اشاعتیں

مئی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تیرے بعد

تصویر
تیرے بعد ہم نے اپنوں کو بھی اپنا نہ کہا تیرے بعد دل کا دروازہ کسی پر نہ کھلا تیرے بعد چاند نکلا تو بہت دیر تلک تکتے رہے پھر یہ محسوس ہوا، چاند نہ تھا تیرے بعد بزم میں بیٹھے رہے شام سے پھر صبح تلک پر کوئی بات بھی دل کو نہ لگی تیرے بعد خوشبوئیں رستے میں ٹھہریں نہ نظارے ٹھہرے ہم نے منظر کو بھی مڑ کر نہ دیکھا تیرے بعد مسکراہٹ تو لبوں پر کئی بار آئی مگر وہ جو بےساختہ تھی، وہ نہ رہی تیرے بعد شہر سارا بھی اگر ہاتھ ملانے آ جائے مسعودؔ ہاتھ میں تنہائی رہی تیرے بعد تیرے بعد ہجر اور تنہائی کی کیفیت کو بیان کرنے والی غزل ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ محبوب کے جانے کے بعد اُس نے اپنوں کو بھی اپنا سمجھنا چھوڑ دیا۔ دل کا دروازہ ہر ایک پر بند ہو گیا۔ چاند نکلے تو دیکھتا رہا، مگر روشنی کا احساس نہ ہوا کیونکہ اصل اجالا وہی شخص تھا جو اب نہیں۔ محفلوں میں شریک تو ہوا مگر کوئی بات دل کو نہ چھو سکی۔ راستے کی خوشبوئیں اور منظر سب بے معنی ہو گئے۔ لبوں پر ہنسی کبھی آئی بھی تو وہ بے ساختہ خوشی جو پہلے تھی، وہ لوٹ کر نہ آئی۔  آخری شعر میں محمد مسعودؔ کہتا ہے کہ اب اگر سارا شہر بھی ہاتھ ملانے آ جائے، ...

منت کے دھاگے

تصویر
منت کے دھاگے جب دیکھا مطمین ہے وہ میرے بغیر تو   کھول آیا دھاگـے منت کـے درباروں سے ٹوٹا بھرم تو دل نے بھی رختِ سفر باندھا   لوٹ آئے ہم بھی اشکوں کے بازاروں سے ہر آرزو کا جنازہ اٹھایا تنہا میں نے   کفنایا خوابوں کو امید کے گلزاروں سے وہ بے نیازی سے گزرا نہ پوچھا حالِ دل   ہم ڈھونڈتے رہے اُسے یاد کے میناروں سے پوچھا انہوں نے کیوں ہو اداس اے مسعودؔ   ہم بولے لوٹ آئے ہیں ہم درباروں سے یہ غزل بے وفائی اور ٹوٹتی ہوئی امید کے کرب کو بیان کرتی ہے۔ محمد مسعود جب دیکھتا ہے کہ محبوب اس کے بغیر بھی مطمئن اور خوش ہے تو وہ مزاروں اور درباروں پر مانگی ہوئی منتیں، باندھے ہوئے دھاگے کھول آتا ہے۔ یہ عمل ہار مان لینے کا استعارہ ہے۔ دل کا بھرم ٹوٹنے پر وہ آنسوؤں کے بازار سے واپس پلٹ آتا ہے۔ ہر خواہش کا جنازہ تنہا اٹھاتا ہے اور خوابوں کو امید کے گلزار سے ہی کفن دے دیتا ہے۔ محبوب کی بے نیازی اسے مزید توڑ دیتی ہے، وہ اسے یادوں کے میناروں میں تلاش کرتا رہ جاتا ہے۔ مقطع میں محمد مسعود بتاتا ہے کہ جب محبوب نے اداسی کی وجہ پوچھی تو جواب صرف یہ تھا کہ ...

تنہائی کے سائے

تصویر
تنہائی کے سائے   درد کی شام ہے، دل بھی اداس ہے   تیری یادوں کا اک قافلہ پاس ہے   چاند نکلا تو ہم نے بھی آہیں بھریں   وہ بھی تنہا ہے، ہم سا کوئی داس ہے   خواب ٹوٹے تو آنکھوں میں رت جاگ اٹھی   زندگی سے مگر پھر بھی کچھ آس ہے   ہر تبسم کے پیچھے چھپا ہے لہو   مسکراہٹ بھی اب ایک لباس ہے   بے وفائی پہ رویا نہ شکوہ کیا   عشق والوں کا یہی تو لباس ہے   شمع جلتی رہی، رات کٹتی رہی   اور پروانہ جلنے میں ہی خاص ہے   اے مسعودؔ کس کو سنائیں دکھ اپنے   ہر طرف خود فریبی کا احساس ہے   یہ غزل تنہائی، درد اور خاموش جذبات کی گہری عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود ایک ایسی شام کا ذکر کرتا ہے جو اداسی سے بھری ہوئی ہے، جہاں دل بھی بوجھل ہے اور یادوں کا قافلہ ہمراہ چلتا محسوس ہوتا ہے۔ چاندنی رات میں بھی سکون نہیں، بلکہ تنہائی مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ ٹوٹے خواب آنکھوں میں جاگتی ہوئی راتوں کا سبب بنتے ہیں، مگر اس کے باوجود زندگی سے ایک ہلکی سی امید باقی رہتی ...