خاموش راز

کسی کو کیا خبر ہے دل پہ کیا گزری ہوئی ہے
میں ہنستا ہوں مگر آنکھوں میں ایک نمی چھپی ہوئی ہے

میرے اور میرے رب کے سوا کون جانے حالِ دل
یہ کیسی آگ ہے جو روح میں جلی ہوئی ہے

اپنوں کی محفلوں میں بھی تنہا کھڑا ہوں میں
میرے نصیب میں شاید یہ خاموشی لکھی ہوئی ہے

لبوں پہ ذکرِ شکر ہے، دل میں طوفان بے کنار
یہ زندگی بھی کیسی آزمائش بنی ہوئی ہے

ہر ایک چہرہ ملا، پر سکونِ دل نہ مل سکا
ہر ایک خوشی بھی جیسے ادھوری رچی ہوئی ہے

مسعودؔ اپنے درد کو اشعار میں ڈھال دے
یہی دوا ہے جو تجھے رب نے عطا کی ہوئی ہے

                        شاعر محمد مسعود نوٹنگھم یو کے 


یہ غزل انسان کے باطنی احساسات، تنہائی اور دل کے پوشیدہ دکھوں کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود بیان کرتا ہے کہ اس کی زندگی میں جو کچھ گزر رہا ہے، اس سے کوئی واقف نہیں، یہاں تک کہ اس کے اپنے بھی اس کے حالِ دل سے بے خبر ہیں۔ وہ ظاہری طور پر خوش اور مطمئن دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے اندر دکھ، اداسی اور بے سکونی چھپی ہوئی ہے۔ شاعر محمد مسعود اپنے رب کو ہی وہ ہستی مانتا ہے جو اس کے دل کی کیفیت اور روح کے زخموں کو جانتی ہے۔ محفلوں میں موجود ہونے کے باوجود وہ خود کو تنہا محسوس کرتا ہے، جس سے اس کی زندگی کی آزمائشیں ظاہر ہوتی ہیں۔ وہ بتاتا ہے کہ بظاہر ملنے والی خوشیاں بھی اسے مکمل سکون نہیں دے پاتیں۔ آخر میں شاعر محمد مسعود اپنے تخلص "مسعودؔ" کے ذریعے یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ اپنے درد اور احساسات کو شاعری میں ڈھال کر سکون حاصل کرتا ہے اور یہی صلاحیت اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک نعمت اور علاج ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

جمعہ مبارک