلہ کیا پایا نام لیتا نہیں، چپ رہتا ہوں تم یاد آتے ہو مسعود کی آنکھوں میں کہاں نیند رہی رات ڈھلتی ہے تو بے حد تم یاد آتے ہو یہ غزل ایک ایسے شخص کے گہرے احساسات کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے محبوب سے بچھڑ چکا ہے، مگر اس کی یادیں آج بھی اس کی زندگی کے ہر لمحے میں موجود ہیں۔ تنہائی، خاموش رات، چاندنی، کھلی کھڑکیاں اور جانی پہچانی خوشبو اسے بار بار محبوب کی یاد دلاتی ہیں۔ محمد مسعود وقت کے بارے میں اس عام خیال کو رد کرتا ہے کہ وقت ہر زخم کو بھر دیتا ہے، کیونکہ یہاں گزرتا ہوا وقت ج...