یک طرفہ محبت


​کہو یہ دل سے کہ اب عشق کا گماں نہ کرے
جو راہ اس کی نہیں ہے، اُدھر کو رَواں نہ کرے

​یہ وصل و ہجر کی قصّے کتاب میں ہی سہی
اس ایک شخص کو اب زندگی بیاں نہ کرے

​جہاں قبول کی صورت نہ ہو نصیبوں میں
وہاں یہ درد بھلا کب تلک فغاں نہ کرے؟

​یہ ایک طرفہ سفر ہے، جو تمام ہونا نہیں،
تو اے دلِ ناداں! کسی کی یہاں پَرواہ نہ کرے!

​اٹھو مسعود کہ یہ دنیا بہت ہزار رنگیں ہے
یہ روشنی ہے فقط اس کو اپنی جاں نہ کرے


یک طرفہ محبت یہ غزل یک طرفہ محبت کے درد کو پہچان کر دل کو سمجھانے اور خود کو سنبھالنے کا پیغام دیتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اپنے دل کو مخاطب کر کے کہہ رہا ہے کہ اسے چاہیے کہ وہ ایسے عشق کے وہم میں نہ پڑے جس کی کوئی حقیقت نہیں، اور ایسی راہ پر چلنا چھوڑ دے جو اس کی منزل نہیں۔
غزل میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ محبوب سے ملاقات وصل یا جدائی ہجر کی باتیں صرف کتابوں میں ہی اچھی لگتی ہیں، اور اب اس ایک شخص کو اپنی پوری زندگی کا محور بنانا چھوڑ دینا چاہیے۔ جہاں تقدیر میں محبت کا قبول ہونا لکھا ہی نہ ہو، وہاں یہ درد کب تک آہ و فریاد فغاں کرتا رہے گا؟
شاعر دلِ ناداں کو نصیحت کرتا ہے کہ چونکہ یہ محبت ایک یک طرفہ اور لامتناہی سفر ہے، اس لیے یہاں کسی کی پرواہ کیے بغیر خود کو سنبھال لینا چاہیے۔ آخری شعر میں، شاعر مسعود ترغیب دیتا ہے کہ وہ اٹھے، کیونکہ دنیا بہت خوبصورت اور رنگین ہے۔ یہ محبت صرف ایک عارضی کشش ہے؛ اسے اپنے وجود کا حصہ یا اپنی 'جان' نہ بنا لے، بلکہ حقیقت کو تسلیم کر کے زندگی میں آگے بڑھے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں