اشاعتیں

نومبر, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

خواب اور خاک

تصویر
یہ کیسا رَبط ہے، ہر شے سے اب ہوئے ہیں جُدا کیا خوشی کی کوئی کرن ہم کو دے گی اب تو صَدا کیا جو داغ دل کو ملے ہیں، وہ زخم گہرے ہیں ہر اِیک نِشاں پہ کریں، کِس طرح سے ہم یہ خَطا کیا مسعود، اپنے ہی ہاتھوں سے کھو دیا سب کچھ یہی نصیب کی لکھی ہوئی تھی ہم پر بَلا کیا اُداس شامیں ہیں سُنسان ہے یہ دُنیا بھی بدل گیا ہے ہمارا عجیب سارا سَماں کیا سَمیٹ رکھے تھے جتنے بھی خواب، سب ہی تو سپردِ خاک کر دیے، بس اِسی میں اپنی فَنا کیا خواب اور خاک یہ غزل گہرے دکھ اور مایوسی کے احساسات کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اعتراف کرتا ہے کہ وہ اب ہر خوشی، ہر شے سے جُدا ہو چکا ہے اور دل پر لگے زخم اتنے گہرے ہیں کہ ان کی تلافی ممکن نہیں۔ شعر میں شاعر اپنے نام مسعود کو پکارتا ہے، جہاں وہ خود ہی کو تمام محرومیوں کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے، گویا اس کی تقدیر میں یہی بَلا لکھی تھی۔ گرد و پیش کا سَماں بھی اب اداس، سُنسان اور بدل چکا ہے۔ غزل کا اختتام اس حقیقی درد پر ہوتا ہے کہ جن خوابوں کو سینچا تھا، انھیں اپنے ہی ہاتھوں سے خاک میں ملا دیا گیا، اور یہی عمل اس کی اپنی اندرونی فَنا اور تکمیل بن گیا۔ یہ خلاصہ ش...

​ہر سمت چراغاں

تصویر
​ہر سمت چراغاں  کیا خوب ہے وہ لمحہ جو تیری یاد سے آئے  اس دل کو قرار آئے، جب تیری بات سے آئے   یہ چاند، یہ ستارے، یہ منظر، یہ روشنی سب  لگتا ہے مجھے جیسے تیری ذات سے آئے   وہ عشق کی کہانی جو مکمل نہ ہو پائی  شاید کہ خوشی اس میں کسی گھات سے آئے   میں ہجر کی شب میں بھی اسے یاد ہی رکھوں گا وہ خواب جو آنکھوں کو تیری ذات سے آئے   اے دل کے مکین! نام ترا ہے یہی مسعود کیا فرق کہ وہ مجھ تک کسی بات سے آئے ہر سمت چراغاں ہے مرے شہرِ تمنا میں روشن ہے دل ایسا کہ ترے ہاتھ سے آئے یہ غزل مکمل طور پر عشق اور آرزو کے جذبات پر مبنی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اپنے محبوب کی یادوں اور باتوں کو دل کے سکون اور قرار کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ دنیا کی تمام خوبصورت چیزیں چاند، ستارے، روشنی سب محبوب کی ہستی اور وجود (ذات) سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔ غزل میں ایک ادھوری محبت کا ذکر بھی ہے، جہاں شاعر ( محمد مسعود ) کو یقین ہے کہ اس نامکمل کہانی میں بھی کہیں نہ کہیں خوشی چھپی ہوئی ہے۔ جدائی (ہجر) کی تاریک راتوں میں بھی، محبوب کے خوبصورت خواب ہی دل کو روشنی بخشت...

​یہ پیار کی کہانی، جو لکھی گئی ہے مجھ سے۔

تصویر
دوسروں کے چراغ روشن کرنے سے آپ کا راستہ کیسے منور ہوتا ہے؟ یہ قدرت کا کیسا انمول اور عجیب و غریب سودا ہے کہ جب ہم دوسروں کے چراغوں میں تیل ڈالتے ہیں، تو درحقیقت ہم اپنے راستے کو مزید روشن کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ محض کوئی جذباتی جملہ نہیں، بلکہ زندگی کا ایک گہرا فلسفہ ہے جس کا مشاہدہ آپ اپنے گرد و پیش ہر لمحہ کر سکتے ہیں۔ دوسروں کا چراغ روشن کرنے کا مطلب صرف مالی مدد کرنا نہیں ہے۔ یہ اس سے کہیں زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے:  کسی گمراہ کو صحیح راستہ دکھانا، یا کسی نو آموز کو اپنا ہنر سکھانا۔  کسی مایوس شخص کے دل میں نئی امنگ جگانا اور اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ دینا۔ کسی ضرورت مند کو اپنا قیمتی وقت دینا اور اس کی بات توجہ سے سننا۔  کسی کی کامیابی کے لیے دل سے دعا کرنا اور اس کے لیے نیک تمنائیں رکھنا۔ جب آپ کسی دوسرے کی مدد کرتے ہیں، تو آپ کا اپنا چراغ کئی طریقوں سے منور ہو جاتا ہے: جب آپ کسی کی مدد کرتے ہیں، تو آپ کو فوری طور پر ایک روحانی سکون اور اطمینان ملتا ہے۔ سائنس بھی یہ ثابت کرتی ہے کہ دوسروں کے لیے اچھا کرنے سے دماغ میں 'خوشی کے ہارمونز' (Endorphins) خارج ہوتے ہیں۔ یہ مثبت تو...

دل زخم

یہ دل کا زخم جو دنیا سے اب چھپا نہ سکے، محمد مسعود اسے عمر بھر بھلا نہ سکے! یہ رازِ عشق جو دل میں ہے، لب پہ لانا ہے، نصیب میں ہو نہ ہو، فرض یہ نبھانا ہے!

میں اور میرا بیٹا

تصویر
اس تصویر میں ایک باپ اور بیٹے کا رشتہ نظر آتا ہے، جو وقت کے ساتھ مزید گہرا اور مضبوط ہوا ہے۔ باپ، جو آج بوڑھا ہو چلا ہے، لیکن جس کے دل میں بیٹے کے لیے محبت کا سمندر آج بھی موجیں مار رہا ہے۔ اور بیٹا، جو اب جوان ہو کر زندگی کے نئے راستوں پر چل پڑا ہے۔ وقت کا بدلتا رنگ اور محبت کا لازوال احساس یاد ہے وہ دن، جب یہ جوان بیٹا باپ کی انگلی تھام کر چلا کرتا تھا۔ باپ کا ہاتھ دنیا کی ہر سختی سے بچانے والا ایک مضبوط قلعہ تھا۔ آج، باپ کے چہرے پر پڑی جھریوں میں وہ تمام قربانیاں اور پیار صاف جھلکتا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کی پرورش میں صرف کی ہیں۔ باپ نے بیٹے کو جوان ہوتے دیکھا، اس کے خوابوں کو پنکھ لگاتے دیکھا۔ اس کی جوانی میں باپ کی اپنی جوانی کا عکس جھلکتا ہے۔ باپ کا دل آج بھی پہلے سے زیادہ پیار سے لبریز ہے، لیکن اب اس پیار کے ساتھ ایک گہرا درد اور فکر بھی شامل ہو گئی ہے۔ اب بیٹے کا سہارا اور پوتے پوتیوں کی دلگیر فکر بوڑھے باپ کی نگاہیں اب صرف بیٹے کی خوشیوں تک محدود نہیں ہیں۔ ان آنکھوں میں اب آنے والی نسل، یعنی اپنے پوتے پوتیوں کی فکر بھی سمائی ہوئی ہے۔ باپ کا دل یہ سوچ کر بے چین ہو جاتا ہے کہ ...

محمد مسعود شاعر

تصویر
✒️ محمد مسعود: شعر و سخن کا مسافر محمد مسعود ایک منفرد شخصیت کے حامل ادیب اور شاعر ہیں، جن کی زندگی پاکستان اور برطانیہ کے خوبصورت شہروں کے درمیان ایک ادبی سفر کی عکاس ہے۔ 🌏 ابتدائی زندگی اور ثقافتی جڑیں آپ کی پیدائش میرپور، آزاد کشمیر میں ہوئی، یہ وہ مٹی ہے جہاں آپ کی ثقافتی جڑیں پیوست ہیں۔ اگرچہ آپ بچپن میں دو سال کی عمر میں فیصل آباد منتقل ہوئے، جہاں آپ نے زندگی کے کئی سال گزارے اور جہاں سے آپ نے لکھنے کی ابتدائی تحریک حاصل کی، مگر 1980 میں آپ نے میرپور، آزاد کشمیر واپس آ کر اپنی آبائی مٹی سے تعلق کو مزید مضبوط کیا۔ 📝 تخلیقی سفر کا آغاز محمد مسعود نے محض 1975 کی کم عمری سے ہی قلم کو اپنا ہم سفر بنا لیا تھا۔ ان کا تخلیقی سفر متنوع ہے، جس میں شامل ہیں:  * شاعری: اپنے جذبات اور مشاہدات کو الفاظ کا روپ دینا۔  * مضامین (آرٹیکل): مختلف سماجی اور ادبی موضوعات پر اپنی گہری سوچ کا اظہار۔  * دکھ بھری کہانیاں: زندگی کے تلخ اور حقیقی پہلوؤں کو مؤثر انداز میں بیان کرنا۔ 🇵🇰 ادبی خدمات اور اشاعت پاکستان کی ادبی دنیا آپ کے فن سے بخوبی واقف ہے۔ آپ کی لکھی ہوئی کہانیاں، شعر اور شاعر...

Mohammed Masood۔ محمد مسعود نوٹنگھم یو کے

تصویر
 محمد مسعود: قلم، کرب اور ہجرت کی داستان کا مصور محمد مسعود ایک حساس شاعر، کہانی نویس اور مفکر ہیں جن کی زندگی کا کینوس میرپور، فیصل آباد اور برطانیہ کے تاریخی شہر نوٹنگھم کے رنگوں سے بھرا ہوا ہے۔ آپ کا قلم ان جغرافیائی اور جذباتی سفروں کا عکاس ہے جو قاری کو گہرائی سے متاثر کرتے ہیں۔ آبائی اور تخلیقی جڑیں محمد مسعود کی پیدائش میرپور، آزاد کشمیر کے معروف گاؤں رٹھوعہ محمد علی میں ہوئی۔ یہ گاؤں ہی آپ کی ابتدائی شناخت اور ثقافتی بنیاد ہے۔  * آپ نے اپنے بچپن کے اہم سال فیصل آباد میں گزارے، جس نے آپ کے مشاہدے اور سوچ کو نئی وسعت دی۔  1980 میں آپ نے دوبارہ میرپور، آزاد کشمیر واپسی اختیار کی، جہاں آپ کی جڑیں دوبارہ مضبوط ہوئیں، اور 1990 میں شادی کے بعد آپ برطانیہ کے خوبصورت شہر نوٹنگھم میں مستقل مقیم ہو گئے۔ ادبی مقام: دکھ کے ترجمان آپ نے محض 1975 میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا اور تب سے آپ کا قلم مسلسل متحرک ہے۔ محمد مسعود کو اردو ادب میں ان کی 'دکھ بھری کہانیاں' اور جذباتی شاعری کے لیے ایک خاص پہچان حاصل ہے۔  فن کی نوعیت: آپ کی تحریریں، خواہ وہ شعر، شاعری، یا آرٹیکل ہوں، زند...

محمد مسعود نوٹنگھم یو کے

تصویر
محمد مسعود: نوٹنگھم سے قلم کا رابطہ محمد مسعود ایک عہد ساز ادیب، شاعر اور کہانی نویس ہیں، جن کی زندگی کی کہانی تین اہم جغرافیوں— میرپور، فیصل آباد، اور نوٹنگھم—کے تجربات کا نچوڑ ہے۔ آپ کا ادبی سفر دراصل انسانی جذبات اور مشاہدات کا ایک خوبصورت ترجمہ ہے۔ قلم سے ایک طویل رفاقت آپ نے 1975 میں کم عمری میں ہی قلم سے رفاقت اختیار کر لی تھی۔ آپ کا ادبی میدان وسیع ہے، جس میں شامل ہیں:  دکھ بھری کہانیاں: محمد مسعود کی کہانیاں وہ آئینۂ ہیں جن میں برصغیر کی سچی جذباتی زندگی، جدوجہد اور رشتوں کے اتار چڑھاؤ کی عکاسی ہوتی ہے۔ آپ کے فن کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپ اپنے کرداروں کے اندرونی کرب اور غموں کو اتنی سچائی سے بیان کرتے ہیں کہ قاری خود کو اس کہانی کا حصہ محسوس کرتا ہے۔  شعر و شاعری و مضامین: آپ کی شاعری میں روایت کا احترام اور جدید حساسیت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ آپ کے فن نے پاکستان کے کئی معروف میگزینز میں اشاعت کے ذریعے ایک وسیع اور قدردان حلقہ بنا لیا ہے۔ نقطۂ آغاز: وہ جذباتی بنیاد محمد مسعود کی شاعری میں گہرا اداس رنگ اور رشتوں کی نزاکت نمایاں ہے۔ ان کی فکر کی گہرائی کا اندازہ ا...

Who is Muhammad Masood?

تصویر
محمد مسعود: نوٹنگھم سے قلم کا رابطہ محمد مسعود ایک عہد ساز ادیب، شاعر اور کہانی نویس ہیں، جن کی زندگی کی کہانی تین اہم جغرافیوں— میرپور، فیصل آباد، اور نوٹنگھم—کے تجربات کا نچوڑ ہے۔ آپ کا ادبی سفر دراصل انسانی جذبات اور مشاہدات کا ایک خوبصورت ترجمہ ہے۔ قلم سے ایک طویل رفاقت آپ نے 1975 میں کم عمری میں ہی قلم سے رفاقت اختیار کر لی تھی۔ آپ کا ادبی میدان وسیع ہے، جس میں شامل ہیں:  دکھ بھری کہانیاں: محمد مسعود کی کہانیاں وہ آئینۂ ہیں جن میں برصغیر کی سچی جذباتی زندگی، جدوجہد اور رشتوں کے اتار چڑھاؤ کی عکاسی ہوتی ہے۔ آپ کے فن کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپ اپنے کرداروں کے اندرونی کرب اور غموں کو اتنی سچائی سے بیان کرتے ہیں کہ قاری خود کو اس کہانی کا حصہ محسوس کرتا ہے۔  شعر و شاعری و مضامین: آپ کی شاعری میں روایت کا احترام اور جدید حساسیت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ آپ کے فن نے پاکستان کے کئی معروف میگزینز میں اشاعت کے ذریعے ایک وسیع اور قدردان حلقہ بنا لیا ہے۔ نقطۂ آغاز: وہ جذباتی بنیاد محمد مسعود کی شاعری میں گہرا اداس رنگ اور رشتوں کی نزاکت نمایاں ہے۔ ان کی فکر کی گہرائی کا اندازہ ا...

دولت کی گردش

تصویر
ایک قصبے کے ہوٹل میں ایک سیاح داخل ہوا اور مالک سے اسکے ہوٹل کا بہترین کمرہ دکھانے کو کہا مالک نے اسے بہترین کمرے کی چابی دی اور کمرہ دیکھنے کی اجازت بھی دے دی سیاح نے کاونٹر پر ایک سو پونڈز بطور ایڈوانس رکھا اور کمرہ دیکھنے چلا گیا اس وقت قصبے کا قصاب ہوٹل کے مالک سے گوشت کی رقم لینے آ گیا ہوٹل کے مالک نے وہی سو پونڈز اٹھا کر قصاب کو دے دیے کیونکہ ہوٹل کے مالک کو امید تھی کہ سیاح کو ہوٹل کا کمرہ ضرور پسند آجائے گا قصائی نے سو پونڈز لے کر فوراً یہ رقم اپنے جانور سپلائی کرنے والے کو دے دی  جانور سپلائی والا ایک ڈاکٹر کا مقروض تھا جس سے وہ اپنا علاج کروا رہا تھا تو اس نے وہ سو پونڈز ڈاکٹر کو دے دیے وہ ڈاکٹر کافی دنوں سے اسی ہوٹل کے ایک کمرے میں مقیم تھا اس لیے اُس نے یہی پونڈز ہوٹل کے مالک کو ادا کر دیے وہ سو پونڈز ویسے ہی کاؤنٹر پر ہی پڑا تھے کہ کمرہ پسند کرنے کے لئے سیڑھیاں چڑھ کر گیا ہوا متوقع گاہک واپس آ گیا اور ہوٹل کے مالک کو بتاتا ہے کہ مجھے کمرہ پسند نہیں آیا یہ کہہ کر اس نے اپنا سو پونڈز واپس اٹھائے اور چلا گیا اکنامک کی اس کہانی میں نہ کسی نے کچھ کمایا اور نہ کسی نے کچھ خرچ...

یاد رکھے گا وہ دل، کس نے اُجالا چھینا

یاد رکھے گا وہ دل، کس نے اُجالا چھینا کون آیا تھا یہاں، کس نے یہ بالا چھینا ​ہم تو خوش تھے کہ ہمیں دھوپ میسر تھی بہت آسماں سے یہ ہمارا ہی تو سایا چھینا ​اِک ملاقات کی خواہش میں کٹے راتوں کے دن یہ بھی قسمت ہے کہ ہم سے وہی لمحہ چھینا ​جس کو دیکھا بھی نہیں، جس کو پکارا بھی نہیں اُس کی خوشبو نے ہی کیوں رُوح کا دھوکا چھینا ​شہر والوں کو خبر بھی نہ ہوئی، رات گئی میری آنکھوں سے ستاروں نے اُجالا چھینا ​اب تو رونا بھی اُسی شخص کو راس آتا ہے جس کے ہاتھوں سے مسعود یہ دنیا چھینا

آنکھیں نم ہیں، دل ہے مغموم

​یاد آئے گا وہ چہرہ، وہ محبت کی ادا کیسے ہو جائے کوئی شخص یوں پل میں جدا ​ شہر خاموش، گلی سنسان، ہر شے ہے اداس چھوڑ کر چل دیا وہ، کیا نہ پوری کوئی آس ​ مسعود، اس غم کو مٹانا نہیں آسان ہوا کیا خبر کس کے لیے کتنا پریشان ہوا ​ ہزاروں لوگ تھے شامل، تری تدفین میں جیسے سورج چھُپ گیا ہو گہری زمین میں ​ مسجدوں میں بھی ہے اب ذکر اُسی مہمان کا دیکھنا تھا آخری بار اُس نفیس انسان کا ​ روح کو راحت ملے، آنکھوں سے بارش نہ رُکے درد کے عالم سے شاید یہ زمانہ نہ جھُکے ​ وہ جو اپنا تھا، سو اب یاد ہی بن کر رہا دل کے ہر گوشے میں اُس کا ہی فسوں چل پڑا

یہ سنگدلی آخر کیوں؟؟

( محمد مسعود نوٹنگھم یو کے )آج کے دور میں اچھی اولاد بھی ملنا ایک لاٹری کی طرح ہے ٹی وی چینل کا اینکر ایدھی اولڈ ہاؤس میں رہائش پزیر لوگوں کا انٹرویو کر رہا تھا، ایک ستر سال کے بزرگ سے جب پوچھا کہ آپ یہاں کب سے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ میں دس سال سے رہ رہا ہوں، پھر اینکر نے پوچھا آپکو یہاں کون چھوڑ گیا تھا تو انہوں نے کہا کہ چھوٹا بھائی چھوڑ گیا تھا کیونکہ جس گھر کے پورشن میں رہتا تھا وہ حصہ اس نے کرایہ پہ دے دیا اور میرے رہنے کی اور کوئی جگہ نہ تھی اسلئے وہ مجھے یہاں چھوڑ گیا، اگلا سوال اینکر نے پوچھا کہ بابا جی آپ کے بھائی کیا کام کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اپنی فیملی سمیت انگلینڈ میں رہتا ہے اور یہاں اسکی بہت بڑی کوٹھی ہے، اگلے سوال کا جواب سن کر اینکر کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئےجب اس نے پوچھا بابا جی آپ کے بچے ہیں تو انہوں نے کہا جی ہاں تین بیٹے ہیں اور تینوں انگلینڈ میں ہی مقیم ہیں، اور ایک بیٹی ہے وہ شادی شدہ ہے۔ اینکر نے پوچھا بابا جی تو بیٹے ملنے آتے ہیں تو بابا جی نے اپنے آنسوں پہ قابو پاتے ہوئے نفی میں جواب دیا۔ ہم نماز نہایت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھتے ہیں لیکن اگر بوڑھے و...

سالوں کے دکھ

سالوں کے دکھ لمحوں میں ختم نہیں ہوتے بعض دفعہ (معافی)  مانگنے والا تو معافی  مانگ کر اپنی تکلیف کم کرنے کی کوشش کرتا ہے یا اپنا اگلا راستہ آسان کرتا ہے مگر دوسری طرف معافی  دینے والا کبھی کبھی ایسے مقام پہ ہوتا ہے کہ وہ مجرم کو تو معاف کر دیتا ہے مگر اس تکلیف کو نہیں بھول پاتا جو سزا اس نے برسوں کاٹی ہوئی ہوتی ہے اتنا صبر اور اتنا ظرف کہاں سے لایا جائے۔ دعاؤں کا طلبگار 

بچھڑ گیا بس ساتھی دے کر پل دو پل کا ساتھ

بچھڑ گیا بس ساتھی دے کر پل دو پل کا ساتھ (تحریر محمد مسعود نوٹنگھم یو کے) یہ جو عورت ذات ہوتی ہے نا یہ محبت نہیں جنگ کرتی ہے جیسے جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے نا کہ کسی طرح بس جیت ہو ۔ اسی طرح عورت ذات جس سے ایک دفعہ وفا کرتی ہے وہ چاہے جس کی بھی ہو جائے لیکن اس کا دل اپنی چاہت کے لیئے دھڑکتا ہے ۔ وہ ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ کسی طرح اس کی چاہت اس کو تسلیم کر لے اسکو اپنا جیون ساتھی بنا لے ۔ لیکن مرد کبھی سمجھ نہیں سکتا اس کے جذبات کو ۔ وہ صرف موقع دیکھتا ہے ۔جب تک  پہلے پہل تو جان چھڑکتا ہے ، اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے اور اس کی ہر بات مانتا ہے ۔ جب وہ کامیاب ہوجاتا ہے اس کے دل میں جگہ بنانے کے میں ۔ پھر وہ اس کو ذات کا قیدی بنا دیتا ہے جس کی سوچ بس اس تک ہی محدود ہوتی ہے ۔ لیکن خود کسی اور کی تلاش میں نکل پڑتا ہے ۔ لیکن یہ بھول جاتا ہے کہ عورت ذات تو سب ایک جیسی ہیں بس شکل تبدیل ہیں ۔ شاید غلطی عورت کی ہی ہوتی ہے جو کسی کی باتوں کا یقین کر لیتی ہے جبکہ اس کو پتا بھی ہوتا ہے کہ آگے والا فریب دے گا لیکن بس یہ سوچ کر اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو جھٹک دیتی ہے شاید کہ میرا محبوب س...

جو تیری یاد کا لمحہ، وہ میری ذات کا سارا،

جو تیری یاد کا لمحہ، وہ میری ذات کا سارا، ہر ایک نقش میں تُو ہے، تیرا ہی رنگ ہے پیارا۔ ​نہ پوچھو کیوں یہ دل ہر پل اسی کی سمت جھکتا ہے، کہے ہے رُوح کا رشتہ، یہی تو ہے مرا سہارا۔ ​کسی نے غم دیا مجھ کو، کسی نے درد بھی بخشا، مگر وہ زخم ہے انمول جو اس نے دل پہ اُتارا۔ ​وہ لمحے کیسے بھولوں میں، وہ آنکھیں وہ مُسکراہٹ، یہی ہے میرا سرمایہ، یہی ہے میرا ستارا۔ ​ابھی تو دُور کی منزل، ابھی تو راستے مشکل، مگر یقین ہے کہ دِکھ جائے گا کوئی کنارہ۔

درد بھری شاعری

تصویر
تین بج کر 12 منٹ مورخہ 16 نومبر 2025 بروز اتوار کے دو  تازہ ترین شیر مسعود! اب یہ غم بھی ہمارا ہے، کہ تُو نہیں ہے اک دشتِ بے کراں ہے، کوئی سَمتِ آرزُو نہیں ہے ​جدائی کا عالم اور ​اُس کی یادیں ہیں یا کوئی قیامت، مسعود! جو دل میں ڈوبتی ہیں مگر سانس لینے کو راستہ نہیں دیتیں دعاؤں کا طلبگار