اشاعتیں

اپریل, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تنہائی کا سفر

تصویر
تنہائی کا سفر دل کے زخموں پہ کوئی مرہم نہیں ہوتا   درد جب حد سے بڑھے تو مدھم نہیں ہوتا رات بھر جاگ کے تکتا ہوں اندھیروں کو   اب تیرے بعد کوئی موسم نہیں ہوتا لوگ کہتے ہیں کہ صبر آ جائے گا ایک دن   زخمِ فرقت کا مگر مرہم نہیں ہوتا ہنس کے ملتے ہیں سب اپنے، پر خبر کیا ہے   ہر مسکراتے چہرے پہ غم نہیں ہوتا چاہا تھا جس کو عمر بھر کی راحت سمجھ کر   وہ بھی نکلا خواب، وہ صنم نہیں ہوتا ٹوٹے ہوئے دل سے دعا نکلی تو یہ نکلی   کوئی کسی سے یوں بچھڑ کے ختم نہیں ہوتا اشک پی لیتا ہوں چپکے سے میں مسعودؔ   درد سرِ محفل یوں رقم نہیں ہوتا یہ غزل جدائی اور اندرونی درد کی شدت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود کہتا ہے کہ دل کے گہرے زخموں کا کوئی علاج نہیں، جب تکلیف حد سے بڑھ جائے تو وہ کم بھی نہیں ہوتی۔ محبوب کے جانے کے بعد زندگی بے رنگ ہو گئی ہے، راتیں اندھیروں کو تکتے گزرتی ہیں اور کوئی موسم دل کو نہیں بھاتا۔  لوگ تسلی دیتے ہیں کہ وقت کے ساتھ صبر آ جائے گا، لیکن فراق کا دکھ ایسا ہے جس کا کوئی مرہم کارگر نہیں۔ دنیا کے سامنے مسک...

تمہاری یاد کا موسم

تصویر
تمہاری یاد کا موسم   تمہاری یاد کا موسم، مہک کر رہ گیا دل میں   کوئی خوشبو کا جھونکا تھا، ٹھہر کر رہ گیا دل میں   چراغِ آرزو جلتا رہا تنہائی کی شب میں   تمہارا عکس تھا جو رات بھر، جل کر رہ گیا دل میں   محبت کا قرینہ بھی عجب سادہ تھا ہم دونوں کا   نہ شکوہ لب پہ آیا، نہ گلہ کر رہ گیا دل میں   ہر اک موجِ ہوا نے نام تیرا گنگنایا ہے   صدا تیری ہی گونجی، ہر پہر کر رہ گیا دل میں   میں مسعودؔ اب کس سے کہوں، قصہ ادھورا ہے   وہ حرفِ آخری جو ان کہہ کر رہ گیا دل میں   یہ نظم محبت، یاد اور جدائی کے جذبات کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود کے مطابق محبوب کی یاد ایک ایسے موسم کی طرح ہے جو دل میں ہمیشہ کے لیے بسی ہوئی ہے اور اس کی خوشبو وقت گزرنے کے باوجود مدھم نہیں ہوتی۔ تنہائی کی راتوں میں آرزو کا چراغ جلتا رہتا ہے اور محبوب کا عکس دل کے اندر موجود رہ کر زندگی کو روشن بھی کرتا ہے اور اداس بھی۔ محبت کا انداز سادہ اور خاموش ہے، جس میں نہ کوئی شکوہ ہے نہ کوئی شکایت، ص...

خاموش نیل کے کنارے

تصویر
خاموش نیل کے کنارے نیل کے پانی میں ایک عکس ڈوبا ہوا تھا جیسے کوئی خواب زمانے سے روٹھا ہوا تھا ریت کے ذرّوں میں کہانیاں سو رہی تھیں ہر ایک سانس میں درد بھی گھولا ہوا تھا قاہرہ کی راتیں بھی عجیب لگتی تھیں چاند بھی تنہائی میں جیسے کھویا ہوا تھا ایک چہرہ تھا جو دل سے نہیں جاتا تھا وہی چہرہ ہر ایک آنسو میں سمویا ہوا تھا میں نے چاہا کہ بھلا دوں اسے وقت کے ساتھ پر یہ دل تھا کہ اسی غم میں پرویا ہوا تھا کوئی آواز بھی دیتی نہ تھی اب مجھ کو ہر طرف سناٹا ہی سناٹا بس بویا ہوا تھا مسعود یہ محبت بھی قیامت نکلی جو بھی پایا تھا سب کچھ ہی کھویا ہوا تھا  یہ نظم ایک ایسے دل کی کہانی بیان کرتی ہے جو محبت کے درد اور جدائی کی کیفیت میں ڈوبا ہوا ہے۔ شاعر محمد مسعود نیل کے خاموش کنارے کو اپنے اندر کی ویرانی اور تنہائی کی علامت بناتا ہے، جہاں پانی میں ڈوبا ہوا عکس ایک ٹوٹے ہوئے خواب کی نمائندگی کرتا ہے۔ ریت کے ذروں میں سوئی کہانیاں ماضی کی یادوں کو ظاہر کرتی ہیں، جبکہ ہر سانس میں گھلا ہوا درد اس کرب کی شدت کو بیان کرتا ہے جو شاعر مسعود محسوس کر رہا ہے۔ قاہرہ کی راتیں بھی اس کے لیے اجنبی اور اداس...

خاموش درد

تصویر
خاموش درد دل کی دیواروں پہ ایک نقش سا رہتا ہے کوئی لمحہ ہے جو آنکھوں میں بہتا رہتا ہے میں ہنسا بھی تو ادھورا سا لگا اپنے آپ کو میرے اندر کوئی چپ چاپ سا روتا رہتا ہے تیری یادوں کے چراغوں سے ہے روشن یہ سفر ورنہ ہر راستہ تنہائی میں کھویا رہتا ہے میں نے لفظوں میں چھپایا ہے بہت سا درد اپنا ہر شعر میرے اندر سے ٹوٹا رہتا ہے لوگ کہتے ہیں زمانہ بڑا خوش ہے مسعود پر میرے دل میں ایک طوفان سا اٹھتا رہتا ہے یہ نظم 'خاموش درد' ایک ایسے دل کی کیفیت بیان کرتی ہے جس میں بظاہر سکون اور مسکراہٹ ہے مگر اندر ایک مسلسل بے چینی اور اداسی موجود ہے۔ شاعر محمد مسعود اپنے دل کی دیواروں پر یادوں کے نقش اور لمحوں کے بہاؤ کو محسوس کرتا ہے جو آنکھوں سے اشک بن کر بہتے رہتے ہیں۔ ہنسی کے باوجود ایک ادھورا پن اور اندرونی کرب اس کی شخصیت کا حصہ ہے۔ محبوب کی یادیں اس کی زندگی کے سفر کو روشنی دیتی ہیں مگر وہی یادیں تنہائی کو مزید گہرا بھی کرتی ہیں۔ شاعر محمد مسعود نے اپنے درد کو لفظوں میں چھپایا ہے لیکن ہر شعر میں اس کا ٹوٹا ہوا وجود جھلکتا ہے۔ معاشرے کی خوشی کے دعووں کے باوجود اس کے دل میں طوفان برپا رہ...

تیرا ہی سایہ

تصویر
تیرا ہی سایہ ہوا میں بکھرے ہیں جذبے، پیام تیرا ہی رہا برسوں زباں پہ چھایا رہا ہے، کلام تیرا ہی رہا برسوں جسے ڈھونڈتا پھرا ہوں ہر ایک راہ اور موڑ پر میرے ہر سمت نظر میں، مقام تیرا ہی رہا برسوں نہ کوئی اور سما سکا ہے، نہ سما سکے گا کبھی دل میں میرے دل کی ہر ایک دھڑکن میں، قیام تیرا ہی رہا برسوں بہار آئے کہ خزاں آئے، اٹھیں طوفان یا آندھیاں میرے دل کے گلستاں میں، بہار تیرا ہی رہا برسوں ہماری آنکھ کے تارے بھی، ہمارے خواب کے گھر بھی ہر ایک شام اور صبح میں، نظام تیرا ہی رہا برسوں کہاں جائیں بچھڑ کے ہم، تیری یادوں کے اس دائرے سے مسعودؔ دل کے در پہ فقط، پیام تیرا ہی رہا برسوں یہ غزل محبت کی گہرائی، وابستگی اور یاد کے تسلسل کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر محمد مسعود ایک ایسی کیفیت بیان کرتا ہے جہاں محبوب کی موجودگی صرف ظاہری نہیں بلکہ دل، روح اور سوچ کے ہر گوشے میں رچی بسی ہے۔ وقت گزرنے کے باوجود اس محبت کی شدت میں کوئی کمی نہیں آتی بلکہ ہر لمحہ اسی کے اثر میں ڈوبا رہتا ہے۔ شاعر محمد مسعود ہر راستے، ہر منظر اور ہر خیال میں محبوب کا عکس دیکھتا ہے، جیسے اس کی دنیا کا ہر نظام اسی کے گرد گھومت...