تنہائی کے سائے
تنہائی کے سائے
درد کی شام ہے، دل بھی اداس ہے
تیری یادوں کا اک قافلہ پاس ہے
چاند نکلا تو ہم نے بھی آہیں بھریں
وہ بھی تنہا ہے، ہم سا کوئی داس ہے
خواب ٹوٹے تو آنکھوں میں رت جاگ اٹھی
زندگی سے مگر پھر بھی کچھ آس ہے
ہر تبسم کے پیچھے چھپا ہے لہو
مسکراہٹ بھی اب ایک لباس ہے
بے وفائی پہ رویا نہ شکوہ کیا
عشق والوں کا یہی تو لباس ہے
شمع جلتی رہی، رات کٹتی رہی
اور پروانہ جلنے میں ہی خاص ہے
اے مسعودؔ کس کو سنائیں دکھ اپنے
ہر طرف خود فریبی کا احساس ہے
یہ غزل تنہائی، درد اور خاموش جذبات کی گہری عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود ایک ایسی شام کا ذکر کرتا ہے جو اداسی سے بھری ہوئی ہے، جہاں دل بھی بوجھل ہے اور یادوں کا قافلہ ہمراہ چلتا محسوس ہوتا ہے۔ چاندنی رات میں بھی سکون نہیں، بلکہ تنہائی مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ ٹوٹے خواب آنکھوں میں جاگتی ہوئی راتوں کا سبب بنتے ہیں، مگر اس کے باوجود زندگی سے ایک ہلکی سی امید باقی رہتی ہے۔ شاعر محمد مسعود بتاتا ہے کہ ہر مسکراہٹ کے پیچھے درد چھپا ہوتا ہے، اور خوشی محض ایک ظاہری پردہ بن چکی ہے۔ عشق میں بے وفائی بھی ایک عام حقیقت کے طور پر قبول کر لی جاتی ہے، جہاں شکایت کی گنجائش کم رہ جاتی ہے۔ شمع اور پروانے کی مثال سے عشق کی شدت اور قربانی کو بیان کیا گیا ہے۔ آخر میں شاعر محمد مسعود اس بات پر افسوس کرتا ہے کہ اپنے دکھ سنانے کے لیے کوئی مخلص نہیں، کیونکہ ہر طرف خود فریبی اور بے حسی کا ماحول ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں