دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا محمد مسعود نوٹنگھم یوکے دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا ہم نے چپ چاپ اسے خود سے بچھڑتے دیکھا تجھ کو سوچا تو ہر سوچ میں خوشبو اُتری تجھ کو لکھا تو ہر لفظ کو مہکتے دیکھا یاد آ جائے تو قابو نہیں رہتا دل پر ورنہ دنیا نے بھی ہم کو تڑپتے دیکھا تری صورت کو فقط آنکھ ہی نہ ترسی ہے راستوں کو بھی تیری یاد میں روتے دیکھا ہم محبت کے لیے آج بھی دیوانے ہیں مسعود یہ ایک الگ بات ہے کہ تو نے نہیں مُڑ کے دیکھا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں