نسبت
لوگ اب بھی مجھے تیرا ہی سمجھتے ہیں
رشتے تو بدلے دل نہ بدلا لوگ سمجھتے ہیں
میں جہاں بھی گیا، تیری خوشبو ساتھ رہی
میرے لہجے سے میری پہچان لوگ سمجھتے ہیں
تو نے چھوڑا تو خبر یہ بھی نہ ہونے دی مجھے
کہ میری خاموشی کو میری رضا لوگ سمجھتے ہیں
میں نے آنکھوں سے بہائے ہیں کئی موسم مگر
میری ہنسی کو ہی میرا حوصلہ لوگ سمجھتے ہیں
تو کہیں اور کی دنیا میں خوش ہے شاید
اور مجھے آج بھی تیرا پتہ لوگ سمجھتے ہیں
میں نے لفظوں میں چھپایا ہے بہت کچھ مسعودؔ
میری تحریر کو بس شاعری لوگ سمجھتے ہیں
نسبت یہ غزل اندرونی کرب، جدائی اور پہچان کے دھوکے کا خوبصورت خلاصہ ہے۔ شاعر محمد مسعود ایک ایسے شخص کا حال بیان کرتا ہے جو ظاہری طور پر آگے بڑھ چکا ہے مگر باطن میں اب بھی ماضی کی نسبتوں میں بندھا ہوا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس نے رشتے بدل لیے ہیں، مگر درحقیقت اس کا دل اب بھی وہیں ٹھہرا ہوا ہے۔ شاعر محمد مسعود جہاں بھی جاتا ہے، محبوب کی خوشبو، یاد اور اثر اس کے ساتھ رہتے ہیں، جس سے اس کی پہچان آج بھی اسی نسبت سے جڑی ہوئی ہے۔ خاموشی کو لوگ اس کی رضامندی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ وہ خاموشی دراصل گہرے زخموں کی آواز ہے۔ آنکھوں کے آنسو، وقت کے موسم اور دل کے درد سب ہنسی کے پردے میں چھپے ہوئے ہیں، جسے دنیا حوصلہ سمجھتی ہے۔ محبوب کہیں اور خوش ہے، مگر شاعر محمد مسعود آج بھی اسی کا حوالہ بنا ہوا ہے۔ آخر میں شاعر محمد مسعود اعتراف کرتا ہے کہ اس نے اپنے دکھ لفظوں میں سمیٹ دیے ہیں، مگر دنیا انہیں محض شاعری سمجھ کر اصل درد سے بے خبر رہتی ہے۔
MohammadMasood#
UrduPoetry#
Nisbat#
Dard#
#Ghazal
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں