سنو سال تو بدلتا رہے گا
یہ تو اپنے وجود سے ہی انقلاب کے دامن میں سکونت پذیر ہے جی ہاں یہاں ہر چیز تغیر پذیر ہیں آج حالات کچھ اور ہیں تو کل پرسوں/ نرسوں کچھ اور ہوں گے ساری چیزیں انتقال کی لچک سے ہم آہنگ ہیں انسان سے لیکر چرند و پرند تک حتہ کہ عیسوی اور ہجری کے کیلینڈر کے مطابق دن مہنے اور سال بھی بدلتے رہتے ہیں گھڑی کی سوئیاں ہر روز مکمل چوبیس گھنٹے تک چکر کاٹنے کے بعد ہمیں ایک نئے دن سے ملاقات کراتی ہیں اور ہم اس دن کے دامن میں پناہ لے کر کار ہائے حیات کی تکمیل میں جٹ جاتے ہیں یہ وہ نظام ہے جو ابتدائے آفرینش سے چلتا چلا جا رہا ہے آج تک نہ اس میں تبدیلی ہوئی ہے اور نہ کبھی ہو گی ہاں جب میرا پرورد گار حقیقی چاہے تو قیامت آئے گی اور سوائے ذات باری تعالی کے ہر چیز نست و ناہبود ہو جائیں گی ہم اس دنیاوی زندگی میں یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہاں ہر بارہ مہنے پر سال بھی بدلتا رہتا ہے اگرچہ وہ ہجری کے اعتبار سے ہو یا عیسوی کے اعتبار سے پر بدلتا ضرور ہے ایسے موقعوں پر ہماری تہذیب اور پرانی ریت یہی رہی ہے کہ ہم ایک نئے سال کی آمد کی خوشی میں ایک دوسرے کو مبارکبادیاں پیش کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ دعا بھی دیتے ہیں کہ آ...