جو تیری یاد کا لمحہ، وہ میری ذات کا سارا،
جو تیری یاد کا لمحہ، وہ میری ذات کا سارا،
ہر ایک نقش میں تُو ہے، تیرا ہی رنگ ہے پیارا۔
نہ پوچھو کیوں یہ دل ہر پل اسی کی سمت جھکتا ہے،
کہے ہے رُوح کا رشتہ، یہی تو ہے مرا سہارا۔
کسی نے غم دیا مجھ کو، کسی نے درد بھی بخشا،
مگر وہ زخم ہے انمول جو اس نے دل پہ اُتارا۔
وہ لمحے کیسے بھولوں میں، وہ آنکھیں وہ مُسکراہٹ،
یہی ہے میرا سرمایہ، یہی ہے میرا ستارا۔
ابھی تو دُور کی منزل، ابھی تو راستے مشکل،
مگر یقین ہے کہ دِکھ جائے گا کوئی کنارہ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں