قیدِ تنہائی کیسی ہوتی ہے؟

قیدِ تنہائی کیسی ہوتی ہے؟

تحریر: محمد مسعود نوٹنگھم یو کے 
 
قیدِ تنہائی صرف چار دیواری میں بند ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے اندر پھیل جانے والی ایک ایسی خاموشی ہے جو آہستہ آہستہ روح تک کو چھو لیتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان لوگوں کے ہجوم میں بھی خود کو اکیلا محسوس کرنے لگتا ہے۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق ہوتا ہے، مگر دل کے اندر ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے جسے کوئی آواز، کوئی ہنسی اور کوئی مصروفیت بھی پُر نہیں کر پاتی۔

قیدِ تنہائی کی اصل اذیت یہی ہے کہ انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ دل میں سینکڑوں باتیں جمع ہو جاتی ہیں، یادیں، پچھتاوے اور ادھورے خواب… مگر وہ سب خاموشی کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتے ہیں۔ انسان کبھی ماضی میں کھو جاتا ہے اور کبھی مستقبل کی بے یقینی اسے خوفزدہ کر دیتی ہے۔ ایسے میں وقت بھی عجیب سا لگنے لگتا ہے؛ لمحے صدیوں کی طرح گزرنے لگتے ہیں۔

جب انسان قیدِ تنہائی میں ہوتا ہے تو سب سے زیادہ اسے اپنی یادیں ستاتی ہیں۔ وہ چہرے جو کبھی زندگی کا حصہ تھے، وہ لمحے جو کبھی خوشیوں سے بھرپور تھے، اچانک آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔ کبھی ماں کی آواز یاد آتی ہے، کبھی دوستوں کی ہنسی، کبھی کسی اپنے کا ساتھ۔ اور پھر دل یہ سوچ کر اور بھی بوجھل ہو جاتا ہے کہ یہ سب کچھ اب صرف یادوں میں رہ گیا ہے۔

قیدِ تنہائی میں انسان کو سب سے زیادہ اپنے آپ سے سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے اعمال، اپنی غلطیوں اور اپنے فیصلوں کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ بعض اوقات یہی سوچیں انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہیں۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس نے زندگی میں بہت سی ایسی غلطیاں کیں جن کی قیمت اب وہ تنہائی کی صورت میں ادا کر رہا ہے۔

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ تنہائی انسان کو یا تو بہت مضبوط بنا دیتی ہے یا پھر اسے اندر سے مکمل طور پر توڑ دیتی ہے۔ کچھ لوگ اس خاموشی میں اپنے آپ کو پہچان لیتے ہیں، اپنے رب کے قریب ہو جاتے ہیں اور زندگی کے اصل معنی سمجھ لیتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ اسی خاموشی میں ڈوب کر مایوسی اور غم کے اندھیروں میں کھو جاتے ہیں۔

تنہائی کی راتیں خاص طور پر بہت بھاری ہوتی ہیں۔ جب اردگرد ہر طرف سکوت ہو اور صرف دل کی دھڑکن سنائی دے تو انسان کو اپنے وجود کی کمزوری کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ نیند بھی اکثر آنکھوں سے روٹھ جاتی ہے اور ذہن طرح طرح کے خیالوں میں الجھ جاتا ہے۔ ایسے میں ایک لمحہ بھی بہت طویل محسوس ہوتا ہے۔

شاعر محمد مسعود نے شاید اسی کیفیت کو محسوس کر کے کہا تھا:

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں

اور ایک اور جگہ شاعر محمد مسعود نے یوں کہا:

تنہائی کی راتوں میں جب دل بہت اداس ہوا
ہم نے چپکے سے تیری یادوں کا چراغ جلا لیا

قیدِ تنہائی انسان کو یہ بھی سکھا دیتی ہے کہ زندگی میں رشتوں کی کتنی اہمیت ہوتی ہے۔ جب انسان کے پاس بات کرنے والا کوئی نہ ہو تو اسے احساس ہوتا ہے کہ ایک مخلص دوست، ایک محبت بھرا رشتہ یا ایک سچی دعا کتنی قیمتی ہوتی ہے۔ یہی احساس بعد میں انسان کو دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے کے قابل بھی بنا دیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ قیدِ تنہائی ایک آزمائش ہے۔ یہ انسان کو اس کے باطن سے ملواتی ہے۔ کبھی یہ اسے رُلا دیتی ہے، کبھی اسے سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور کبھی اسے اپنی حقیقت دکھا دیتی ہے۔ مگر اگر انسان اس آزمائش میں صبر اور امید کا دامن نہ چھوڑے تو یہی تنہائی اسے ایک نئی روشنی بھی دکھا سکتی ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ قیدِ تنہائی صرف جسم کی قید نہیں بلکہ احساسات کی بھی قید ہے۔ یہ ایک ایسا درد ہے جسے وہی شخص صحیح معنوں میں سمجھ سکتا ہے جس نے اسے محسوس کیا ہو۔ مگر اس درد میں بھی ایک سبق چھپا ہوتا ہے: انسان کو چاہیے کہ وہ رشتوں کی قدر کرے، محبت بانٹے اور کسی کو اس حد تک تنہا نہ ہونے دے کہ اس کی زندگی ہی ایک خاموش قید بن جائے۔

             تحریر محمد مسعود نوٹنگھم یو کے 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں