اشاعتیں

2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ماں باپ کا سایہ

تصویر
ماں باپ کا سایہ محمد مسعود واہ ہاتھ جو پونچھتے تھے آنسو میرے   مٹ جاتے تھے غم ، جنکی دعاؤں کے اثر سے   ڈھونڈتے ہیں وہ کندھے ، روتی تھی آنکھ جن پر   ماں باپ کا سایہ جب اٹھ جاتا ہے سر سے   انگلی پکڑ کر چلنا ، ہزار خواہشیں کرنا   گزرتی تھی انکی زندگی ، ہمارے ہی ڈگر سے   یاد آتی ہیں وہ باتیں دل روتا ہے آہ اکثر   ماں باپ کا سایہ جب اٹھ جاتا ہے سر سے   وہ روٹھنا ہمارا ، وہ آنسو بہانا   پوری ہوتی تھیں خواہشیں ، ہمارے اس اثر سے   باغ آتے ہیں یاد ، چبھتے ہیں کانٹے اکثر   ماں باپ کا سایہ جب اٹھ جاتا ہے سر سے   دل توڑنا نا انکا ، نا تکلیف کبھی دینا   نکالنا ہے تمھیں ہی اُنہیں اشکوں کے شہر سے   یتیموں کو دیکھو اُنہیں جا کر سمجھو ، کیا ہوتا ہے تب   ماں باپ کا سایہ جب اٹھ جاتا ہے سر سے   وہ دھندلی سی آنکھیں ، وہ معصوم سا چہرہ   یتیموں کو دیکھو گے ، جب ان کے ہی نظر سے   سمجھ جاؤگے آں تم بھی ، کیا ہوتا ہے ...

محبت کے سفر

محبت کے سفر میں  محمد مسعود  محبت کے سفر میں کوئی بھی راستہ نہیں دیتا زمیں واقف نہیں بنتی، فلک سایہ نہیں دیتا خوشی اور دکھ کے موسم سب کے اپنے اپنے ہوتے ہیں کسی کو اپنے حصے کا کوئی لمحہ نہیں دیتا اداسی جس کے دل میں ہو اسی کی نیند اڑتی ہے کسی کو اپنے حصے کا کوئی سپنا نہیں دیتا اٹھانا خود ہی پڑتا ہے تھکا ٹوٹا بدن اپنا کہ جب تک سانس چلتی ہے کوئی کاندھا نہیں دیتا

مطلب کی دُنیا

مطلب کی دُنیا مطلب کی دنیا تھی اِس لیے چھوڑ دیا سب سے ملنا ورنہ یہ چھوٹی سی عمر تنہائی کے قابل تو نہ تھی ہم نے تو الزامِ محبت کے ڈر سے چھوڑ دیا دیس اپنا ورنہ یہ چھوٹی سی عمر پردیس کے قابل تو نہ تھی محمد مسعود 

کل ایک مسافر ملا تھا راستے میں

تصویر

یہ پیار بھی راحت ہے دنیا نہیں سمجھے گی

یہ پیار بھی راحت ہے دنیا نہیں سمجھے گی محمد مسعود نوٹنگھم  یہ پیار بھی راحت ہے دنیا نہیں سمجھے گی دل والوں کی دولت ہے دنیا نہیں سمجھے گی احساس کی خوشبو بھی چاہت کی ہوا چھائی یہ تو اللہ کی عنایت ہے دنیا نہیں سمجھے گی کیا چین ملے دل کو اب ہوش ہوش نہیں آتا ایک ایسی قیامت ہے دنیا نہیں سمجھے گی بدنام زمانے میں ہر دل یہ کرتی ہے چاہت وہ شرہت ہے دنیا نہیں سمجھے گی وفاؤں کی عظمت کو سمجھنے میں اے مسعود ایک دل کی ضرورت ہے دنیا نہیں سمجھے گی

لگے تجھے نہ میری نظر

لگے تجھے نہ میری نظر میں تیری دنیا سے جا رہا ہوں دل میرا تو پہلے ہی ٹوٹا ہوا ہے اب کی بار نہ ٹوٹے تبھی تو جا رہا ہوں محفلیں سب میرے لیے تو بے رونق ہیں میں خوشی کی خاطر ہی تو جا رہا ہوں اکیلے سفر کا کیا مزہ ہوتا ہے وہ میں دیکھنے جا رہا ہوں چھایا ہے میری سوچوں میں اندھیرا میں روشنی کی تلاش میں جا رہا ہوں کیسی منزل کیسا راستہ میرا ہے میں سب کو چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک دل تھا میرا جو اب میرا نہیں ہے دوسرا دل ہوتا ہے کہاں میں تلاش کرنے جا رہا ہوں محمد مسعود نونٹگھم 

تُو اپنے فن میری چاہت کو آزما کے دکھا

Tu apnay fun se meri chahat ko azma k daikh تُو اپنے فن سے میری چاہت کو آزما کے دکھا محمد مسعود نونٹگھم یو کے Tu apnay fun se meri chahat ko azma k daikh Main toot-ta hoon tu phir se mujhe bana k daikh تُو اپنے فن سے میری چاہت کو آزما کے دکھا میں ٹوٹتا ہوں تُو پھر سے مُجھے بنا کے دکھا Teray badan main lahu ban k dorrta hoon main, Tujhe anaa ki qasam hai mujhay bhula k daikh, تیرے بدن میں لہو بن کے دوڑتا ہوں میں  تُجھے انا کی قسم ہے مجُھے بھلا کے دکھا Main itnay dard main b keh kahay lagaata hoon, TU ek dukh main mujhay sirf muskara k daikh, میں اتنے درد میں بھی قہقے لگاتا ہوں  تُو ایک دُکھ میں مُجھے صرف مُسکرا کے دکھا Tujhe to main nay hmaysha manaya hai lakin MASOOD Main aaj rooth chala hoon tum se mujhay mana k daikh تُجھے تو میں نے ہمیشہ منایا ہے لیکن مسعود میں آج رُوٹھ چلا ہوں تم سے مُجھے منا کے دکھا

خود ہی سوال اور خود ہی جواب سا ہوں میں

khud hi sawaal aur khud hi jawaab sa hun maen خود ہی سوال اور خود ہی جواب سا ہوں میں محمد مسعود نونٹگھم یو کے khud hi sawaal aur khud hi jawaab sa hun maen jo naa samjhi gayi kabhi us kitaab sa hun maen خود ہی سوال اور خود ہی جواب سا ہوں میں جو نہ سمجھی گئی کبھی اُس کتاب سا ہوں میں dekh to jaao kareeb se ke naayaab sa hun maen vaqt ke sehraa maen ubhra saraab sa hun maen دیکھ جو جاؤ قریب سے کہ نایاب سا ہوں میں وقت کے سہرا میں اُبراسہراب سا ہوں میں kuch dam ka hun mehmaan hubaab sa hun maen abhi to hun paas tere abhi dastyaab sa hun maen کچھ دم کا ہوں مہمان حُباب سا ہوں میں ابھی تو ہوں پاس تیرے ابھی دستیاب سا ہوں میں aankhon se bahte ashko ka sailaab sa hun maen jo musalsal barastaa raha voh aab sa hun maen آنکھوں سے بہتے آشکوں کا سیلاب سا ہوں میں جو مسسل برستا رہا وہ آب سا ہوں میں tadbeeron ke banisbat nakaamyaab sa hun maen bigde huvey nasibon ka jaise hisaab sa hun maen تدبیروں کے بنسبت ناکامیاب سا ہوں میں بگڑے ہوئے نص...

تیرے انتظار میں غزل لکھ رہا ہوں

Tere Intazar Me ghazal Likh Raha Hoon تیرے انتظار میں غزل لکھ رہا ہوں محمد مسعود نونٹگھم  Tere Intazar Me ghazal Likh Raha Hoon Tery Chehry Ko Chand Likh Raha Hoon تیرے انتظار میں غزل لکھ رہا ہوں تیرے چہرے کو چاند لکھ رہا ہوں   Teri Ankho Ko Samunder Likh Raha Hoon Tere Honton Ko Paimana Likh Raha Hoon تیری آنکھوں کو سمندر لکھ رہا ہوں تیرے ہونٹوں کو پیمانہ لکھ رہا ہوں Teri Baton Ko Khushbo Likh Raha Hoon Tera Husn La Jawab He is Liye تیری باتوں کو خوشبو لکھ رہا ہوں تیرا ہنسنا لاجواب ہے اِس لیے  Dunya Ko Tera Deewana Likh Raha Hoon Ishq Ko ik Shama Or Khud Ko دُنیا کو تیرا دیوانہ لکھ لکھ رہا ہوں عشق کو ایک شمع اور خُود کو  Jalta Howa Parwana Likh Raha Hoon Mein Ghamo Ki is Teez Dhop Me جلتا ہوا پروانہ لکھ رہا ہوں  میں غموں کی اِس تیز دُھوپ میں  Tere Gesoon Ko Saya Likh Raha Hoon Dil-e-Marhom Se Behtey Laho Ko MASOOD تیر گیسوؤں کو سایہ لکھ رہا ہوں دلِ مرحُوم سے بیتے لہو کو مسعود Tere Hathon...

ہمیں تو اِب بھی وہ گُزرا زمانہ یاد آتا ہے

Hamay to ab bhi woh guzra zamana yaad aata hai ہمیں تو اِب بھی وہ گُزرا زمانہ یاد آتا ہے محمد مسعود نونٹگھم یو کے MOHAMMED MASOOD  Hamay to ab bhi woh guzra zamana yaad aata hai Tumhay bhi kya kabhi koi deewana yaad aata hai ہمیں تو اِب بھی وہ گُزرا زمانہ یاد آتا ہے تمہیں بھی کیا کبھی کوئی دیوانہ یاد آتا ہے Hawain tez thi, baarish bhi thi, toofan bhi tha, lekin Tera aisay mein bhi vaada nibhana yaad aata hai ہوائیں بھی تھی بارش بھی تھی طوفان بھی تھا لیکن  تیرا ایسے میں بھی وعدہ نبھانا یاد آتا ہے Guzar chuki thi bahut raat baton baton mein, Phir uth kay woh tera shama bhujana yaad aata hai گُزر چُکی تھی بہت رات باتوں باتوں میں  پھر اُٹھ کے وہ تیرا شمع بُجھانا یاد آتا ہے Ghatain kitni dekhi hain par mujhay MASOOD Kisi ka jukh par woh zulfain giraana yaad aata hai چاہتیں کتنی دیکھی ہیں پر مجھے مسعود کسی کا جوکھا پر وہ زولفیں گرانا یاد آتا ہے   Hamay to ab bhi woh guzra zamana yaad aata hai, Tumhay bhi kya k...

اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا

Agar kal tum utho aur tumhe pata chale ke mein nahin raha اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا محمد مسعود نونٹگھم یو کے Agar kal tum utho aur tumhe pata chale ke mein nahin raha To apni num nigahoun se mujhse aakhri baar milnay aajana اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا تو اپنی نم نگاہوں سے مُجھے آخری بار ملنے آ جانا Agar kal tum utho aur tumhe pata chale ke mein nahin raha Tou apni yaadoun se mujhay mehroom na kerna اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا  تو اپنی یادُوں سے مُجھے مرحُوم نہ کرنا  Agar kal tum utho aur tumhe pata chale ke mein nahin raha Tou apni mohabbat ki chadar mein mujhay bhigho ke rakhna اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا تو اپنی محبت کی چادر میں مُجھے بھیگو کے رکھنا Agar kal tum utho aur tumhe pata chale ke mein nahin raha To raat ki chandni mein ae meray chand sitara bane mujhay saath deakhna اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا تو رات ...

دسمبر کے گُزرتے ہی

December ke guzarte hi barss aik oor maazi ki jafaun main doob jaye ga Use Kehna tum دسمبر کے گُزرتے ہی  برس ایک اور ماضی کی جفاوں میں ڈُوب جئے گا اُسے کہنا تم December kay guzernay say zara pehle, Mohabbat ki kahani ko koi takmeel dey jana Usey Kehna tum دسمبر کے گُررنے سے زرا پہلے محبت کی کہانی کو کوئی تکمیل دے جانا اُسے کہنا تم December ka Maheena jaisay guzrey ga Umeedain Doob jayein gi Wo Sapnay toot jayein gay Usey Kehna tum دسمبر کا مہینہ جسے گُررنے گا اُمیدیں ڈُوب جائیں گی وہ سپنے ٹُوٹ جائیں گے اُسے کہنا تم December kay guzarnay say zara pehley Mohabbat ko koi tabeer dey jaye Usey Kehna دسمبر کے گُررنے سے زرا پہلے محبت کو کوئی تبیر دے جائے اُسے کہنا تم Mukadar ko hamaray doob janay say bacha lena Usey Kehna tum مقدر کو ہمارے ڈُوب جانے بچا لینا  اُسے کہنا تم Decemebr ahya aur Ja bi raha hai Aur ab aik aur saal guzar gaya دسمبر آیا اور جا بھی رہا ہے اور اِب ایک اور سال گُزر جائے گا MOHAMMED MASOOD...

درد کی سیاہی سے لکھایہ میرا نصیب ہے

درد کی سیاہی سے لکھایہ میرا نصیب ہے  بک گئی میر ی محبت کیونکہ میں غریب تھا پل بھر کوتو ہم بھی نہ سنبھل پائے تھے گزرا ہے جو ہم پروہ حادثہ بھی عجیب تھا تمام عمر زندگی سمجھ کر جسے چاہا آخر سفر میں وہ دل کے قریب تھا خوشیاں بانٹا رہا میں سب سے زندگی کی اب غم کے اندھیروں میں نہ کوئی شریک تھا دل دنیا دیوتا سب پتھر کے ہیں مسعود  پوجا ایک پیار کو پر وہ بھی فریب تھا (محمد مسعود)

ہر روز جب شام ڈھلتی ہے

ہر روز جب شام ڈھلتی ہے M Masood Nottingham  UK  ہر روز جب شام ڈھلتی ہے تمام پرندے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں جب رات کو آسمان پر چاند ستارے چمکتے ہیں جب سورج کی کرنیں زمیں پر روشنی بکھیرتی ہیں جب بارش برستی ہے جب شمع ساری رات جلتی ہے جب نیند نہیں آتی  جب محبت جاگتی اور زمانہ میھٹی نیند سوتا ہے اِن لمحوں میں مجھے صرف تم یاد آتے ہو صرف ایک بار آو میرے دل میں اپنی محبت دیکھنے پھر لوٹنےکا ارداہ ہم تم پر چھوڑ دیں گے مسعود اُسے ہم چھوڑ دیں لیکن بس ایک چھوٹی سی اُلجھن ہے سنا ہے دل سے دھڑکن کی جدائی موت ہوتی ہے

تیری لاجواب چاہت کو ہم بھلائیں کیسے

تیری لاجواب چاہت کو ہم بھلائیں کیسے تم کو بھول کر خود کو چین دلائیں کیسے نجانے کون سی کشش تیرے پاس لے آتی ہے تیرے پاس آ کر تجھ میں سمائیں کیسے ہم نے تو دل سے چاہا ہے تجھے مگر تیری چاہت کے قابل خود کو بنائیں کیسے کیوں پوچھتے ہو آنسوؤں کی شدت  ہم اِن میں تیرا عکس دیکھائیں کیسے ہم تو صرف تم سے محبت کرتے ہیں مگر تمہیں یہ احساس دلائیں کیسے (محمد مسعود)

دو پل ساتھ چل کر چھوڑ دیا تم نے

دو پل ساتھ چل کر چھوڑ دیا تم نے  شاعر محمد مسعود نوٹیگم یو کے دو پل ساتھ چل کر چھوڑ دیا تم نے  وفا کی ڈوری کو ہی توڑ دیا تم نے زرہ بھر بھی تم نے خیال کیا نہ ہمھارا میری روح کے تاروں کو جھنجھوڑ دیا تم نے اب کہاں گئیں وہ قسمیں وہ تیرے وعدے تم بتاوٴ کیوں ہم سے مُکھ مُوڑ لیا تم نے خوش رہو ہمیشہ یہی ہے دعا مسعود کی بے شک اِس معصوم دل کو توڑ دیا تم نے (محمد مسعود)

دل میں کچھ درد ہے بہت اُداس ہوں میں

دل میں کچھ درد ہے بہت اُداس ہوں میں  محمد مسعود نوٹنگھم یو کے  دل میں کچھ درد ہے بہت اُداس ہوں میں  رات بھی کچھ سرد ہے بہت اُداس ہوں میں اپنے خوابوں کے یوں بے وقت ٹوٹ جانے پر پُر نم آنکھوں میں جمی کچھ گرد ہے بہت اُداس ہوں میں اِسے کچھ کھو کر نہ ہم رو سکے نہ شب بھر سو سکے کسی آنکھوں میں کچھ کرب ہے بہت اُداس ہوں میں وہ جس کا راج ہے دل وُ جان پر میرے اوروں کی نظر میں ایک فرد ہے بہت اُداس ہوں میں کھو کر مجھے وہ بھی پشمیان رہتا ہےاکثر مسعود سُنا ہے پری چہرہ  اِس کا زرد ہے بہت اُداس ہوں میں

میری نیند مجھ سے بچھڑ گئی

میری نیند مجھ سے بچھڑ گئی (محمد مسعود نوٹنگھم یو کے) میری نیند مجھ سے بچھڑ گئی میرے سپنے مجھ سے جُدا ہو گئے یہ بڑا ہی دُکھ اور غم کا موقع ہے زرا لوٹ آؤ میں بہت اُداس ہوں  کوئی پُھوٹ پُھوٹ  کر رو رہا ہے ابھی تلک تو میری ذات ہی ہے میرے دل میں ایک  تازہ زخم ہے زرا لوٹ آؤ میں بہت اُداس ہوں  تیرے دم سے زندہ ہوں آج بھی تُو ہی تو جینے کی ایک اُمید ہے تیرے بعد میرا جینا بہت محال ہے زرا لوٹ آؤ میں بہت اُداس ہوں  زرا لوٹ آؤ میں بہت اُداس ہوں   

آ جاؤ آج میرے آنگن میں تُم زرا شام کے بعد

آ جاؤ آج میرے آنگن میں تُم زرا شام کے بعد (محمد مسعود نوٹنگھم) آ جاؤ آج میرے آنگن میں تُم زرا شام کے بعد مل کے مانگیں گے محبت کی آج دُعا شام کے بعد جن کی تقدیر میں خواب نہیں نیند نہیں اور سُکون اُوڑھ لیتے ہیں وہ ستاروں کی ردا شام کے بعد  آؤ مل بیٹھ کے ہم کچھ تھوڑا سا وقت گُزاریں میں سناؤں تجھے اور تو اپنی سُنا شام کے بعد تم تو مجھے چھوڑ گئے تھے شام سے پہلے پہلے  یہ نہ پُوچھو کہ میرا کیا حال ہوا تھا شام کے بعد تم یہاں تھے تو ہر ایک شام سجی سُہانی رہتی تھی اب تو ایسے لگتا ہے شام ہوتی ہی نہیں شام کے بعد

سب سے اچھے لفظ

سب سے اچھے لفظ محمد مسعود میڈوز نوٹنگھم سب سے اچھے لفظ میں صبح و شام لکھتا ہوں زمیں پر جس قدر اچھی زبانیں بولی جاتی ہیں میں ان سے حرف چنتا ہوں اور پھر درد بھرے سے شعر لکھتا ہوں میری طرف سے سب کو اسلام علیکم  اُن سب کا بہت بہت شکریہ  جو مجھ سے اتنا پیار کرتے  اور مجھے ہمیشہ یاد رکھتے ہیں  محمد مسعود میڈوز نوٹنگھم

آنسو نہیں رُکتے

آنسو نہیں‌ رُکتے میری آنکھوں میں‌ ابھی تک جاتے ہوئے روتا وہ مجھے چھوڑ گیا تھا ارمانوں کی دُنیا کے انمول سے سپنے پل میں‌ وہ میرے سامنے سب توڑ گیا  (محمد مسعود)

غم

زندگی میں چلتے چلتے غم بھی آئیں گے تُو مسکرائے گا تو غم بھاگ جائیں گے۔

تیرا زکر

بات کیا تھی یہ مجھے اچھی طرح یاد نہیں ہاں تیرا ذکر بھی تھا اور بڑی تفصیل سے تھا

اپنی باتوں میں میرے نام کے حوالے رکھنا

اپنی باتوں میں میرے نام کے حوالے رکھنا مجھ سے دور ھو تو خود کو سنبھالے رکھنا لوگ پوچھیں گے کیوں پریشان ھو تم کچھ نگاہوں سے کہنا زبان پہ تالے رکھنا نہ کھونے دینا میرے بیتے لمحوں کو میری یاد کو بڑے پیار سے سنبھالے رکھنا تم لوٹ آؤ گے اتنا یقین ھے مجھ کو میرے لیے کچھ وقت نکالے رکھنا دل نے بڑی شدت سے چاہا ھے تمہیں میرے لیے اپنے وہی انداز پرانے رکھنا

کسی کی خاطر قرار کھونا کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا

کسی کی خاطر قرار کھونا  کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا تمھارا راتوں کو اُٹھ کر رونا  کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا زمانہ عہدِ شباب کا ہے  نئے خواب و خیال کا ہے شبِ بیداری اور دن کا سونا  کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا بھنور میں تُم ہم کو چھوڑ آتے  یونہی محبت کا راز رہتا لا کے ساحل پہ یوں ڈبونا  کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا کہا یہ میں نے  تم زندگی ہو میری وه ہنس کے بولے چُپ رہو نہ  کوئی سُنے گا تو کیا کہے گا