​یہ پیار کی کہانی، جو لکھی گئی ہے مجھ سے۔

دوسروں کے چراغ روشن کرنے سے آپ کا راستہ کیسے منور ہوتا ہے؟ یہ قدرت کا کیسا انمول اور عجیب و غریب سودا ہے کہ جب ہم دوسروں کے چراغوں میں تیل ڈالتے ہیں، تو درحقیقت ہم اپنے راستے کو مزید روشن کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ محض کوئی جذباتی جملہ نہیں، بلکہ زندگی کا ایک گہرا فلسفہ ہے جس کا مشاہدہ آپ اپنے گرد و پیش ہر لمحہ کر سکتے ہیں۔
دوسروں کا چراغ روشن کرنے کا مطلب صرف مالی مدد کرنا نہیں ہے۔ یہ اس سے کہیں زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے: 
کسی گمراہ کو صحیح راستہ دکھانا، یا کسی نو آموز کو اپنا ہنر سکھانا۔
 کسی مایوس شخص کے دل میں نئی امنگ جگانا اور اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ دینا۔
کسی ضرورت مند کو اپنا قیمتی وقت دینا اور اس کی بات توجہ سے سننا۔
 کسی کی کامیابی کے لیے دل سے دعا کرنا اور اس کے لیے نیک تمنائیں رکھنا۔
جب آپ کسی دوسرے کی مدد کرتے ہیں، تو آپ کا اپنا چراغ کئی طریقوں سے منور ہو جاتا ہے:
جب آپ کسی کی مدد کرتے ہیں، تو آپ کو فوری طور پر ایک روحانی سکون اور اطمینان ملتا ہے۔ سائنس بھی یہ ثابت کرتی ہے کہ دوسروں کے لیے اچھا کرنے سے دماغ میں 'خوشی کے ہارمونز' (Endorphins) خارج ہوتے ہیں۔ یہ مثبت توانائی نہ صرف آپ کے موڈ کو بہتر بناتی ہے بلکہ آپ کی صلاحیتوں کو بھی کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
آپ نے جو نیکی اور مدد آج کی ہے، وہ کل آپ کے لیے ایک غیر متوقع دروازہ کھول سکتی ہے۔ دنیا ایک چھوٹی جگہ ہے، اور جو بیج آپ نے دوسروں کے چراغ میں ڈالا ہے، وہ کسی نہ کسی صورت میں آپ کے لیے سایہ دار درخت بن کر سامنے آئے گا۔ مدد ہمیشہ بدلے میں نہیں مانگی جاتی، لیکن یہ لوٹ کر ضرور آتی ہے۔
جب آپ کسی کو کچھ سکھاتے ہیں تو درحقیقت آپ خود اس علم یا مہارت میں مزید پختہ ہو جاتے ہیں۔ وضاحت کرنے کے عمل میں، آپ کو اپنے ہی نکتہ نظر میں نئی گہرائی ملتی ہے، اور یوں آپ کا چراغ پہلے سے زیادہ روشن ہو جاتا ہے۔
دوسروں کی مدد سے آپ اعتماد اور محبت کا رشتہ قائم کرتے ہیں۔ یہ مضبوط تعلقات مستقبل میں آپ کی سب سے بڑی طاقت بن جاتے ہیں۔ کسی مشکل وقت میں جب آپ کا اپنا راستہ دھندلا ہو جائے گا، تو یہی روشن چراغ آپ کو راستہ دکھائیں گے۔
یاد رکھیں: روشنی تقسیم کرنے سے کم نہیں ہوتی، بلکہ ہر چراغ سے ٹکرا کر اور زیادہ پھیل جاتی ہے۔ اپنے چراغ کو بجھائے بغیر دوسرے کا چراغ روشن کرنا ہی اصل فن ہے۔
میرا یہ کہنا ہے کہ آئیے! آج سے ہم سب اپنے چراغ کی فکر کرنے کے بجائے، اس بات پر توجہ دیں کہ ہم اپنے ارد گرد کتنے چراغ روشن کر سکتے ہیں۔ یہی خدمت، ایثار، اور محبت کا سودا ہمیں زندگی کی اصل کامیابی، سکون اور پائیدار روشنی عطا کرتا ہے۔
کیا آپ آج کسی کا چراغ روشن کرنے جا رہے ہیں؟ ہمیں کمنٹ میں ضرور بتائیں!
آئیے اسی آرٹیکل پر اپنی لکھی ایک غزل میں آپ دوستوں سے شئیر کرتا ہوں

 غزل کا نام ہے نور کرم

دیکھا ہے جب سے اس نے، اپنا مسعود ہونا۔
کیا خوب کر دیا ہے، ہر ایک غم سے دُھونا۔

​کسی آرزو کا حاصل، کسی خواب کا مقدر۔
بس روشنی کا سایا، بس شفق کا اونا۔

​نہ حسابِ نفع و زر ہے، نہ ضرر کا ڈر ہے اب تو۔
ہاں دل کی دولت ہے یہ، سارا جہاں لُٹانا۔

​یہ کیسا سفر ہے میرا، نہ کوئی رہبر ملے ہے۔
میں خوش ہوں کہ سیکھ پایا، تلاش کا رونا۔

​وہ جو دور چاند بیٹھا، میری بات سن رہا ہے۔
وہ کہے کہ غم نہ کر، میں ہوں تیرا ہونا۔

​یہ پیار کی کہانی، جو لکھی گئی ہے مجھ سے۔
کہیں لوگ کہہ نہ دیں گے، کسی کا فسوں ہونا۔

​کہہ دو مسعود سے اب، وہ پروا نہ کرے دنیا کی۔
یہ عشق ایک آگ ہے، ہے خود کو جلانا ہونا۔

تحریر اور شاعری بائی محمد مسعود نوٹنگھم یو کے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں