برطانیہ کا سماجی نظام اور انفرادی جکڑ بندیاں
برطانیہ کا سماجی نظام اور انفرادی جکڑ بندیاں
ادراک اور بے بسی
برطانیہ جیسے ترقی یافتہ اور منظم معاشرے میں زندگی گزارنا بظاہر ایک خواب کی مانند معلوم ہوتا ہے۔ بلند معیارِ زندگی، قانون کی حکمرانی، معاشی مواقع اور سماجی تحفظ کے نظام نے دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔ لیکن اس چکا چوند کے پیچھے ایک ایسا پیچیدہ اور مشینی نظام کارفرما ہے جو انسان کو اپنی گرفت میں اس طرح جکڑ لیتا ہے کہ جب تک اسے اس کے منفی اثرات کا احساس ہوتا ہے، تب تک واپسی کے تمام راستے مسدود ہو چکے ہوتے ہیں۔
برطانوی معاشرے کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا 'کنزیومر کلچر' (Consumer Culture) یا صارفی نظام ہے۔ یہاں کا پورا ڈھانچہ قرض اور اقساط (Credit and Interest) پر کھڑا ہے۔ گھر، گاڑی، فون، اور یہاں تک کہ روزمرہ کی گھریلو اشیاء بھی قرض کی بنیاد پر حاصل کی جاتی ہیں۔ ایک عام انسان جب اس معاشرے میں قدم رکھتا ہے، تو وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ان سہولیات کا سہارا لیتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ ترقی کر رہا ہے، لیکن درحقیقت وہ ایک ایسے چکر میں پھنس رہا ہوتا ہے جہاں اسے اپنے بلوں اور اقساط کی ادائیگی کے لیے مسلسل کام کرنا پڑتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک مشینی زندگی گزار رہا ہے جہاں رشتوں کی گرمجوشی، سکونِ قلب اور فطری زندگی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ برطانیہ کا سماجی نظام انفرادیت پسندی (Individualism) پر مبنی ہے، جہاں خاندان کا تصور بکھر چکا ہے اور سماجی تنہائی ایک وبا کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جب کوئی شخص ذہنی دباؤ، تنہائی یا اس نظام کی بے رحمی کو محسوس کرنا شروع کرتا ہے، تو وہ اسے چھوڑ کر اپنی جڑوں کی طرف واپس جانا چاہتا ہے، لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں 'نکلنا مشکل' ہو جاتا ہے۔
اس مشکل کی سب سے بڑی وجہ معاشی جکڑ بندی ہے۔ ایک دہائی یا اس سے زیادہ عرصہ برطانیہ میں گزارنے کے بعد انسان کے اثاثے، پنشن کی اسکیمیں، اور بچوں کا مستقبل اسی ملک سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص واپس اپنے وطن جانا چاہے، تو اسے اپنا سب کچھ بیچنا پڑتا ہے، لیکن وہاں کے بدلے ہوئے حالات اور معاشی عدم استحکام اسے خوفزدہ کر دیتے ہیں۔ وہ 'نہ یہاں کا رہتا ہے نہ وہاں کا'۔
دوسری اہم وجہ بچوں کی پرورش اور تعلیم ہے۔ برطانیہ میں پلے بڑھے بچے وہاں کے تعلیمی نظام اور ثقافت کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ان کے لیے اپنے آباؤ اجداد کے ملک میں ڈھلنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ ایک والدین کے طور پر انسان اپنی خوشی اور ذہنی سکون کو بچوں کے مستقبل پر قربان کر دیتا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ یہاں کا معاشرہ اس کی اقدار کو نگل رہا ہے، لیکن وہ بچوں کی خاطر اسی نظام کا حصہ بنے رہنے پر مجبور ہوتا ہے۔
آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ برطانوی معاشرہ ایک 'سنہری پنجرے' کی مانند ہے۔ یہ آپ کو مادی سہولیات تو فراہم کرتا ہے لیکن آپ کی روح اور آزادی چھین لیتا ہے۔ جب تک انسان کو یہ ادراک ہوتا ہے کہ اس طرزِ زندگی نے اسے جذباتی اور روحانی طور پر مفلس کر دیا ہے، تب تک وہ اس نظام کے پیچ و خم میں اتنا دھنس چکا ہوتا ہے کہ اس کی مثال اس مسافر جیسی ہوتی ہے جو دلدل میں کھڑا ہو؛ وہ جتنا نکلنے کی کوشش کرتا ہے، ذمہ داریوں اور معاشی مجبوریاں اسے اتنا ہی مزید نیچے کھینچتی چلی جاتی ہیں۔
تحریر: محمد مسعود نوٹنگھم یو کے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں