میں پہلے جیسا ہونا چاہتا ہوں

میں پہلے جیسا ہونا چاہتا ہوں
مگر مجھے یاد نہیں
کہ میں پہلے کیسا تھا۔

کیا میں وہ تھا
جو ہنستے ہوئے تھک جاتا تھا؟
یا وہ جو خاموشی میں بھی
اپنی آواز سن لیتا تھا؟

میرے قدموں میں شاید جلدی نہ تھی
میرے دل میں شاید خوف کم تھا
اور آئینے میں جو چہرہ تھا
وہ سوال کم، یقین زیادہ تھا۔

اب میں خود کو ڈھونڈتا ہوں
اپنی ہی پرانی تصویروں میں
اپنے ہی چھوٹے خوابوں میں
اور ادھورے لفظوں میں۔

میں بدل گیا ہوں یا بکھر گیا ہوں
یہ بھی نہیں جانتا
بس اتنا جانتا ہوں
کہ کہیں اندر
اب بھی کوئی مجھے پکار رہا ہے۔

میں پہلے جیسا ہونا چاہتا ہوں
یا شاید…
بس اپنے جیسا ہونا چاہتا ہوں
جو کہیں راستے میں
مجھ سے بچھڑ گیا تھا۔


یہ نظم ایک ایسے شخص کے اندرونی کرب اور شناخت کی تلاش کا اظہار ہے جو خود کو بدلتا ہوا محسوس کرتا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ وہ پہلے کیسا تھا۔ شاعر محمد مسعود ماضی کی سادہ خوشیوں، بے خوف دل اور یقین سے بھرے وجود کو یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ سب دھندلا چکا ہے۔ آئینہ اب سوالات سے بھرا چہرہ دکھاتا ہے اور دل میں بےچینی ہے۔ وہ اپنی پرانی تصویروں، چھوٹے خوابوں اور ادھورے لفظوں میں خود کو ڈھونڈتا ہے، مگر واضح جواب نہیں ملتا کہ وہ بدلا ہے یا بکھر گیا ہے۔ اس کے باوجود اندر کہیں ایک آواز ہے جو اسے پکارتی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی اصل پہچان مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ آخر میں شاعر محمد مسعود یہ سمجھتا ہے کہ شاید وہ “پہلے جیسا” نہیں بلکہ “اپنے جیسا” ہونا چاہتا ہے، وہ وجود جو زندگی کے راستے میں کہیں کھو گیا تھا۔ یہ نظم خود سے دوبارہ جڑنے کی خواہش اور گہری تنہائی کی عکاسی کرتی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

جمعہ مبارک