دل زخم

یہ دل کا زخم جو دنیا سے اب چھپا نہ سکے،
محمد مسعود اسے عمر بھر بھلا نہ سکے!


یہ رازِ عشق جو دل میں ہے، لب پہ لانا ہے،
نصیب میں ہو نہ ہو، فرض یہ نبھانا ہے!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں