​ہر سمت چراغاں

​ہر سمت چراغاں

 کیا خوب ہے وہ لمحہ جو تیری یاد سے آئے
 اس دل کو قرار آئے، جب تیری بات سے آئے
 
یہ چاند، یہ ستارے، یہ منظر، یہ روشنی سب
 لگتا ہے مجھے جیسے تیری ذات سے آئے
 
وہ عشق کی کہانی جو مکمل نہ ہو پائی
 شاید کہ خوشی اس میں کسی گھات سے آئے
 
میں ہجر کی شب میں بھی اسے یاد ہی رکھوں گا
وہ خواب جو آنکھوں کو تیری ذات سے آئے
 
اے دل کے مکین! نام ترا ہے یہی مسعود
کیا فرق کہ وہ مجھ تک کسی بات سے آئے

ہر سمت چراغاں ہے مرے شہرِ تمنا میں
روشن ہے دل ایسا کہ ترے ہاتھ سے آئے




یہ غزل مکمل طور پر عشق اور آرزو کے جذبات پر مبنی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اپنے محبوب کی یادوں اور باتوں کو دل کے سکون اور قرار کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ دنیا کی تمام خوبصورت چیزیں چاند، ستارے، روشنی سب محبوب کی ہستی اور وجود (ذات) سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔
غزل میں ایک ادھوری محبت کا ذکر بھی ہے، جہاں شاعر ( محمد مسعود ) کو یقین ہے کہ اس نامکمل کہانی میں بھی کہیں نہ کہیں خوشی چھپی ہوئی ہے۔ جدائی (ہجر) کی تاریک راتوں میں بھی، محبوب کے خوبصورت خواب ہی دل کو روشنی بخشتے ہیں۔ شاعر محبوب کو ( گمنام ) کے نام سے پکارتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ دل کا مکین وہی ہے، اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ یاد کس بہانے یا کس بات کے ذریعے آئے۔ آخر میں، شاعر اپنے دل کی حالت کو بیان کرتا ہے جو محبوب کی چاہت میں چراغاں ہے اور اس کی محبت سے روشن ہے۔ یہ غزل انتظار، عقیدت، اور لازوال محبت کا اظہار ہے۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں