خواب اور خاک
یہ کیسا رَبط ہے، ہر شے سے اب ہوئے ہیں جُدا کیا خوشی کی کوئی کرن ہم کو دے گی اب تو صَدا کیا جو داغ دل کو ملے ہیں، وہ زخم گہرے ہیں ہر اِیک نِشاں پہ کریں، کِس طرح سے ہم یہ خَطا کیا مسعود، اپنے ہی ہاتھوں سے کھو دیا سب کچھ یہی نصیب کی لکھی ہوئی تھی ہم پر بَلا کیا اُداس شامیں ہیں سُنسان ہے یہ دُنیا بھی بدل گیا ہے ہمارا عجیب سارا سَماں کیا سَمیٹ رکھے تھے جتنے بھی خواب، سب ہی تو سپردِ خاک کر دیے، بس اِسی میں اپنی فَنا کیا خواب اور خاک یہ غزل گہرے دکھ اور مایوسی کے احساسات کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اعتراف کرتا ہے کہ وہ اب ہر خوشی، ہر شے سے جُدا ہو چکا ہے اور دل پر لگے زخم اتنے گہرے ہیں کہ ان کی تلافی ممکن نہیں۔ شعر میں شاعر اپنے نام مسعود کو پکارتا ہے، جہاں وہ خود ہی کو تمام محرومیوں کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے، گویا اس کی تقدیر میں یہی بَلا لکھی تھی۔ گرد و پیش کا سَماں بھی اب اداس، سُنسان اور بدل چکا ہے۔ غزل کا اختتام اس حقیقی درد پر ہوتا ہے کہ جن خوابوں کو سینچا تھا، انھیں اپنے ہی ہاتھوں سے خاک میں ملا دیا گیا، اور یہی عمل اس کی اپنی اندرونی فَنا اور تکمیل بن گیا۔ یہ خلاصہ ش...