تیرا ہی سایہ
تیرا ہی سایہ ہوا میں بکھرے ہیں جذبے، پیام تیرا ہی رہا برسوں زباں پہ چھایا رہا ہے، کلام تیرا ہی رہا برسوں جسے ڈھونڈتا پھرا ہوں ہر ایک راہ اور موڑ پر میرے ہر سمت نظر میں، مقام تیرا ہی رہا برسوں نہ کوئی اور سما سکا ہے، نہ سما سکے گا کبھی دل میں میرے دل کی ہر ایک دھڑکن میں، قیام تیرا ہی رہا برسوں بہار آئے کہ خزاں آئے، اٹھیں طوفان یا آندھیاں میرے دل کے گلستاں میں، بہار تیرا ہی رہا برسوں ہماری آنکھ کے تارے بھی، ہمارے خواب کے گھر بھی ہر ایک شام اور صبح میں، نظام تیرا ہی رہا برسوں کہاں جائیں بچھڑ کے ہم، تیری یادوں کے اس دائرے سے مسعودؔ دل کے در پہ فقط، پیام تیرا ہی رہا برسوں یہ غزل محبت کی گہرائی، وابستگی اور یاد کے تسلسل کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر محمد مسعود ایک ایسی کیفیت بیان کرتا ہے جہاں محبوب کی موجودگی صرف ظاہری نہیں بلکہ دل، روح اور سوچ کے ہر گوشے میں رچی بسی ہے۔ وقت گزرنے کے باوجود اس محبت کی شدت میں کوئی کمی نہیں آتی بلکہ ہر لمحہ اسی کے اثر میں ڈوبا رہتا ہے۔ شاعر محمد مسعود ہر راستے، ہر منظر اور ہر خیال میں محبوب کا عکس دیکھتا ہے، جیسے اس کی دنیا کا ہر نظام اسی کے گرد گھومت...