مطلب کی دُنیا

مطلب کی دُنیا

مطلب کی دنیا تھی اِس لیے چھوڑ دیا سب سے ملنا
ورنہ یہ چھوٹی سی عمر تنہائی کے قابل تو نہ تھی



ہم نے تو الزامِ محبت کے ڈر سے چھوڑ دیا دیس اپنا
ورنہ یہ چھوٹی سی عمر پردیس کے قابل تو نہ تھی



محمد مسعود 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں