ہر درد کا درماں
ہر درد کا درماں محبت میں عجب ایک کیف کا ساماں نظر آیا وہ جب مسکائے تو ہر درد کا درماں نظر آیا ستارے اس لیے شاید زمین پر جھک کے بیٹھے ہیں انہیں تیرے رخِ روشن پہ ایک ایماں نظر آیا تیری آنکھوں کے ساغر میں عجب جادو ہے اے جاناں خدا کی قسم مجھ کو تو سارا جہاں نظر آیا وفا کے رستے میں ہم نے قدم رکھا ہے جب سے ہی ہمیں ہر خارِ گلشن بھی گلِ خنداں نظر آیا غمِ دوراں کے مارے تھے، مگر جب تم ملے ہم کو حیاتِ نو کا ایک دلکش ہمیں عنواں نظر آیا تیرے قدموں کی آہٹ سے مہک اٹھتی ہے یہ بستی تیرا ہر نقشِ پا ہم کو بہت تاہاں نظر آیا تیری یادوں کی خوشبو سے ہے میرا دل ابھی روشن محبت کا حسیں جذبہ بہت رقصاں نظر آیا تڑپتے دل کو اب اے کاش تھوڑی سی اماں مل جائے لبِ خاموش پہ اب شکوہِ ہجراں نظر آیا مسعود اب تم کہو قصہ اپنی اس محبت کا تمہیں تو عشق میں ہر شخص ہی ناداں نظر آیا یہ نظم محبت کی گہرائی اور عشق کی شدت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود نے محبوب کی مسکان، رخ روشن اور آنکھوں کے جادو کو اپنے درد کا علاج اور زندگی کی خوشیوں کا ذریعہ ...