اشاعتیں

مارچ, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مٹی کی خوشبو

تصویر
مٹی کی خوشبو تمہاری یاد کے جگنو جو دل میں جھلملاتے ہیں اندھیری رات میں رستے ستارے بن کے آتے ہیں بہت پُرشور دنیا میں سکوں کی جستجو لے کر ہم اکثر اپنے ہی اندر کہیں ٹھہر سے جاتے ہیں وہ ہجر و وصل کے لمحے، وہ قصے بیتے برسوں کے کسی پرانی بیاض کے گوشوں سے اب لرزتے ہیں دیارِ غیر میں بھی ہم کو وہ مٹی پکارتی ہے جہاں ہم نے پرندوں کی طرح دن گنوائے ہیں وفا کی راہ میں جن کو کٹھن منزل ملی، وہ ہی زمانے بھر کی آنکھوں میں حقیقت جگمگاتے ہیں چلو اب بوجھ یادوں کا کہیں ساحل پہ رکھ دیں ہم مسافر تھک بھی جائیں تو سفر کب چھوڑ پاتے ہیں سخن کے اس گلستاں میں قلم کی آبرو رکھنا مسعود اب حرفِ سادہ بھی دلوں میں گھر بناتے ہیں یہ غزل مٹی کی خوشبو ایک گہری جذباتی اور فکری منظر کشی ہے جو انسان کی یادوں، وطن، محبت اور وقت کی گزر گاہ کو بَیانی کرتا ہے۔ شاعر محمد مسعود نے یادوں کو جگنوؤں سے تشبیہ دی ہے جو دل کے اندھیروں میں روشنی بکھیرتے ہیں، اور یہ دکھایا ہے کہ کیسے یادیں انسان کے اندر سکون کی تلاش میں بھی کبھی رک جانے کا سبب بنتی ہیں۔ ہجر و وصل کے لمحات اور بیتے ہوئے برسوں کے قصے، جیسے کسی پرانی کتاب کے گوشوں س...

برطانیہ کا سماجی نظام اور انفرادی جکڑ بندیاں

تصویر
برطانیہ کا سماجی نظام اور انفرادی جکڑ بندیاں  ادراک اور بے بسی   برطانیہ جیسے ترقی یافتہ اور منظم معاشرے میں زندگی گزارنا بظاہر ایک خواب کی مانند معلوم ہوتا ہے۔ بلند معیارِ زندگی، قانون کی حکمرانی، معاشی مواقع اور سماجی تحفظ کے نظام نے دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔ لیکن اس چکا چوند کے پیچھے ایک ایسا پیچیدہ اور مشینی نظام کارفرما ہے جو انسان کو اپنی گرفت میں اس طرح جکڑ لیتا ہے کہ جب تک اسے اس کے منفی اثرات کا احساس ہوتا ہے، تب تک واپسی کے تمام راستے مسدود ہو چکے ہوتے ہیں۔   برطانوی معاشرے کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا 'کنزیومر کلچر' (Consumer Culture) یا صارفی نظام ہے۔ یہاں کا پورا ڈھانچہ قرض اور اقساط (Credit and Interest) پر کھڑا ہے۔ گھر، گاڑی، فون، اور یہاں تک کہ روزمرہ کی گھریلو اشیاء بھی قرض کی بنیاد پر حاصل کی جاتی ہیں۔ ایک عام انسان جب اس معاشرے میں قدم رکھتا ہے، تو وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ان سہولیات کا سہارا لیتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ ترقی کر رہا ہے، لیکن درحقیقت وہ ایک ایسے چکر میں پھنس رہا ہوتا ہے جہاں اسے اپنے بلوں اور اقساط کی ادائیگی کے لیے...

قیدِ تنہائی کیسی ہوتی ہے؟

تصویر
قیدِ تنہائی کیسی ہوتی ہے؟ تحریر: محمد مسعود نوٹنگھم یو کے    قیدِ تنہائی صرف چار دیواری میں بند ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے اندر پھیل جانے والی ایک ایسی خاموشی ہے جو آہستہ آہستہ روح تک کو چھو لیتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان لوگوں کے ہجوم میں بھی خود کو اکیلا محسوس کرنے لگتا ہے۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق ہوتا ہے، مگر دل کے اندر ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے جسے کوئی آواز، کوئی ہنسی اور کوئی مصروفیت بھی پُر نہیں کر پاتی۔ قیدِ تنہائی کی اصل اذیت یہی ہے کہ انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ دل میں سینکڑوں باتیں جمع ہو جاتی ہیں، یادیں، پچھتاوے اور ادھورے خواب… مگر وہ سب خاموشی کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتے ہیں۔ انسان کبھی ماضی میں کھو جاتا ہے اور کبھی مستقبل کی بے یقینی اسے خوفزدہ کر دیتی ہے۔ ایسے میں وقت بھی عجیب سا لگنے لگتا ہے؛ لمحے صدیوں کی طرح گزرنے لگتے ہیں۔ جب انسان قیدِ تنہائی میں ہوتا ہے تو سب سے زیادہ اسے اپنی یادیں ستاتی ہیں۔ وہ چہرے جو کبھی زندگی کا حصہ تھے، وہ لمحے جو کبھی خوشیوں سے بھرپور تھے، اچانک آنکھوں کے سامنے آ ...