اشاعتیں

جون, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پردہ داری

تصویر
پردہ داری پردے میں پورا رہنا ہے ہمت کر کے چلنا ہے سر پر خوشی کا بوجھ لیے پھر بھی دل افسردہ ہے ہنستے ہوئے سب سے ملنا ہے درد کو دل میں رکھنا ہے محفل میں قہقہے بانٹیں ہیں رات کو آنسو پینا ہے پاؤں میں چھپے چھالے ہیں راہ کی کڑواہٹ سہنا ہے اپنے ہی کانٹوں سے الجھ کر اندر ہی اندر جلنا ہے دنیا کو دھوکا دینا ہے خود کو بھی بہلانا ہے آئینہ بھی حیران ہوا جھوٹی تصویر گھڑنا ہے زخموں کو مرہم دیتے ہیں مرہم سے زخم بڑھتا ہے مسعودؔ یہی دستور ہوا تنہائی میں سہتے رہنا ہے یہ غزل انسانی زندگی کے اس پہلو کی عکاسی کرتی ہے جہاں انسان اپنے دکھ، تکلیفوں اور اندرونی شکستگی کو دنیا کی نظروں سے چھپا کر جینے پر مجبور ہوتا ہے۔ محمد مسعود بیان کرتا ہے کہ بظاہر خوش اور مطمئن دکھائی دینے والا شخص اپنے دل میں بے شمار غم اور درد سموئے ہوتا ہے۔ وہ لوگوں سے مسکرا کر ملتا ہے، محفلوں میں خوشی بانٹتا ہے، لیکن تنہائی میں آنسوؤں کا ساتھ نبھاتا ہے۔ زندگی کی دشوار راہوں میں اسے کئی زخم اور اذیتیں ملتی ہیں، مگر وہ خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتا رہتا ہے۔ محمد مسعود اس تلخ حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ انسان کبھی کبھی دنیا کے...