لفظوں کے درمیان ہم
لفظوں کے درمیان ہم
مرد نے جب بھی قلم اٹھائی،
عورت کو اس نے خوابوں کی روشنی لکھا،
اپنی کمی کو اس کی مسکراہٹ میں چھپایا،
اور خود کو مکمل سمجھ لیا۔
عورت نے جب بھی قلم اٹھائی،
مرد کو اس نے وقت کا فریب لکھا،
وعدوں کی بھیڑ میں تنہا،
اور سچ سے ذرا دور پایا۔
مگر لفظوں کے درمیان کہیں
ایک خاموش سچ بھی سانس لیتا رہا،
کہ دونوں ہی تھکے تھے،
دونوں ہی ٹوٹے تھے۔
مسعود کہتا ہے،
قصے ہمیشہ الزام سے شروع ہوتے ہیں،
اور سمجھ سے ختم،
جہاں محبت کو جیتنے کے لیے
خود کو ہارنا پڑتا ہے۔
یہ نظم مرد اور عورت کے باہمی تصورات اور دکھوں کو نہایت نرم مگر گہرے انداز میں بیان کرتی ہے۔ مرد جب عورت کے بارے میں لکھتا ہے تو اسے خوابوں کی روشنی اور اپنی کمیوں کا مداوا سمجھتا ہے، یوں وہ خود کو مکمل محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس عورت جب مرد پر قلم اٹھاتی ہے تو اسے وقت کا فریب، وعدوں میں گھرا ہوا مگر سچ سے دور پاتی ہے، کیونکہ اس کے تجربات میں تنہائی اور ٹوٹے ہوئے وعدے نمایاں ہیں۔ نظم یہ واضح کرتی ہے کہ دونوں کے الفاظ اپنے اپنے دکھ کی سچائی رکھتے ہیں، مگر حقیقت صرف ایک رخ سے مکمل نہیں ہوتی۔ لفظوں کے درمیان ایک خاموش سچ موجود ہے کہ دونوں ہی تھکے ہوئے اور ٹوٹے ہوئے انسان ہیں۔ شاعر محمد مسعود اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ کہانیاں اکثر الزام سے شروع ہوتی ہیں مگر اگر سمجھ پیدا ہو جائے تو وہ وہیں ختم ہو سکتی ہیں۔ محبت میں اصل جیت تب ہے جب انسان اپنی انا اور ضد کو ہار کر دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ یہی نظم کا مرکزی پیغام ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں