اشاعتیں

دسمبر, 2015 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کسی کے بارے میں غلط یا بُرا سوچنا

تصویر
بد گمانی کیا ہے ( یا ) کسی کے بارے میں غلط یا بُرا سوچنا  محمد مسعود نونٹگھم یو کے بدگمانی کیا ہے کسی کے بارے میں برا سوچنا، اس کے بارے میں غلط اندازے لگانا اور پھر ان اندازوں اور مفروضوں کی بنیا دپر کوئی اقدام کرگذرنا۔ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ ہمیں کسی سے کوئی شکایت ، کوئی تکلیف، کوئی اختلاف یا کوئی پریشانی ہوجاتی ہے۔ اب ہم یہ سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ اس نے ایسا رویہ کیوں اختیار کیا، ایسا منہ کیوں بنایا، کیوں وہ اس وقت خاموش رہا وغیرہ۔  یہ بظاہر ایک نارمل سی بات ہے جو ہمارے ذہن میں پیدا ہوتی ہے۔ دراصل ہم کسی کے غلط روئیے کی توجیہہ کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ بات عام طور پر باڈی لینگویج میں ہوتی ہے  اس لئے ہم اس سے براہ راست اس روئیے کی وجہ بھی نہیں پوچھ پاتے۔ یہیں سے گمانوں کا سفر شروع ہوتا ہے، یہیں سے ہم ٹوہ لینا شروع ہوجاتے ہیں، یہیں سے ہم اندازوں میں غلطاں ہوجاتے ہیں کہ  شاید یہ وجہ ہوگی یا وہ وجہ۔ اس منفی سوچ کے موقع کو  شیطان بہت آسانی سے استعمال کرتا اور ہمارے  ذہن میں اپنے بھائی یا بہن  کے خلاف  سوچیں پیدا کرتا ہے۔ وہ  یہ خیال دل میں ڈالتا ہے ک...

تابہ نظر ایک شہر خموشاں ہے

تابہ نظر ایک شہر خموشاں ہے کُچھ طائروں کی صدائیں ہیں یسین کا وردھ اور اگر بتیوں کی ہے خوشبو کہیں تازہ قبروں پہ تازہ گلابوں کے کُچھ ہار ہیں  ایک تھکا ہارہ حالات کا سخت مارا کوئی نوجوان رو رہا ہے  سنو میری پیاری ماں  اپنے آنگن میں برگد کا جو پیڑ تھا  جس کے سائے میں ایک چار پائی پہ تو بیٹھ کر خالقِ دو جہان کی ثناُء کرتی رہتی تھی وہ کٹ گیا  صحن کے بیچ میں اب ایک دیوار ہے گھر ہی کیا گھر میں جو کچھ بھی تھا بھائیوں اور بہنوں میں سب کُچھ بٹ گیا میرے حصے میں تیری محبت ہے ماں تیری دُعائیں ہیں ماں اور مہرباں لمس کی مہرباں یادیں ہیں  میرا سر گود میں رکھ کہ مُدت ہوئی  ایک لمحہ بھی شب بھر میں سویا نہیں  تو خفا ہو گی مُجھ سے یہی سوچ کر بس سلگتا رہا اور رویا نہیں  اپنی مرحومہ ولداہ محترمہ کے نام 

میں گناہ گار ہوں

تصویر
بسمالله الرحمن الرحيم مجھ کو بھی میرے دوست دعاؤں کیلئے کہتے ہیں  کس قدر میرے اللہ نے میرے گناہ چھپا رکھے ھیں جب لوگ تمہاری شخصیت سے متاثر ہوں تو انکے متاثر ہونے پر خوش نہ ہونا بلکہ اس بات پرخوش ہونا کہ  اللہ جل شانہ' نےکتنی خوبصورتی سے آپکے عیبوں کی پردہ پوشی کی ھے بےشک اللہ ہی عزت دینے والا ہے الحمداللہ_رب العالمین  ارحمنا یا ارحم الراحمین آمین یا ستار العیوب آمین یارب العالمین السلام علیکم محمد مسعود

جَد دا پُتر باہر گیا اے

تصویر
محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے جَد دا پُتر باہر گیا اے خالی ھو گھربار گیا اے چوٹھے ہاسے ھسدی پئی اے ماں لوکاں نو دسدی پئی اے ڈالر پانڈ کماندا اے سوھنا اوتھے دفتر جاندا اے سوھنا  اچی کوٹھی پا بیٹھی آں سوھنا گھر بنا بیٹھی آں کلی چھڈ کے کوٹھی پائی اے کیتی ساری اوس کمائی اے  گھر پراڈو وی کل لئی اے اونج وی نوکر چاکر کئی اے پیو دا پار اٹھا لیا اے سوھنے ایناں کج کما لیا اے سوھنے جدوں وی شہر میں جانی آں لکھاں دے وچ لانی آں مڑ کاھدا پردیس نی اڑیئے باھر وی اپنا ای دیـس نی اڑیئے اوھدی کال وی آندی اے ڈیلی گل ھو جاندی اے  جد وی کوئی مجبوری ھووے اوھدا آن ضروری ھو وے  دو گھنٹے وچ آجاندا اے سارے کم مکا جاندا اے ایـنے وچ دو ھنجو ڈھپئے انج نکلے کے بولن ڈھپئے فر ماں سچ سچ بولن لگ پئی دل دے زخم پھرولن لگ پئی  باھرو باھری جینے آں اڑئیے اندروں تاں او مار گیا اے جد دا پتر باھر گیا اے خالی ھو گھر بار گیا اے روٹی ٹھنڈی کھاندا نئی سی کپڑے میلے پاندا نئی سی  نیند دا بڑا پکا سی او سویرے مسیتے جاندا نئی سی  اینا غصہ کردا سی گل گل اتے لڑدا سی  اوتھے کس نال لڑدا ھوسی کیويں گزار...

میں تو یک مُشت سونپ دوں سب کچھ لیکن

محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یوکے میں تو یک مُشت سونپ دوں سب کچھ لیکن بھلا ایک مٹھی میں میرے خواب کہاں اتے ہیں  مدتوں بعد جو اسے دیکھ کے دل بھر آیا  ورنہ صحراوں میں سیلاب کہاں آتے ہیں  میری بے درد نگاہوں میں اگر بھولے سے  نیند ائی بھی تو اب خواب کہاں اتے ہیں  تنہا رہتا ہوں میں دن بھر بھری دنیا میں  مسعود دن برے ہوں تو احباب کہاں اتے ہیں  مورخہ ۱۶/۱۰/۲۰۱۵ بروز جمعہ شام ۱۱بجکر ۴۱ منٹ پر

بیٹیاں

تصویر
محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے ایک شخص کے ہاں صرف بیٹیاں تھیں ہر مرتبہ اس کو امید ہوتی کہ اب تو بیٹا پیدا ہوگا مگر ہر بار بیٹی ہی پیدا ہوتی اس طرح اس کے ہاں یکے بعد دیگرے چھ بیٹیاں ہوگئیں اس کی بیوی کے ہاں پھر ولادت متوقع تھی وہ ڈر رہا تھا کہ کہیں پھر لڑکی پیدا نہ ہو جائے شیطان نے اس کو بہکایا چناں چہ اس نے ارداہ کرلیا کہ اب بھی لڑکی پیدا ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا۔ اس کی کج فہمی پر غور کریں بھلا اس میں بیوی کا کیا قصور۔ رات کو سویا تو اس نے عجیب وغریب خواب دیکھا اس نے دیکھا کہ قیامت برپا ہو چکی ہے اس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جن کے سبب اس پر جہنم واجب ہوچکی ہے۔ لہٰذا فرشتوں نے اس کو پکڑا اور جہنم کی طرف لےگئے پہلے دروازے پر گئے۔ تو دیکھا کہ اس کی ایک بیٹی وہاں کھڑی تھی جس نے اسے جہنم میں جانے سے روک دیا۔ فرشتے اسے لے کر دوسرے دروازے پر چلے گئے وہاں اس کی دوسری بیٹی کھڑی تھی جو اس کے لئے آڑ بن گئی۔ اب وہ تیسرے دروازے پر اسے لے گئے وہاں تیسری لڑکی کھڑی تھی جو رکاو ٹ بن گئی۔ اس طرح فرشتے جس دروازے پر اس کو لے کر جاتے وہاں اس کی ایک بیٹی کھڑی ہوتی جو اس کا دفاع کرتی اور جہنم میں جا...

بھٹکا ہوا مسافر

تصویر
اے زندگی میں تجھ سے بس اتنا پوچھتا ہوں منزل کہاں ہے میری  کچھ تو مجھے بتا دے بھٹکا ہوا مسافر  ہوں رستہ مجھے دکھا دے محمد مسعود

فیس بک بہت خطر ناک ہے

تصویر
    محمد مسعود ( نونٹگھم یو کے ) سوشل میڈیا جہاں اپنے کئی فوائد رکھتا ہے وہیں اس کے منفی پہلو بھی ہیں۔ آج اکثر لوگ اپنے روزمرہ زندگی کے معمولات تک سوشل میڈیا پر شیئر کر دیتے ہیں جس سے انہیں نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے، کیونکہ اس طرح ہر شخص ان کی نقل و حرکت اور خریداری جیسے ذاتی کاموں سے بخوبی آگاہ ہو جاتا ہے۔ اگر آپ محفوظ رہنا چاہتے ہیں اور اپنی زندگی میں سکون اور راحت لانا چاہتے ہیں تو برائے مہربانی میری اِن پانچ باتوں پر عمل کریں آئیے  ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ وہ پانچ باتیں کون سی ہیں اور آپ کبھی بھی اِن باتوں کو اپنی فیس بک یا کسی سوشل میڈیا ویب سائٹ پر شیئر نہ کریں۔ ( ۱ ) سب سے پہلے آپ کبھی بھی فیس بک پر یہ بات شیئر نہ کریں کہ آپ کب گھر چھوڑ کر جاتے ہیں اور کب واپس آتے ہیں۔ کیونکہ اس سے شرپسند عناصر آپ کے اس معمول سے واقف ہونے کے بعد آپ کی عدم موجودگی میں آپ کے گھر کسی بھی طرح کی واردات کر سکتے ہیں۔ ( ۲ ) دوسرے نمبر پر کبھی بھی سوشل میڈیا پر اپنی شاپنگ کے متعلق معلومات شیئر نہ کریں، اس سے لوگوں کو ایک تو آپ کی مالی حیثیت کا اندازہ ہو جاتا ہے اور دوسرے انہیں یہ معل...

بیٹا شام سے پہلے گھر لوٹ آیا کرو

تصویر
بیٹا شام سےپہلے گھر لوٹ آیا کرو محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے ﻣﺠﮭﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﺳﮯ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺷﺎﻡ ہوتے ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮒ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﮩﺖ ﺁﻭﺍﺭہ ﭘﮭﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ کہتی ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺷﺎﻡ ہونے ﺳﮯ ﮐُﭽﮫ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﻟُﻮﭦ ﺁﯾﺎ ﮐﺮ ﺑﻼﺋﯿﮟ ﺷﺎﻡ ہوتے ہی ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺍُﺗﺮﺗﯽ ہیں ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﯿﺐ ہوتے ہیں ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻡ ہوتے ہی ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮒ ﮐﺮ ﯾﺎﺭﻭ ﮔﻠﯽ ﮐﻮﭼﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﯿﺎﺑﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﻨﮉﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﻣﺎﺭﺍ ﻣﺎﺭﺍ ﭘﮭﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮎ ﺷﻮﻕ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﻼﺋﯿﮟ ﮐُﭽﮫ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺳﯿﺐ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺎﯾﮧ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮍﯾﻞ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮩﺮُﻭﭖ ﺍﭼﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﺭﻗﺺ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﮯ ﺍُﻟﭩﮯ ﭘﺎﻭٴﮞ ﮐﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﭼﯿﮭﮍﻭﮞ ﺗﻮ ﺟﮭﭧ ﺳﮯ ﺭُﻭﭖ ﻭﮦ ﺑﺪﻟﮯ ﻭﮦ ﺍﺻﻠﯽ ﺭُﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﮈﺭ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮒ ﺟﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﯾﺎﺭﻭں  ﮐﻮ ﮐﺌﯽ ﻗﺼﮯ ﺳُﻨﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﻼﺋﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ہوتی  ہیں ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ہوتی ہیں  ﮔﺰﺍﺭﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﺑﭽﭙﻦ ﯾﻮﮞ ﻣﺘﺠﺴﺲ ﺑﮯ ﺛﻤﺮ ﮔﺬﺭﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺳﯿﺐ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﻼ دیکھی ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﻞ ﭘﺎﺋﯽ ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺁﺝ ﻣﺪﺕ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻡ ہوتی  ہے ہوا ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﯽ ہے ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺳﺎ ﭼﮭﺎ...

جب شہر چپ ہو ہنسا لو ہم کو

تصویر
جب شہر چپ ہو ہنسا لو ہم کو شاعر محمد مسعود یوکے جب شہر چپ ہو ہنسا لو ہم کو جب اندھیرا ہو جلا لو ہم کو ہم حیقیقت ہیں نظر آتے ہیں  داستانوں میں چھپا ہم کو دن نہ پا جائے کہیں صبح کا راز صبح سے پہلے اُٹھا لو ہم کو ہم زمانے کے ستائے ہیں بہت اپنے سینے سے لگا لو ہم کو وقت کے ہونٹ ہمیں چھو لیں گے   ان کہے بول ہیں ہم گا لو ہم کو ( شاعر محمد مسعود یوکے )