آخری سفر اور دنیا داری
وہ ہاتھ جو آج میرے ہاتھوں میں بڑے مان سے تھمے ہیں
وہ آنکھیں جو آج مجھ سے ملنے کو ترستی ہیں
وہ رشتے جن کے لیے میں نے اپنی نیندیں اور خواب گروی رکھ دیے
ایک دن سب بدل جائیں گے۔۔۔
جب میری آنکھیں بند ہوں گی اور سانس کی ڈوری ٹوٹے گی
تو محبتوں کا وہ حصار، جس کے بیچ میں جی رہا ہوں
اچانک ایک دیوار بن کر گرنے لگے گا
میرے اپنے، جن کی دنیا میرے دم سے تھی
وہ گھڑی کی سوئیوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہوں گے
کسی کو جلدی ہو گی کہ تدفین کا وقت نکلا جا رہا ہے
کسی کو اپنی بھوک ستائے گی کہ ابھی کھانا طے ہونا باقی ہے
وہ جو مجھ سے لپٹ کر روتے تھے
وہ فون پر اپنے ضروری کام نپٹاتے نظر آئیں گے
بچے، جو میری زندگی کا حاصل ہیں
شاید ان کے ذہن میں گھر کی تقسیم اور بینک بیلنس کا حساب ہو گا
دوستوں کو اپنی محفلوں میں واپسی کی فکر ہو گی
اور عزیز و اقارب کو اپنے گھروں کے دور دراز راستوں کی
عجیب منظر ہو گا وہ بھی۔
لاش میری ہو گی، اور مصلحتیں ان کی
دکھ میرا ہو گا، اور گھبراہٹ ان کی
میں خاموش پڑا دیکھوں گا کہ
انسان کتنا اکیلا ہے اور رشتے کتنے کمزور
وہ جلدی میں ہوں گے کہ خاک کو خاک کے حوالے کریں
اور میں اس خاموشی میں مسکرا کر سوچوں گا
اے مسعود! جس دنیا کے لیے تو نے اپنا سکون بیچا
وہ دنیا تجھے الوداع کہنے میں بھی کتنی عجلت میں ہے!
یہ تحریر انسان کی عارضی زندگی اور دنیا کی بے ثباتی کا گہرا نوحہ ہے۔ شاعر محمد مسعود ان رشتوں، محبتوں اور قربانیوں کا ذکر کرتا ہے جن کے لیے انسان اپنی نیند، خواب اور سکون قربان کر دیتا ہے، مگر موت کے بعد یہی سب رشتے لمحوں میں بدل جاتے ہیں۔ جس محبت کے حصار میں وہ جیتا ہے، وہ اچانک ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔ اپنے عزیز، بچے، دوست اور رشتہ دار اپنی اپنی مصروفیات، بھوک، وقت کی پابندی، گھریلو معاملات اور دنیاوی حساب کتاب میں الجھ جاتے ہیں۔ دکھ اور جدائی کے بجائے جلدی، مصلحت اور سہولت غالب آ جاتی ہے۔ شاعر محمد مسعود اس منظر کو خاموشی سے دیکھتے ہوئے انسان کی تنہائی اور رشتوں کی کمزوری کا احساس کرتا ہے۔ آخر میں وہ خود سے مخاطب ہو کر اس دنیا کی حقیقت کو پہچانتا ہے کہ جس دنیا کے لیے عمر بھر سکون قربان کیا گیا، وہی دنیا الوداع کہنے میں بھی عجلت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ یہ خلاصہ زندگی کی ناپائیداری اور حقیقت پسندی کی تلخ تصویر پیش کرتا ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں