تیری خوشبو کے موسم
تیری خوشبو کے موسم
چاندنی رات تھی، تُو بھی قریب آیا تھا
دل نے پہلی ہی نظر میں تجھے اپنایا تھا
تیری آنکھوں میں عجب سا کوئی جادو دیکھا
میں نے ہر خواب کو پلکوں پہ سجایا تھا
تیری باتوں کی مہک آج بھی سانسوں میں ہے
جیسے گلشن میں کوئی پھول کھلایا تھا
تیرے لمس کی حرارت ابھی باقی ہے مجھ میں
جیسے برفوں کو کسی نے بھی پگھلایا تھا
تو جو ہنستا ہے تو لگتا ہے بہار آتی ہے
تو جو روٹھے تو زمانہ بھی خفا پایا تھا
رات تنہائی میں جب تیرا خیال آتا ہے
میں نے خود کو تیری بانہوں میں سمایا تھا
عشق میں ڈوب کے جینا ہی مزہ دیتا ہے
یہ سبق تُو نے ہی "مسعودؔ" کو سکھایا تھا
یہ غزل محبت کے ایک لطیف اور خوشبودار احساس کی عکاسی کرتی ہے جس میں شاعر محمد مسعود اپنے محبوب کے ساتھ گزارے گئے حسین لمحات کو یاد کرتا ہے۔ چاندنی رات میں پہلی ملاقات کا منظر دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتا ہے اور پہلی نظر کی چاہت عمر بھر کا رشتہ بن جاتی ہے۔ محبوب کی آنکھوں کا جادو، باتوں کی مہک اور لمس کی حرارت شاعر محمد مسعود کے وجود میں آج بھی زندہ ہیں۔ وہ محبوب کی مسکراہٹ کو بہار سے تشبیہ دیتا ہے اور اس کی ناراضی کو پورے زمانے کی اداسی سمجھتا ہے۔ تنہائی کی راتوں میں محبوب کا خیال آ کر اسے پھر اسی قربت کا احساس دلاتا ہے۔ غزل میں عشق کو زندگی کا اصل لطف قرار دیا گیا ہے اور شاعر محمد مسعود مانتا ہے کہ محبت میں ڈوب کر جینا ہی حقیقی مسرت ہے۔ آخر میں "مسعودؔ" اعتراف کرتا ہے کہ یہ سارا درس اسے اسی محبوب نے سکھایا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں