ایک مدت سے میری ماں سوئی نہیں میں نے ایک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے اس ایک شعر نے مدت سے ذہن میں جگہ بنائی ہوئی ہے ویسے تو ماں کی عظمت سے کون بدنصیب نا واقف ہے لیکن اس کے باوجودان اشعار نے جو اس مضمون میں شامل ہیں ماں کے موضوع پرکئی ایک مضامین کے ہوتے ہوئے بھی اس عاجز کو بھی کچھ تحریر کرنے کی تحریک دی ہے ،شائد اس لئے کہ اللہ کے کرم سے ہمیشہ سے میں اپنی ماں کے قریب رہا ہوں یا پھر یوں کہہ سکتے ہیں کہ ماں نے اپنے قریب رکھا اور ہر مشکل اور ہر قدم پر نہ صرف رہنمائی کی ہمت افزائی کی بلکہ دعائیں دیں کامیابی کے لئے وظیفے پڑھے اور وہ سب کچھ کیا جو ان کے اختیار میں تھا،صحت ہو یا بیماری، خوشی ہو یا غم زندگی کے ہر معاملہ میں ماں نے حوصلہ بخشا،ہمیشہ یہ احساس ساتھ رہتا ہے کہ اللہ کے کرم کے ساتھ ماں کی دعائیں سایہ کئے ہوئے ہیں ، ماں کے ہوتے بڑی سے بڑی مشکل بھی پریشان نہ کرسکی،جب کبھی کوئی مشکل کا سامنا ہوتا ماں کے حضور حاضر ہوجاتے ان کی دعاء اور اللہ کے کرم سے ساری مشکل ختم ہوجاتی، اللہ کا شکر ہے ۔ داستان میرے لاڈوپیار کی بس ایک ہستی کے گرد گھومتی ہے پیار جنت سے اس لئے ہے مجھے یہ م...