کسک
سجا کر مکر کی محفل، کیا خاموش منصف کو
عدل کے ہر ترازو پر، بہت ہی ظلم ہوا ہے
بھروسہ جس پہ کرتے تھے، اسی نے راستہ بدلا
ہماری سادہ لوحی پر، بہت ہی ظلم ہوا ہے
وہ جن کے ہاتھ میں اب تک، ہماری ہی لکیریں تھیں
انہی کے ہاتھ سے اب تو، بہت ہی ظلم ہوا ہے
پھٹے تلوے، کھلی آنکھیں اور یہ بکھری ہوئی یادیں
سفر کی ہر مسافت پر، بہت ہی ظلم ہوا ہے
لہو سے ہم نے لکھ ڈالا، فسانہ اپنی ہستی کا
مگر یہ کہہ کے ٹالا گیا، بہت ہی ظلم ہوا ہے
اس نظم “کسک” میں شاعر محمد مسعود نے معاشرتی ناانصافی، دھوکے اور ٹوٹے ہوئے اعتماد کی گہری تصویر کشی کی ہے۔ نظم کا مرکزی احساس یہ ہے کہ ظلم صرف کھلے دشمنوں سے نہیں، بلکہ اکثر اُن ہی ہاتھوں سے ہوتا ہے جن پر کبھی کامل بھروسا کیا گیا ہو۔ شاعر محمد مسعود مکر و فریب کی سجی ہوئی محفلوں اور خاموش منصف کی علامت کے ذریعے اس عدل کی طرف اشارہ کرتا ہے جو نظر آتے ہوئے بھی بے اثر ہے۔ ہر بند میں کسی نہ کسی سطح پر ہونے والے ظلم کا ذکر ہے چاہے وہ اعتماد کا ٹوٹنا ہو، قریبی رشتوں کی بے وفائی ہو یا زندگی کے سفر میں پیش آنے والی مسلسل ٹھوکریں۔ پھٹے تلوے اور کھلی آنکھیں مسلسل جدوجہد اور کڑی حقیقتوں کی علامت ہیں، جبکہ بکھری یادیں ماضی کے زخموں کو نمایاں کرتی ہیں۔ نظم کا اختتام اس تلخ حقیقت پر ہوتا ہے کہ اپنی ہستی کا فسانہ لہو سے لکھنے کے باوجود بھی مظلوم کی آواز کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ نظم درد، کرب اور احتجاج کی ایک مضبوط اور مؤثر مثال ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں