محبت کے سفر

محبت کے سفر میں 
محمد مسعود 


محبت کے سفر میں کوئی بھی راستہ نہیں دیتا
زمیں واقف نہیں بنتی، فلک سایہ نہیں دیتا


خوشی اور دکھ کے موسم سب کے اپنے اپنے ہوتے ہیں
کسی کو اپنے حصے کا کوئی لمحہ نہیں دیتا


اداسی جس کے دل میں ہو اسی کی نیند اڑتی ہے
کسی کو اپنے حصے کا کوئی سپنا نہیں دیتا


اٹھانا خود ہی پڑتا ہے تھکا ٹوٹا بدن اپنا
کہ جب تک سانس چلتی ہے کوئی کاندھا نہیں دیتا



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں