اشاعتیں

یادیں لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پرانی یادوں کی خوشبو

تصویر
پرانی یادوں کی خوشبو وہ پرانے دن وہ باتیں وہ زمانہ یاد ہے دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر، دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے اس غزل کا مرکزی خیال یادوں کی طاقت اور ان کی نہ مٹنے والی خوشبو ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ بظاہر وقت بہت آگے نکل گیا ہے، گلیاں بدل گئیں، چہرے بچھڑ گئے، مگر دل آج بھی اسی پرانے زمانے میں اٹکا ہوا ہے۔ وقت کی آندھی باہر کی دنیا کے سارے نقش تو مٹا سکتی ہے، لیکن دل کی دیوار پر بنا ہوا محبوب کا ٹھکانہ نہیں مٹا سکتی۔ انسان خود کو یہ دلاسہ دیتا ہے کہ وہ بھول جائے گا، مگر زندگی کے ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی بہانہ اسے پھر اسی یاد میں لے...

بے رحم یادیں

تصویر
​بے رحم یادیں بے رحم یادیں دراصل وہ خاموش مسافر ہیں جو بن بلائے ہمارے ذہن کی دہلیز پر آ بیٹھتی ہیں اور پھر وہاں سے جانے کا نام نہیں لیتیں۔ انسانی زندگی میں یادوں کی حیثیت ایک سائے کی سی ہے، جو دھوپ ہو یا چھاؤں، ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔ لیکن جب یہ یادیں "بے رحم" ہو جائیں، تو یہ محض ماضی کا قصہ نہیں رہتیں بلکہ ایک ایسا مستقل کرب بن جاتی ہیں جو انسان کے حال کو دیمک کی طرح چاٹنے لگتا ہے۔ یادوں کی بے رحمی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ یہ ہمیں ان لمحوں میں قید کر دیتی ہیں جو اب وجود ہی نہیں رکھتے۔ وہ وقت جو گزر گیا، وہ لوگ جو بچھڑ گئے، اور وہ باتیں جو اب قصہ پارینہ بن چکی ہیں، جب وہ یادوں کی صورت میں بار بار سامنے آتی ہیں تو انسان خود کو ایک ایسے قید خانے میں محسوس کرتا ہے جس کی دیواریں نظر نہیں آتیں مگر ان کا بوجھ روح کو تھکا دیتا ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ گزرے ہوئے دکھ سے زیادہ اس دکھ کی یاد تکلیف دہ ہوتی ہے، کیونکہ زخم تو بھر جاتے ہیں لیکن ان کے نشانات جب بھی نظر پڑیں، وہی پرانا درد تازہ کر دیتے ہیں۔ اس بے رحمی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یادیں کبھی انتخاب نہیں کرتیں۔ یہ نہیں دیکھتیں کہ انسا...