لوگ اکثر پُوچھتے ہیں مُجھ سے میں شاعر کیسے بنا
لوگ اکثر پُوچھتے ہیں مُجھ سے میں شاعر کیسے بنا محمد مسعود میڈوز نوٹنگھم یو کے کبھی کبھی لوگ اکثر پُوچھتے ہیں مُجھ سے میں شاعر کیسے بنا ہو تو پڑ جاتا ہوں گہری سوچ میں سمجھا نہیں سکتا زندگی اور جنون کے تنگ رستوں پر اُنہیں لے جا نہیں سکتا جزیرے کی فصیلیں ڈھا نہیں سکتا وہ اندر جا نہیں سکتے اور میں باہر آنہیں سکتا مگر جی چاہتا ہے پُوچھنے والوں سے یہ پُوچھوں کبھی تنہائی کا کربِ مسلسل تم نے جَھیلا ہے کیا بنا کر سوچ کو نِشتر کبھی یادوں سے کھیلا ہے کیا سجایا شب کی خِلوت میں کبھی زخموں کا میلہ ہے کیا کبھی گَنے کی طرح پیلنے میں خود کو پَیلا ہے کیا اکیلے میں کبھی خود سے مسلسل گُفتگو کی ہے آپ نے نَمی اشکوں کی چائے میں کبھی گھولی کبھی پی ہے آپ نے کبھی چَرکا لگا جس ہاتھ سے، اُس کو دُعا دی ہے آپ نے بشاشت کی سجیلی اوڑھنی پھاڑی کبھی سِی ہے آپ نے خزاں رُت کی اُداسی ،دل کے آنگن میں اُتاری ہے کبھی کبھی جیتی ھوئی بازی لبِ خنداں سے ہاری ہے کبھی چاہت سے کی سوزِ نہاں کی آبیاری ہے تنہائی عُمر کی اپنے گلے لگ کر گُزاری ہے کبھی کبھی غم پر درد کے چہرے بنائے ہیں آپ نے کبھی تیرہ شبوں میں شعر لکھ کر گُنگنا...