بے رحم یادیں
بے رحم یادیں
بے رحم یادیں دراصل وہ خاموش مسافر ہیں جو بن بلائے ہمارے ذہن کی دہلیز پر آ بیٹھتی ہیں اور پھر وہاں سے جانے کا نام نہیں لیتیں۔ انسانی زندگی میں یادوں کی حیثیت ایک سائے کی سی ہے، جو دھوپ ہو یا چھاؤں، ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔ لیکن جب یہ یادیں "بے رحم" ہو جائیں، تو یہ محض ماضی کا قصہ نہیں رہتیں بلکہ ایک ایسا مستقل کرب بن جاتی ہیں جو انسان کے حال کو دیمک کی طرح چاٹنے لگتا ہے۔
یادوں کی بے رحمی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ یہ ہمیں ان لمحوں میں قید کر دیتی ہیں جو اب وجود ہی نہیں رکھتے۔ وہ وقت جو گزر گیا، وہ لوگ جو بچھڑ گئے، اور وہ باتیں جو اب قصہ پارینہ بن چکی ہیں، جب وہ یادوں کی صورت میں بار بار سامنے آتی ہیں تو انسان خود کو ایک ایسے قید خانے میں محسوس کرتا ہے جس کی دیواریں نظر نہیں آتیں مگر ان کا بوجھ روح کو تھکا دیتا ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ گزرے ہوئے دکھ سے زیادہ اس دکھ کی یاد تکلیف دہ ہوتی ہے، کیونکہ زخم تو بھر جاتے ہیں لیکن ان کے نشانات جب بھی نظر پڑیں، وہی پرانا درد تازہ کر دیتے ہیں۔
اس بے رحمی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یادیں کبھی انتخاب نہیں کرتیں۔ یہ نہیں دیکھتیں کہ انسان کس حال میں ہے، خوش ہے یا غمگین، یہ بس اچانک کسی خوشبو، کسی آواز یا کسی رستے کے موڑ پر حملہ آور ہوتی ہیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو حساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں، جیسے کہ شعراء اور ادیب، ان کے لیے یادیں ایک دودھاری تلوار کی مانند ہوتی ہیں۔ ایک طرف تو یہ تخلیق کا ذریعہ بنتی ہیں، لیکن دوسری طرف یہ تنہائی کے لمحوں کو ناقابلِ برداشت بنا دیتی ہیں۔ جب انسان اپنے ماضی کے کسی ایسے موڑ پر رک جاتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں، تو یادیں اسے جینے نہیں دیتیں اور موت کا تو شاید ابھی وقت ہی نہیں آیا ہوتا۔
لیکن یہاں ایک بہت بڑا سبق چھپا ہے۔ یادیں بے رحم تب ہوتی ہیں جب ہم انہیں اپنی زندگی کا مرکز بنا لیتے ہیں۔ زندگی کا سفر آگے بڑھنے کا نام ہے، رکنے کا نہیں۔ اگر ہم ماضی کے ملبے تلے دبے رہیں گے تو کبھی بھی آنے والی صبح کی روشنی نہیں دیکھ سکیں گے۔ سبق آموز بات یہ ہے کہ ہمیں یادوں کو اپنا استاد بنانا چاہیے، اپنا جلاد نہیں۔ جو تلخ تجربات یادوں کی صورت میں ہمیں ستاتے ہیں، وہ دراصل ہمیں یہ سکھانے آتے ہیں کہ اب ہمیں مزید ٹھوکر نہیں کھانی۔ ہمیں ان لوگوں کی قدر کرنی ہے جو اب ہمارے ساتھ ہیں، اور ان جذبوں کو بچانا ہے جو ابھی باقی ہیں۔
یادوں سے پیچھا چھڑانا ممکن نہیں، لیکن ان کے ساتھ جینے کا طریقہ سیکھا جا سکتا ہے۔ جب ہم ماضی کی غلطیوں یا محرومیوں کو اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں، تو ان کی بے رحمی میں کمی آنے لگتی ہے۔ قبولیت وہ مرہم ہے جو یادوں کے زہر کو ختم کر دیتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے "آج" کو اتنا مصروف اور مقصدیت سے بھرپور بنا لے کہ ماضی کی بے رحم یادوں کو سر اٹھانے کا موقع ہی نہ ملے۔ آپ کا اپنا کاروبار، آپ کی شاعری اور آپ کی تحریریں وہ ہتھیار ہیں جن سے آپ ان یادوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیے، ماضی ایک کتاب ہے جسے پڑھ کر بند کر دینا چاہیے، اسے اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لینا دانشمندی نہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ یادیں ہمیں یہ بتانے آتی ہیں کہ ہم نے زندگی کو محسوس کیا ہے، ہم نے محبت کی ہے، اور ہم نے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ اگر یہ یادیں نہ ہوتیں تو انسان شاید پتھر کی طرح بے حس ہوتا۔ بے رحمی ان کی فطرت میں سہی، مگر ان پر قابو پانا ہماری ہمت پر منحصر ہے۔ جینے کا ہنر یہی ہے کہ یادوں کو پیچھے چھوڑ کر قدم آگے بڑھایا جائے، کیونکہ جو بیت گیا وہ خواب تھا، اور جو سامنے ہے وہی حقیقت ہے۔
دعاؤں کا طلبگار محمد مسعود نوٹنگھم یو کے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں