ماں باپ کا سایہ
ماں باپ کا سایہ محمد مسعود واہ ہاتھ جو پونچھتے تھے آنسو میرے مٹ جاتے تھے غم ، جنکی دعاؤں کے اثر سے ڈھونڈتے ہیں وہ کندھے ، روتی تھی آنکھ جن پر ماں باپ کا سایہ جب اٹھ جاتا ہے سر سے انگلی پکڑ کر چلنا ، ہزار خواہشیں کرنا گزرتی تھی انکی زندگی ، ہمارے ہی ڈگر سے یاد آتی ہیں وہ باتیں دل روتا ہے آہ اکثر ماں باپ کا سایہ جب اٹھ جاتا ہے سر سے وہ روٹھنا ہمارا ، وہ آنسو بہانا پوری ہوتی تھیں خواہشیں ، ہمارے اس اثر سے باغ آتے ہیں یاد ، چبھتے ہیں کانٹے اکثر ماں باپ کا سایہ جب اٹھ جاتا ہے سر سے دل توڑنا نا انکا ، نا تکلیف کبھی دینا نکالنا ہے تمھیں ہی اُنہیں اشکوں کے شہر سے یتیموں کو دیکھو اُنہیں جا کر سمجھو ، کیا ہوتا ہے تب ماں باپ کا سایہ جب اٹھ جاتا ہے سر سے وہ دھندلی سی آنکھیں ، وہ معصوم سا چہرہ یتیموں کو دیکھو گے ، جب ان کے ہی نظر سے سمجھ جاؤگے آں تم بھی ، کیا ہوتا ہے ...