آنکھیں نم ہیں، دل ہے مغموم
یاد آئے گا وہ چہرہ، وہ محبت کی ادا
کیسے ہو جائے کوئی شخص یوں پل میں جدا
شہر خاموش، گلی سنسان، ہر شے ہے اداس
چھوڑ کر چل دیا وہ، کیا نہ پوری کوئی آس
مسعود، اس غم کو مٹانا نہیں آسان ہوا
کیا خبر کس کے لیے کتنا پریشان ہوا
ہزاروں لوگ تھے شامل، تری تدفین میں
جیسے سورج چھُپ گیا ہو گہری زمین میں
مسجدوں میں بھی ہے اب ذکر اُسی مہمان کا
دیکھنا تھا آخری بار اُس نفیس انسان کا
روح کو راحت ملے، آنکھوں سے بارش نہ رُکے
درد کے عالم سے شاید یہ زمانہ نہ جھُکے
وہ جو اپنا تھا، سو اب یاد ہی بن کر رہا
دل کے ہر گوشے میں اُس کا ہی فسوں چل پڑا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں