حصارِ خاموشی

ہر ایک شخص مجھے اب جدا دکھائی دیتا ہے
ہجوم میں بھی کوئی تنہا دکھائی دیتا ہے

کسی کے ہاتھ میں اب روشنی نہیں باقی
ہر ایک دل مجھے بجھا دکھائی دیتا ہے

وہ کون ہے جو زمانے سے بچ کے چلتا ہے
ہر ایک شخص یہاں ڈرا دکھائی دیتا ہے

عدالتوں میں بھی سچ کی صدا دبائی گئی
ہر ایک لب مجھے سہما دکھائی دیتا ہے

ہوا میں زہر ہے نفرت کا اس قدر پھیلا
ہر ایک شہر مجھے جلتا دکھائی دیتا ہے

یہ کس مقام پہ لا کر کھڑا کیا ہم کو
ہر ایک رشتہ مجھے ٹوٹا دکھائی دیتا ہے

میں اپنے گھر میں بھی خود کو مسافر پاتا ہوں
ہر ایک کمرہ مجھے صحرا دکھائی دیتا ہے

کسی کی یاد کا موسم نہیں اترتا ہے
یہ دل بھی اب مجھے پیاسا دکھائی دیتا ہے

کلام کرتے ہوئے دل اداس رہتا ہے
مسعودؔ خود بھی مجھے تنہا دکھائی دیتا ہے




یہ نظم “حصارِ خاموشی” معاشرتی تنہائی، خوف اور انسانی رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود موجودہ دور کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے جہاں انسان ہجوم میں رہتے ہوئے بھی تنہا محسوس کرتا ہے۔ لوگوں کے دلوں سے محبت اور روشنی ختم ہو چکی ہے اور ہر طرف خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کا ماحول نظر آتا ہے۔ شاعر محمد مسعود اس بات پر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ سچ بولنے والوں کی آواز دبائی جا رہی ہے اور انصاف کے ادارے بھی کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ نفرت اور بداعتمادی نے معاشرے کو اس قدر متاثر کر دیا ہے کہ شہروں میں سکون اور رشتوں میں مضبوطی باقی نہیں رہی۔ شاعر محمد مسعود اپنے ذاتی احساسات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ اپنے ہی گھر میں اجنبیت محسوس کرتا ہے اور یادوں کی خوشی بھی اس کے دل کو تسکین نہیں دے پاتی۔ نظم مجموعی طور پر انسانی جذبات، معاشرتی زوال اور اندرونی کرب کی عمیق تصویر پیش کرتی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

جمعہ مبارک