میں اور میرا بیٹا
اس تصویر میں ایک باپ اور بیٹے کا رشتہ نظر آتا ہے، جو وقت کے ساتھ مزید گہرا اور مضبوط ہوا ہے۔ باپ، جو آج بوڑھا ہو چلا ہے، لیکن جس کے دل میں بیٹے کے لیے محبت کا سمندر آج بھی موجیں مار رہا ہے۔ اور بیٹا، جو اب جوان ہو کر زندگی کے نئے راستوں پر چل پڑا ہے۔
وقت کا بدلتا رنگ اور محبت کا لازوال احساس
یاد ہے وہ دن، جب یہ جوان بیٹا باپ کی انگلی تھام کر چلا کرتا تھا۔ باپ کا ہاتھ دنیا کی ہر سختی سے بچانے والا ایک مضبوط قلعہ تھا۔ آج، باپ کے چہرے پر پڑی جھریوں میں وہ تمام قربانیاں اور پیار صاف جھلکتا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کی پرورش میں صرف کی ہیں۔
باپ نے بیٹے کو جوان ہوتے دیکھا، اس کے خوابوں کو پنکھ لگاتے دیکھا۔ اس کی جوانی میں باپ کی اپنی جوانی کا عکس جھلکتا ہے۔ باپ کا دل آج بھی پہلے سے زیادہ پیار سے لبریز ہے، لیکن اب اس پیار کے ساتھ ایک گہرا درد اور فکر بھی شامل ہو گئی ہے۔
اب بیٹے کا سہارا اور پوتے پوتیوں کی دلگیر فکر
بوڑھے باپ کی نگاہیں اب صرف بیٹے کی خوشیوں تک محدود نہیں ہیں۔ ان آنکھوں میں اب آنے والی نسل، یعنی اپنے پوتے پوتیوں کی فکر بھی سمائی ہوئی ہے۔
باپ کا دل یہ سوچ کر بے چین ہو جاتا ہے کہ ان کے جانے کے بعد ان کے نواسے نواسیوں اور پوتے پوتیوں کا کیا بنے گا۔ کیا ان کا بیٹا، جو اب خود باپ بننے والا ہے، وہ محبت اور وہ قربانی دے پائے گا جو انہوں نے دی؟
راتوں کو جاگ کر، بوڑھا باپ اپنے پوتے پوتیوں کے روشن مستقبل کی خاموش دعائیں کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ان کی آنے والی نسل زندگی کی ہر خوشی دیکھے، ہر غم سے محفوظ رہے۔
اگرچہ باپ بوڑھا ہو چکا ہے، لیکن اس کی محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ یہ پیار اب ایک وٹہ (وراثت) بن چکا ہے، جو وہ بیٹے کو دے کر جانا چاہتا ہے تاکہ بیٹا بھی اپنے بچوں سے اسی جنون کے ساتھ پیار کرے۔
یہ صرف ایک باپ اور بیٹے کی کہانی نہیں ہے، یہ ہر گھر کی وہ سچائی ہے جہاں نسلیں بدلتی ہیں مگر محبت نہیں بدلتی۔ بوڑھا باپ اپنے کمزور کندھوں پر اب بیٹے اور اس کی نسل کا بوجھ محسوس کرتا ہے، اور اس بوجھ کو وہ صرف اپنی محبت اور دعاؤں کے پل سے پار لگانا چاہتا ہے۔
میرا محبت کا یہ سفر رلا دینے والا ہے، ایک ایسی قربانی کی داستان جو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ باپ کا یہ پیار، اس کی فکر اور دعائیں ہی ان کی زندگی کا اصل اثاثہ ہیں، جو ان کے بعد بھی ان کی نسلوں کو روشنی دیتے رہیں گے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں