یاد رکھے گا وہ دل، کس نے اُجالا چھینا
یاد رکھے گا وہ دل، کس نے اُجالا چھینا
کون آیا تھا یہاں، کس نے یہ بالا چھینا
ہم تو خوش تھے کہ ہمیں دھوپ میسر تھی بہت
آسماں سے یہ ہمارا ہی تو سایا چھینا
اِک ملاقات کی خواہش میں کٹے راتوں کے دن
یہ بھی قسمت ہے کہ ہم سے وہی لمحہ چھینا
جس کو دیکھا بھی نہیں، جس کو پکارا بھی نہیں
اُس کی خوشبو نے ہی کیوں رُوح کا دھوکا چھینا
شہر والوں کو خبر بھی نہ ہوئی، رات گئی
میری آنکھوں سے ستاروں نے اُجالا چھینا
اب تو رونا بھی اُسی شخص کو راس آتا ہے
جس کے ہاتھوں سے مسعود یہ دنیا چھینا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں