اشاعتیں

نومبر, 2015 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

صدقے جاؤں

تصویر
صدقے جاؤں مُجھ بیمار سے کہتے ہیں پڑے رہو اور لوگوں سے پوچھتے ہیں کیسا ہے مسعود محمد مسعود نونٹگھم یو کے

طعنہ

تصویر
کمال کا طعنہ دیا ہے آج کسی نے مسعود  اگر وہ تیرا ہے تو تیرے پاس کیوں نہیں محمد مسعود نونٹگھم یو کے 

خوش رہو اور لمبی زندگی پاؤ

تصویر
خوش رہو اور لمبی زندگی پاؤ  محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے بظاھر میں یہ ایک   دعا   ہے کہ ہمیشہ خوش رہو اور لمبی زندگی پاؤ . جگ جگ جیو .. ہمیشہ مسکراتے رہو .. لیکن حقیقت میں اگر کوئی بندہ اس پر عمل کرتا ہے یا اسے اس دعا کا اثر ہو جاتا ہے . تو سچ میں ہی اس کی  زندگی   میں اضافہ ہو جاتا ہے . اس بات کی تحقیق آج کی سائنس نے بھی کر دی ہے . ایک نئی تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے ہے ہے کہ کوئی بھی خوشی   انسان  کی زندگی میں اضافہ کر دیتی ہے . انسان کو خوشی اس کی عمر میں ٧ سے ١٠ سال تک کا اضافہ کر دیتی ہے  یہ تحقیق ہالینڈ کے ایک  سائنس دان  نے دی ہے . اس نے اس قسم کی تحقیق پر ایک بہت وقت گزارا ہے اور اس کے بعد اسے نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کے انسان کو کوئی بھی خوشی کی اس کی زندگی میں اضافہ کا سبب بنتی ہے لیکن ابھی اس بات پر تحقیق جاری ہے کہ ایسا کیوں اور کیسے ہوتا ہے ؟ یعنی کے انسان کو کوئی بھی خوشی تو مل جاتی ہے لیکن وہ خوشی اس پر کیسے عمل کرتی ہے . اسے کس طرح اس کی عمر میں اضافہ کا سبب بنتی ہے ایک طرف تو یہ تقیق ہو چکی ہے کے خوشی انسان کی زندگی...

یادیں

تصویر
یادیں کیوں نہیں بچھڑ جاتی مسعود  لوگ تو پل  بھر میں  بچھڑ جاتے ہیں  محمد مسعود نونٹگھم یو کے

تنہائی

تصویر
بتاؤ مُجھے میں تنہائی کو تنہائی میں تنہا کیسے چهوڑ دوں  اس تنہائی نے تنہائی میں تنہا میرا ساتھ  دیا ہے مسعود  محمد مسعود نونٹگھم یو کے

اُبلا انڈا

تصویر
اُبلا انڈا  محمد مسعود نونٹگھم یو کے یہ واقع تقریباً 1988 کا ہے اور نومبر یا دسمبر تھا پوری سردی آدھے کپڑے  اِک غربت کا مارا بچہ  اُبلے انڈے بیچ رہا تھا  ٹھٹھری ہوئی آواز جب اُس کی  میری کار کے اندر آئی  میں جو اِس پوری سردی میں  پورے کپڑے پہنے اپنی  کار کے ہیٹر کے آگے تھا  میں نے بھی اِک اُبلا انڈا  گرم فضا میں بیٹھ کے کھایا  جو اُس پیارے سے بچے نے  سرد ہوا میں سڑک کنارے بیٹھے اور اپنے  کانپتے ہوئے ہاتھوں سے چھیلا تھا  پیسے دیتے دیتے میں نے  اُس بچے کو غور سے دیکھا  پوری سردی آدھے کپڑے  اُف  نیلے ہونٹوں والا بچہ  سرد ہوا میں کانپ رہا تھا  بچپن اُس کا ہانپ رہا تھا  میں نے اُس کی حالت دیکھی اور کہا کہ بیٹا تم بھی  اِیک انڈہ کھا لو تو کیا ہے   وہ بولا کہ توبہ انکل  بیس روپے کا مہنگا انڈہ  میں کیسے کھا سکتا ہوں 

اچھے لوگ

تصویر
کل رات انٹرنیٹ نہیں چل رہا تھا تو میں اپنے گھر والوں کے پاس  جا کر بیٹھ گیا اچھے لوگ ہیں یارو وہ بھی محمد مسعود نونٹگھم یو کے

میں افسانے اور شعر و شاعری کیونکر لکھتا ہوں

تصویر
میں افسانے اور شعر و شاعری کیونکر لکھتا ہوں تحریر محمد مسعود نونٹگھم یو کے معزز خواتین و حضرات! مجھ سے کہا گیا ہے کہ میں یہ بتائوں کہ میں افسانہ اور شعر و شاعری کیونکر لکھتا ہوں۔ یہ ’کیونکر‘ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ ’کیونکر‘ کے معانی لغت میں تو یہ ملتے ہیں۔ کیسے اور کس طرح۔ اب آپ کو کیا بتائوں کہ میں افسانہ اور شعر و شاعری کیونکر لکھتا ہوں۔ یہ بڑی الجھن کی بات ہے۔ اگر میں ’کس طرح‘ کو پیش نظر رکھوں۔ تو یہ جواب دے سکتا ہوں کہ اپنے کمرے میں صوفے پر بیٹھ جاتا ہوں۔ کاغذ قلم پکڑتا ہوں اور بسم اللہ کر کے افسانے لکھنا شروع کر دیتا ہوں۔ میرے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی  بیٹی لندن اور بیٹا جسکا نام وقاص مسعود میرے پاس ۔ میں اِس سے باتیں بھی کرتا ہوں لڑائی بھی اور کبھی کبھی باہم لڑائیوں کا فیصلہ بھی کرتا ہوں، اپنے لیے چائے ’سلاد‘ کھانا وغیرہ وغیرہ جو بھی پسند ہو تیار کرتا ہوں، اگر کوئی ملنے والا آ جائے  تو اس کی خاطر داری بھی کرتا ہوں۔ مگر افسانے اور شاعری بھی اپنے ذہین میں لکھے جاتا ہوں۔ اور ساتھ ساتھ سوچتا بھی جاتا ہوں  اب کیسے ‘ کا سوال آئے تو میں یہ کہوں گا کہ میں ویسے ہی اف...

دُکھوں کی چادر جفا کا تکیہ

تصویر
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﺅ  ﺍﻭﺭ ﺁ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ  ﻧﻈﺎﺭﮦ ﻣﯿﺮﯼ  ﺁﺭﺍﻡ ﮔﺎﮦ ﮐﺎ  ﮨﺠﺮ ﮐﺎ ﺑﺴﺘﺮ  ﺩﮐﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﺟﻔﺎ ﮐﺎ ﺗﮑﯿﮧ ﻧﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﺁئے ﻧﮧ ﭼﯿﻦ ﺁﮰ ﺳﻠﮕﺘﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺩﮨﮑﺘﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺟﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﻭﮦ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﮰ ﺗﮭﮑﻦ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﺟﻠﻦ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﺍﺩﮬﻮﺭﮮ ﭘﻦ ﮐﯽ ﭼﺒﮭﻦ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮐﺎﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﻧﮧ ﮐﺎﺭ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺬﺭ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﻋﺠﯿﺐ ﺁﺗﺶ ﻓﺸﺎﮞ ﺳﯽ ﮨﻠﭽﻞ ﺣﺒﺲ ﮐﯽ ﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﻨﮧ ﺑﺎﺩﻝ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﮨﮯ ﺧﺎﻣوشی ﮨﮯ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﮨﮯ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﯾﻮﮞ  ﺭﺍﺕ ﮔﺬﺭﮮ ﺳﻮﯾﺮ ﮐﺎ ﺟﺐ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺷﺐ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮨﻮﮔﺎ  محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے

محبت میں جو ڈوبا

تصویر
محبت میں جو ڈوبا ہو اسے ساحل سے کیا لینا دینا  مسعود کسے اس ہجر میں جا کر کنارہ یاد رہتا ہے محمد مسعود نونٹگھم یوکے

درد کی دولت

تصویر
دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا رب میرا اپنا ہی بھلا ہو مُجھے منظور نہیں  DARD KI DAULAT Doston ko bhi mile dard ki daulat ya rab, Mera apna hi bhalla ho mujhe manzuur nahin محمد مسعود نونٹگھم یو کے

مریض کتنے تڑپتے ہیں

تصویر
مریض کتنے تڑپتے ہیں ایمبولینسوں میں اور انکا حال ہے ایسا کہ مرنے والے ہیں  مگر پولیس نے ٹریفک کو روک رکھا ہے یہاں سے قوم کے خادم گزرنے والے ہیں  محمد مسعود نونٹگھم یوکے

مصروف زندگی

تصویر
اے زندگی------------صرف اتنا بتا مُجھے یہ مصروف لوگ میرے جنازے پر تو آئیں گے نا محمد مسعود نونٹگھم یوکے

کفن بھی کیا چیز ہے

تصویر
کفن بھی کیا چیز ہے  جس نے بنایا اُس نے بیچ دیا خریدنے والے نے استعمال ہی نہ کیا  اور جس نے استعمال کیا  اُسے معلوم ہی نہیں محمد مسعود نونٹگھم یوکے 

اپنی پروفائل پر فرانس کا جھنڈا ہی کیوں

تصویر
اپنی پروفائل پر فرانس کا جھنڈا ہی کیوں  میں دہشت گردی کی مزمت کرتا ہوں لیکن میں آپ سب کی طرح اپنی پروفائل تصویر کو فرانس کے جھنڈے میں نہیں رنگنا چاہتا میں نے اگر ایسا کرنا ہے تو مجھے سب سے پہلے  پاکستان کشمیر  لبنان  فلسطین  شام  عراق  مصر  افغانستان  کے جھنڈوں کو یاد کرنا ہو گا یہ سب ملک بھی بدترین دہشت گردی کا شکار ہیں یہاں بھی قتل و غارت ہو رہی ہے لیکن کسی نے بھی ان ممالک کے جھنڈے پروفائل پر لگا کر انہیں سپورٹ نہین کیا کیا صرف اس لیے کہ یہ مسلم ممالک تھے فرانس کا جھنڈا لگا کر اس کی مظلومیت کو ضرور سپورٹ کریں لیکن جب فلسطینی سوال کریں تو ان کا جواب بھی ابھی سے سوچ لیجئے کشمیریوں پر ہونے والے ظلم سے لے کر فلسطین تک ہونے والی دہشت گردی کی مذمت شاید ہم پر فرض نہیں ہے میں نے بھی سوچا کہ میں بھی فرانس کے ساتھ اظہار یکجھتی کروں اور اپنی پروفائل تصویر کو اس کے جھنڈے میں رنگ دوں پھر خیال آیا کہ اگر کسی کشمیری فلسطینی  عراقی  لبانی شہری نے سوال ہی کر دیا کہ کیا ہم پر ہونے والے حملوں کی مزمت بھی ایسے ہی کرتے رہے ہو تو میں کیا جواب دوں گا می...

درد تو مُجھے ہی ہو گا

تصویر
سوچا یاد نہ کرکے تھوڑا تڑپاؤں ان کو کسی اور کا نام لے کر جلاؤں ان کو پھر چوٹ لگے گی ان کو  پھر سوچا کہ درد تو مُجھے ہی ہو گا محمد مسعود نونٹگھم 

راتوں کا درد

تصویر
میں بہت درد چُھپاتا ہوں رات کے اندھیروں میں مسعود دُعا کیا کرو کہ کُچھ دیر کے لیے مُجھے بھی نیند آ جائے کبھی محمد مسعود نونٹگھم یو کے

شفیق اُستاد

تصویر
شفیق اُستاد  پرانے استاد کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کیلئے چھٹی پر جانا پڑا تو ایک نئے استاد کو اس کے بدلے ذمہ داری سونپ دی گئی. نئے استاد نے سبق کی تشریح کر چکنے کے بعد، ایک طالبعلم سے سوال پوچھا۔ اس طالبعلم کے ارد گرد بیٹھے دوسرے سارے طلباء ہنس پڑے۔ استاد کو اس بلا سبب ہنسی پر بہت حیرت ہوئی، مگر اس نے ایک بات ضرور محسوس کر لی کہ کوئی نا کوئی وجہ ضرور ہوگی۔ طلباء کی نظروں، حرکات اور رویئے کا پیچھا کرتے آخرکار استاد نے یہ نکتہ پا لیا کہ یہ والا طالبعلم  ان کی نظروں میں نکما، , احمق، پاگل اور غبی ہے، ہنسی انہیں اس بات پر آئی تھی کہ استاد نے سوال بھی پوچھا تو کسی پاگل سے ہی پوچھا۔ جیسے ہی چھٹی ہوئی، سارے طلباء باہر جانے لگے تو استاد نے کسی طرح موقع پا کر اس طالب کو علیحدگی میں روک لیا۔ اسے کاغذ پر ایک شعر لکھ کر دیتے ہوئے کہا، کل اسے ایسے یاد کر کے آنا جیسے تجھے اپنا نام یاد ہے، اور یہ بات کسی اور کو پتہ بھی نا چلنے پائے۔ دوسرے دن استاد نے کلاس میں جا کر تختہ سیاہ پر ایک شعر لکھا، اس کے معانی، مفہوم، ابلاغ اور تشریح بیان کر کے شعر مٹا دیا۔ پھر طلباء سے پوچھا؛ یہ شعر کسی کو یاد ہو گی...

دسمبر

تصویر
دسمبر تُمہارے بعد گزریں گے بھلا کیسے ہمارے دن نومبر سے بچیں گے_ تو دسمبر مار ڈالے گا محمد مسعود نونٹگھم یوکے

لالچ بُری بلا

تصویر
لالچ بُری بلا ہے محمد مسعود نونٹگھم یو کے ایک لالچی شخص کے پاس ایک دودھ دینے والی گائے تھی۔ پس وہ روزانہ اس کا دودھ پانی ملا کر بیچتا تھا۔ اس طرح وہ دوگنا پیسے کما لیتا۔ اتفاق سے ایک دن وہ گائے کسی چراگاہ میں چر رہی تھی کہ اچانک سیلاب آیا اور گائے کو بہا کر لے گیا۔ وہ شخص اپنے گائے کے غم میں بیٹھا رو رہا تھا کہ اس کے بیٹے نے اس سے کہا: "اے ابا جان! اس میں رونے کی کیا بات ہے۔ وہ پانی جس کو ہم دودھ میں ملا کر بیچتے تھے، جمع ہوتے ہوتے آج ہماری گائے کو ہی بہا کر لے گیا۔

شعلہ اور شبنم

تصویر
شعلہ اور شبنم اس زمیں آسماں کی خیر نہیں  آج اُس کا مزاج برہم ہے سب دئیے اُس کے سامنے گُل ہیں کون شعلہ ہے کون شبنم ہے محمد مسعود نونٹگھم یو کے

گاؤں بارش میں سلامت ہیں نگر ڈوب گئے

تصویر
گاؤں بارش میں سلامت ہیں نگر ڈوب گئے  محمد مسعود گاؤں بارش میں سلامت ہیں نگر ڈوب گئے  جو بلندی پہ بنے تھے وہی گھر ڈوب گئے ایسا سیلاب نہ پہلے کبھی دیکھا نہ سنا  دیکھتے دیکھتے سارے ہی شجر ڈوب گئے  اب جہاں کس سے اجالے کی لگائے امید   بحر تاریکی میں خود شمس و قمر ڈوب گئے  ان سفینوں کے مقدّر پے  بھنور بھی ہے اداس  آ گئے تھے جو کناروں پہ مگر ڈوب گئے  ایک سیلاب سا دنیائے ادب میں آیا  کم نظر زندہ رہے اہل نظر ڈوب گئے  خوش ہیں رہگیر کناروں پہ کسے اس کا ہوش ساتھ کچھ اور بھی تھے جانے کدھر ڈوب گئے  پیاس بھی خوب تھی کہ بڑھتی ہی رہی   جام صہبا میں میرے شام و سحر ڈوب گئے 

سرد موسم

تصویر
سرد موسم موسم آنے والا ہے سردی کا مسعود اور کچھ نہیں تو اداسی اوڑھ لینا محمد مسعود نونٹگھم یو کے

خط

تصویر
خط تمہیں عادت تھی نہ خط جو لکھنے کی  مسعود خط پہ اب نام کس کا لکھتے ہو محمد مسعود نونٹگھم یوکے

گئیے دنوں کی یاد

تصویر
Iگئیے دنوں کی یاد کسی کا عشق کسی کا خیال تھے ہم بھی  گئیے دنوں میں بہت باکمال تھے ہم بھی   محمد مسعود نونٹگھم یوکے  GAY DINON KI YAAD                                                                            KISI KA ISHQ KISI KA KHAYAAL THEY HUM BHI GAYE DINON MAIN BOHAT BA KAMAAL THEY HUM BAHI M MASOOD NOTTM UK 

میں کتنا عجیب ہوں

تصویر
کتنا عجیب ہوں میں بھی کتنا عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں محمد مسعود نونٹگھم یو کے

تمہاری یاد

تصویر
تمہاری یاد دیئے کی لو سے اندھیرا اوجھال رکھا ہے تمہاری یاد کا بے حد خیال رکھا ہے  محمد مسعود نونٹگھم یو کے TUMHARI YAAD Diye ki  lau  se andhera ujaal rakha hai Tumhari yaad ka behadh khayaal  rakha hai M MASOOD NOTTM UK

جُدائی کے معنی

تصویر
جُدائی کے معنی  گوشت ناخن سے الگ کر کے دکھایا میں نے اُس نے پوچھے تھے جدائی کے معنی مجھ سے محمد مسعود نونٹگھم 

خاموشی

تصویر
خاموشی  میرے رُوٹھ جانے سے اب اُن کو کوئی فرق نہیں پڑتا بےچین کر دیتی تھی کبھی جن کو میری خاموُشی  KHAAMOSHI  MERE ROOTH JANE SE AB UNKO KOI FARAQ NAHI PARTA BECHAIN KAR DAITI THI KABHI JONKO KHAAMOSHI MERI  محمد مسعود نونٹگھم یو کے

یادیں

تصویر
یادیں  وہ اپنی یادوں کے سہارے جینا چاہتے ہیں اور میں اُن کے سہارے محمد مسعود نونٹگھم یو کے

خالی گھر

تصویر
خالی گھر  ایسے بھی گھر میں کیا رکھا ہے کے ترتیب دوں جسے  کُچھ خواب ہیں اِدھر سے اُدھر کر رہا ہوں میں محمد مسعود

دور تجھ سے گزری جو ہر گھڑی لکھ رہا ہوں

تصویر
دور تجھ سے گزری جو ہر گھڑی لکھ رہا ہوں  جو بیتا ہے مجھ پر وہ سبھی لکھ رہا ہوں، تو نے غموں میں اُلجھایا بہت ہے مُجھے  میں نام تیرے اپنی ہر خوشی لکھ رہا ہوں یہ عمر بھر کا بندھن ہے دو چار دن کا نہیں دل میں جتنی ہے چاہت میں سبھی لکھ رہا ہوں کرو میری باتوں کا یقین تم اگر کرتے ہو تو  میں تیرے لئے جو کچھ بھی ہوں ابھی لکھ رہا ہوں نہیں کمی کسی لفظ کی میری اس کتاب میں میں فقط اپنی غزل میں تیری کمی لکھ رہا ہوں شاید درد تجھے میرا کبھی اچھا نہ لگے نام  میں تیرے لئے خود کو اجنبی لکھ رہا ہوں محمد مسعود 

بوڑھے والدین

تصویر
بوڑھے والدین  ایک بیٹا اپنے بوڑھے والد کو یتیم خانے میں چھوڑ کر واپس لوٹ رہا تھا اس کی بیوی نے اسے یہ یقینی بنانے کے لئے فون کیا کہ والد تہوار وغیرہ کی چھٹی میں بھی وہیں رہیں گھر نہ چلے آیا کریں بیٹا پلٹ کے گیا تو پتہ چلا کہ اس کے والد یتیم خانے کے سربراہ کے ساتھ ایسے گھل مل کر بات کر رہے ہیں کہ بہت پرانے اور قریبی تعلق ہوں تبھی اس کا باپ اپنے کمرے کا بندوبست دیکھنے کے لئے وہاں سے چلا گیا اپنی تجسس کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بیٹے نے یتیم خانے کے سربراہ سے پوچھ ہی لیا آپ میرے والد کو کب سے جانتے ہیں انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا بیٹا گزشتہ تیس سال سے جب وہ ہمارے پاس ایک یتیم بچے کو گود لینے آئے تھے محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے

دیا ( چراغ )

تصویر
دیا  ( چراغ ) تُجھ کو پانے کی آرزو کرنا  آندھیوں میں دیا جلانا تھا محمد مسعود DIYA  ( light ) Tujh ko paanay ki aarzu karna, Aandhiyon main diya jalaana tha

اپنے غم

تصویر
اپنے غم  جب بھی کسی سے کہنے کو ہم اپنے غم گئیے  ہونٹوں تک آتے آتے الفاظ جم گئیے  محمد مسعود نونٹگھم یو کے APNE GHAM Jab bhi kisi se kehne ko hum apne gham gaye  Honton tak aate aate alfaaz jamm gaye  M MASOOD UK

مجھے اب ڈر نہیں لگتا

تصویر
مجھے اب ڈر نہیں لگتا محمد مسعود مجھے اب ڈر نہیں لگتا کسی کے دور جانے سے تعلق ٹوٹ جانے سے  کسی کے مان جانے سے کسی کے روٹھ جانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا کسی کو آزمانے سے کسی کو یاد رکھنے سے کسی کو بھول جانے سے کسی کو چھوڑ جانے سے کسی کے چھوڑ جانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا