اشاعتیں

نومبر, 2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا

Agar kal tum utho aur tumhe pata chale ke mein nahin raha اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا محمد مسعود نونٹگھم یو کے Agar kal tum utho aur tumhe pata chale ke mein nahin raha To apni num nigahoun se mujhse aakhri baar milnay aajana اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا تو اپنی نم نگاہوں سے مُجھے آخری بار ملنے آ جانا Agar kal tum utho aur tumhe pata chale ke mein nahin raha Tou apni yaadoun se mujhay mehroom na kerna اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا  تو اپنی یادُوں سے مُجھے مرحُوم نہ کرنا  Agar kal tum utho aur tumhe pata chale ke mein nahin raha Tou apni mohabbat ki chadar mein mujhay bhigho ke rakhna اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا تو اپنی محبت کی چادر میں مُجھے بھیگو کے رکھنا Agar kal tum utho aur tumhe pata chale ke mein nahin raha To raat ki chandni mein ae meray chand sitara bane mujhay saath deakhna اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا تو رات ...

دسمبر کے گُزرتے ہی

December ke guzarte hi barss aik oor maazi ki jafaun main doob jaye ga Use Kehna tum دسمبر کے گُزرتے ہی  برس ایک اور ماضی کی جفاوں میں ڈُوب جئے گا اُسے کہنا تم December kay guzernay say zara pehle, Mohabbat ki kahani ko koi takmeel dey jana Usey Kehna tum دسمبر کے گُررنے سے زرا پہلے محبت کی کہانی کو کوئی تکمیل دے جانا اُسے کہنا تم December ka Maheena jaisay guzrey ga Umeedain Doob jayein gi Wo Sapnay toot jayein gay Usey Kehna tum دسمبر کا مہینہ جسے گُررنے گا اُمیدیں ڈُوب جائیں گی وہ سپنے ٹُوٹ جائیں گے اُسے کہنا تم December kay guzarnay say zara pehley Mohabbat ko koi tabeer dey jaye Usey Kehna دسمبر کے گُررنے سے زرا پہلے محبت کو کوئی تبیر دے جائے اُسے کہنا تم Mukadar ko hamaray doob janay say bacha lena Usey Kehna tum مقدر کو ہمارے ڈُوب جانے بچا لینا  اُسے کہنا تم Decemebr ahya aur Ja bi raha hai Aur ab aik aur saal guzar gaya دسمبر آیا اور جا بھی رہا ہے اور اِب ایک اور سال گُزر جائے گا MOHAMMED MASOOD...

درد کی سیاہی سے لکھایہ میرا نصیب ہے

درد کی سیاہی سے لکھایہ میرا نصیب ہے  بک گئی میر ی محبت کیونکہ میں غریب تھا پل بھر کوتو ہم بھی نہ سنبھل پائے تھے گزرا ہے جو ہم پروہ حادثہ بھی عجیب تھا تمام عمر زندگی سمجھ کر جسے چاہا آخر سفر میں وہ دل کے قریب تھا خوشیاں بانٹا رہا میں سب سے زندگی کی اب غم کے اندھیروں میں نہ کوئی شریک تھا دل دنیا دیوتا سب پتھر کے ہیں مسعود  پوجا ایک پیار کو پر وہ بھی فریب تھا (محمد مسعود)

ہر روز جب شام ڈھلتی ہے

ہر روز جب شام ڈھلتی ہے M Masood Nottingham  UK  ہر روز جب شام ڈھلتی ہے تمام پرندے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں جب رات کو آسمان پر چاند ستارے چمکتے ہیں جب سورج کی کرنیں زمیں پر روشنی بکھیرتی ہیں جب بارش برستی ہے جب شمع ساری رات جلتی ہے جب نیند نہیں آتی  جب محبت جاگتی اور زمانہ میھٹی نیند سوتا ہے اِن لمحوں میں مجھے صرف تم یاد آتے ہو صرف ایک بار آو میرے دل میں اپنی محبت دیکھنے پھر لوٹنےکا ارداہ ہم تم پر چھوڑ دیں گے مسعود اُسے ہم چھوڑ دیں لیکن بس ایک چھوٹی سی اُلجھن ہے سنا ہے دل سے دھڑکن کی جدائی موت ہوتی ہے

تیری لاجواب چاہت کو ہم بھلائیں کیسے

تیری لاجواب چاہت کو ہم بھلائیں کیسے تم کو بھول کر خود کو چین دلائیں کیسے نجانے کون سی کشش تیرے پاس لے آتی ہے تیرے پاس آ کر تجھ میں سمائیں کیسے ہم نے تو دل سے چاہا ہے تجھے مگر تیری چاہت کے قابل خود کو بنائیں کیسے کیوں پوچھتے ہو آنسوؤں کی شدت  ہم اِن میں تیرا عکس دیکھائیں کیسے ہم تو صرف تم سے محبت کرتے ہیں مگر تمہیں یہ احساس دلائیں کیسے (محمد مسعود)

دو پل ساتھ چل کر چھوڑ دیا تم نے

دو پل ساتھ چل کر چھوڑ دیا تم نے  شاعر محمد مسعود نوٹیگم یو کے دو پل ساتھ چل کر چھوڑ دیا تم نے  وفا کی ڈوری کو ہی توڑ دیا تم نے زرہ بھر بھی تم نے خیال کیا نہ ہمھارا میری روح کے تاروں کو جھنجھوڑ دیا تم نے اب کہاں گئیں وہ قسمیں وہ تیرے وعدے تم بتاوٴ کیوں ہم سے مُکھ مُوڑ لیا تم نے خوش رہو ہمیشہ یہی ہے دعا مسعود کی بے شک اِس معصوم دل کو توڑ دیا تم نے (محمد مسعود)

دل میں کچھ درد ہے بہت اُداس ہوں میں

دل میں کچھ درد ہے بہت اُداس ہوں میں  محمد مسعود نوٹنگھم یو کے  دل میں کچھ درد ہے بہت اُداس ہوں میں  رات بھی کچھ سرد ہے بہت اُداس ہوں میں اپنے خوابوں کے یوں بے وقت ٹوٹ جانے پر پُر نم آنکھوں میں جمی کچھ گرد ہے بہت اُداس ہوں میں اِسے کچھ کھو کر نہ ہم رو سکے نہ شب بھر سو سکے کسی آنکھوں میں کچھ کرب ہے بہت اُداس ہوں میں وہ جس کا راج ہے دل وُ جان پر میرے اوروں کی نظر میں ایک فرد ہے بہت اُداس ہوں میں کھو کر مجھے وہ بھی پشمیان رہتا ہےاکثر مسعود سُنا ہے پری چہرہ  اِس کا زرد ہے بہت اُداس ہوں میں

میری نیند مجھ سے بچھڑ گئی

میری نیند مجھ سے بچھڑ گئی (محمد مسعود نوٹنگھم یو کے) میری نیند مجھ سے بچھڑ گئی میرے سپنے مجھ سے جُدا ہو گئے یہ بڑا ہی دُکھ اور غم کا موقع ہے زرا لوٹ آؤ میں بہت اُداس ہوں  کوئی پُھوٹ پُھوٹ  کر رو رہا ہے ابھی تلک تو میری ذات ہی ہے میرے دل میں ایک  تازہ زخم ہے زرا لوٹ آؤ میں بہت اُداس ہوں  تیرے دم سے زندہ ہوں آج بھی تُو ہی تو جینے کی ایک اُمید ہے تیرے بعد میرا جینا بہت محال ہے زرا لوٹ آؤ میں بہت اُداس ہوں  زرا لوٹ آؤ میں بہت اُداس ہوں   

آ جاؤ آج میرے آنگن میں تُم زرا شام کے بعد

آ جاؤ آج میرے آنگن میں تُم زرا شام کے بعد (محمد مسعود نوٹنگھم) آ جاؤ آج میرے آنگن میں تُم زرا شام کے بعد مل کے مانگیں گے محبت کی آج دُعا شام کے بعد جن کی تقدیر میں خواب نہیں نیند نہیں اور سُکون اُوڑھ لیتے ہیں وہ ستاروں کی ردا شام کے بعد  آؤ مل بیٹھ کے ہم کچھ تھوڑا سا وقت گُزاریں میں سناؤں تجھے اور تو اپنی سُنا شام کے بعد تم تو مجھے چھوڑ گئے تھے شام سے پہلے پہلے  یہ نہ پُوچھو کہ میرا کیا حال ہوا تھا شام کے بعد تم یہاں تھے تو ہر ایک شام سجی سُہانی رہتی تھی اب تو ایسے لگتا ہے شام ہوتی ہی نہیں شام کے بعد

سب سے اچھے لفظ

سب سے اچھے لفظ محمد مسعود میڈوز نوٹنگھم سب سے اچھے لفظ میں صبح و شام لکھتا ہوں زمیں پر جس قدر اچھی زبانیں بولی جاتی ہیں میں ان سے حرف چنتا ہوں اور پھر درد بھرے سے شعر لکھتا ہوں میری طرف سے سب کو اسلام علیکم  اُن سب کا بہت بہت شکریہ  جو مجھ سے اتنا پیار کرتے  اور مجھے ہمیشہ یاد رکھتے ہیں  محمد مسعود میڈوز نوٹنگھم

آنسو نہیں رُکتے

آنسو نہیں‌ رُکتے میری آنکھوں میں‌ ابھی تک جاتے ہوئے روتا وہ مجھے چھوڑ گیا تھا ارمانوں کی دُنیا کے انمول سے سپنے پل میں‌ وہ میرے سامنے سب توڑ گیا  (محمد مسعود)

غم

زندگی میں چلتے چلتے غم بھی آئیں گے تُو مسکرائے گا تو غم بھاگ جائیں گے۔

تیرا زکر

بات کیا تھی یہ مجھے اچھی طرح یاد نہیں ہاں تیرا ذکر بھی تھا اور بڑی تفصیل سے تھا

اپنی باتوں میں میرے نام کے حوالے رکھنا

اپنی باتوں میں میرے نام کے حوالے رکھنا مجھ سے دور ھو تو خود کو سنبھالے رکھنا لوگ پوچھیں گے کیوں پریشان ھو تم کچھ نگاہوں سے کہنا زبان پہ تالے رکھنا نہ کھونے دینا میرے بیتے لمحوں کو میری یاد کو بڑے پیار سے سنبھالے رکھنا تم لوٹ آؤ گے اتنا یقین ھے مجھ کو میرے لیے کچھ وقت نکالے رکھنا دل نے بڑی شدت سے چاہا ھے تمہیں میرے لیے اپنے وہی انداز پرانے رکھنا

کسی کی خاطر قرار کھونا کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا

کسی کی خاطر قرار کھونا  کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا تمھارا راتوں کو اُٹھ کر رونا  کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا زمانہ عہدِ شباب کا ہے  نئے خواب و خیال کا ہے شبِ بیداری اور دن کا سونا  کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا بھنور میں تُم ہم کو چھوڑ آتے  یونہی محبت کا راز رہتا لا کے ساحل پہ یوں ڈبونا  کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا کہا یہ میں نے  تم زندگی ہو میری وه ہنس کے بولے چُپ رہو نہ  کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا 

میری زندگی کو ایک تماشا بنا دیا اُس نے

Meri Zindgi Ko Ek Tamasha Bana Dia Us Ne میری زندگی   کو ایک تماشا بنا دیا اُس نے شاعر محمد مسعود نونٹگھم یو کے Meri Zindgi Ko Ek Tamasha Bana Dia Us Ne Bhari Mehfil Mein Tanha Bitha Dia Us Ne میری زندگی کو ایک تماشا بنا دیا اُس نے بھَری محفل میں تنہا بیٹھا دیا اُس نے Aysi Kya Thi Nafrat Us Ko Es Masoom Dil Se Khushiyan Chura Kar Gham Thama Dia Us Ne ایسی کیا تھی نفرت اُس کو اِس مصُوم دل سے خوشیاں چُرا کر غم تھما دیا اُس نے Bohat Naz Tha Us Ki Wafa Pe Kabhi Hum Ko Mujh Ko He Meri Nazron Mein Gira Dia Us Ne بہت ناز تھا اُس کی وفا پہ کبھی ہم کو مجھ کو ہی میری نظروں میں گرا دیا اُس نی Khudh Be-Waf Tha Meri Wafa Ki Kya Qadar Karta Anmol Tha Main MASOOD” Khaak Mein Mila Dia Us Ne  خُود بے وفا تھا میری وفا کی کیا قدر کرتا انمول تھا میں مسعود خاک میں ملا اُس نے Kisi Ko Yaad Karna To Us Ki Fitrat Mein Shamil Nahi Hawa Ka Jhonka Samjh Kar Bhula Dia Us Ne  کسی کو یاد کرنا تو اُس کی فطرت میں شامل نہیں  ہوا کا ج...

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا محمد مسعود نوٹنگھم  یوکے دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا ہم نے چپ چاپ اسے خود سے بچھڑتے دیکھا تجھ کو سوچا تو ہر سوچ میں خوشبو اُتری تجھ کو لکھا تو ہر لفظ کو مہکتے دیکھا یاد آ جائے تو قابو نہیں رہتا دل پر ورنہ دنیا نے بھی ہم کو تڑپتے دیکھا تری صورت کو فقط آنکھ ہی نہ ترسی ہے راستوں کو بھی تیری یاد میں روتے دیکھا ہم محبت کے لیے آج بھی دیوانے ہیں مسعود یہ ایک الگ بات ہے کہ تو نے نہیں مُڑ کے دیکھا

میرا درد بڑھتا ہی رہے ایسی دوا دے جاؤ

میرا درد بڑھتا ہی رہے ایسی دوا دے جاؤ  کچھ نہ کچھ میری وفاؤں کا صلہ دے جاؤ  یوں نہ جاؤ کہ میں رو بھی نہ سکوں فرقت میں میری راتوں کو ستاروں کی ضیاء دے جاؤ  ایک بار آؤ تم کبھی اتنے اچانک پن سے نا اُمیدی کو تحیریر کی سزا  دے جاؤ  دشمنی کا کوئی پیرا یہ نادر ڈھونڈو جب بھی آؤ ہمیں جینے کی دُعا دے جاؤ  وہی اخلاص و مروت کی پرانی تہمت  دوستوں مجھے کوئی تو الزام نیا دے جاؤ کوئی صحرا اگر راہ میں آ جائے مسعود دل یہ کہتا ہے ایک عدد صدا دے جاؤ  

کُچھ نہیں بس تھوڑا سا سُکون چاہیے

kuch nahi bus thoda sa sukun chaiye Poet: M.Masood Nottingham uk  کُچھ نہیں بس تھوڑا سا سُکون چاہیے  محمد مسعود نوٹنگھم یو کے kuch nahi bus thoda sa sukun chaiye na mohabat chayie aur na nafrat chaiye کُچھ نہیں بس تھوڑا سا سُکون چاہیے  نہ محبت چاہیے اور نہ نفرت چاہیے  na aanso chaiye na khushi chaiye  na din chaiye aur na raat chaiye  نہ آنُسو چاہیے نہ خُوشی چاہیے  نہ دن چاہیے اور نہ رات چاہیے  na akela rahu na kisi ka saath chaiye na dil chayie aur na demagh chaiye نہ اکیلا رہوں نہ کسی کا ساتھ چاہیے  نہ دل چاہیے اور نہ دماغ چاہیے  na hasrat hai koi pura Karne ki na zarurat hai yun hi Marne ki نہ حسرت ہے کوئی پُورا کرنے کی  نہ ضُرورت ہے یوں ہی مرنے کی bus chaiye to bus sukun chaiye is zindagi me bus sukun chaiye بس چاہیے تو بس سُکون چاہیے  اِس زندگی میں بس سُکون چاہیے 

کُچھ بھی نہیں چائیے بس تھوڑا سا مجھے سُکون چاہیے

کُچھ بھی نہیں چائیے بس تھوڑا سا مجھے سُکون چاہیے محمد مسعود نوٹنگھم یو کے  کُچھ بھی نہیں چائیے بس تھوڑا سا مجھے سُکون چاہیے  نہ تو اب مجھے محبت چاہیے اور نہ ہی مجھے نفرت چاہیے  نہ تو اب مجھے آنُسو چاہیے اور نہ ہی مجھے خُوشی چاہیے  نہ تو اب مجھے دن چاہیے اور نہ ہی اب مجھے رات چاہیے  نہ کبھی اکیلا رہوں میں اور نہ کسی کا مجھے ساتھ چاہیے  نہ تو سوچنے کے لیے دل چاہیے اور نہ ہی مجھے دماغ چاہیے  اب تو میرے دل میں نہ ہی حسرت ہے کوئی پُورا کرنے کی   نہ ہی اب مجھے ضُرورت ہے یوں ہی گُھٹ گُھٹ مرنے کی اور اب کچھ نہیں چائیے بس چاہیے تو بس مجھے سُکون چاہیے  اور اب کچھ نہیں آب اِس زندگی میں بس مجھے سُکون چاہیے   

آنسو نہیں رُکتے میری آنکھوں میں ابھی تک

Aansu nahi thamte hain aankhon main abhi tak آنسو نہیں رُکتے میری آنکھوں میں ابھی تک شاعر محمد مسعود نونٹگھم یو کے POET: M,MASOOD Aansu nahi thamte hain aankhon main abhi tak  Jaate hue rota woh mujhe chorr Gaya  Tha آنسو نہیں رُکتے میری آنکھوں میں ابھی تک جاتے ہوئے روتا وہ مجھے چھوڑ گیا تھا Armano ki Duniya ke anmol se sapne  pal main woh mere saamne sab torr Gaya  Tha ارمانوں کی دُنیا کے انمول سے سپنے پل میںوہ میرے سامنے سب توڑ گیا تھا Jaan deti thi meri her baat pe lekin yun hi  Besabab Duniya se mera rukh morr Gaya Tha جان دیتا تھا میری ہر بات پہ لیکن یونہی بے سبب دُنیا سے میرا رُخ موڑ گیا تھا Din ki tanhayi ka gham, raaton ki uddasi humraah  Saare ghamon se rishta mera jorr Gaya Tha دن کی تنہائی کا غم راتوںکی اُداسی ہمراہ رشتہ میرا سارے غموں سے جوڑ گیا تھا Aey kaaaaash koi jaa ke usse pooche  Yahan kis ke sahare pe mujhe chor Gaya Tha اے کاش! کوئی جا کے اُس سے یہ پوچھے تنہا مجھے ک...

کتنی مشکل سے کٹی کل کی میری رات نہ پوچھو

کتنی مشکل سے کٹی کل کی میری رات نہ پوچھو   محمد مسعود نونٹگھم یو کے کتنی مشکل سے کٹی کل کی میری رات نہ پوچھو  دل سے نکلی ہوئی ہونٹوں میں دبی بات نہ پوچھو وقت جو بدلے تو انسان بھی بدل ہی جاتے ہیں  اکثر  کیا نہیں دکھلاتے زندگی میں گردش حالات نہ پوچھو وہ کسی کا ہو بھی گيا اور مجھے خبر بھی نہ ہوئی  کس طرح اس نے چھڑایا ہے مجھ سے ہاتھ نہ پوچھو  اس طرح پل بھر میں مجھے بیگانہ کر دیا اس نے  کس طرح اپنوں سے کھائی ہے میں نے مات نہ پوچھو  اب تیرا پیار نہیں ہے تو مسعود کچھ بھی نہیں ھے  کتنی مشکل سے بنی تھی دل کی کائنات نہ پوچھو