سوال یہ ہے کہ وہ کون سی چیز ہے جس کا نام پانچ حروف پر مشتمل ہے نام کا پہلا حرف میم ہے وہ چیز دن سے روشن ہے رات سے سیاہ ہے کھاؤ تو حرام ہے پیو تو حلال ہے عورت ساری زندگی میں ایک بار استعمال کرتی ہے اور مرد دن میں 5 بار استعمال کرتا ہے قرآن میں 5 مرتبہ ذکر ہے
دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا محمد مسعود نوٹنگھم یوکے دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا ہم نے چپ چاپ اسے خود سے بچھڑتے دیکھا تجھ کو سوچا تو ہر سوچ میں خوشبو اُتری تجھ کو لکھا تو ہر لفظ کو مہکتے دیکھا یاد آ جائے تو قابو نہیں رہتا دل پر ورنہ دنیا نے بھی ہم کو تڑپتے دیکھا تری صورت کو فقط آنکھ ہی نہ ترسی ہے راستوں کو بھی تیری یاد میں روتے دیکھا ہم محبت کے لیے آج بھی دیوانے ہیں مسعود یہ ایک الگ بات ہے کہ تو نے نہیں مُڑ کے دیکھا
کہو یہ دل سے کہ اب عشق کا گماں نہ کرے جو راہ اس کی نہیں ہے، اُدھر کو رَواں نہ کرے یہ وصل و ہجر کی قصّے کتاب میں ہی سہی اس ایک شخص کو اب زندگی بیاں نہ کرے جہاں قبول کی صورت نہ ہو نصیبوں میں وہاں یہ درد بھلا کب تلک فغاں نہ کرے؟ یہ ایک طرفہ سفر ہے، جو تمام ہونا نہیں، تو اے دلِ ناداں! کسی کی یہاں پَرواہ نہ کرے! اٹھو مسعود کہ یہ دنیا بہت ہزار رنگیں ہے یہ روشنی ہے فقط اس کو اپنی جاں نہ کرے یک طرفہ محبت یہ غزل یک طرفہ محبت کے درد کو پہچان کر دل کو سمجھانے اور خود کو سنبھالنے کا پیغام دیتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اپنے دل کو مخاطب کر کے کہہ رہا ہے کہ اسے چاہیے کہ وہ ایسے عشق کے وہم میں نہ پڑے جس کی کوئی حقیقت نہیں، اور ایسی راہ پر چلنا چھوڑ دے جو اس کی منزل نہیں۔ غزل میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ محبوب سے ملاقات وصل یا جدائی ہجر کی باتیں صرف کتابوں میں ہی اچھی لگتی ہیں، اور اب اس ایک شخص کو اپنی پوری زندگی کا محور بنانا چھوڑ دینا چاہیے۔ جہاں تقدیر میں محبت کا قبول ہونا لکھا ہی نہ ہو، وہاں یہ درد کب تک آہ و فریاد فغاں کرتا رہے گا؟ شاعر دلِ ناداں کو نصیحت کرتا ہے کہ چونکہ یہ محبت ایک یک طرف...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں