مٹی کی خوشبو

مٹی کی خوشبو

تمہاری یاد کے جگنو جو دل میں جھلملاتے ہیں
اندھیری رات میں رستے ستارے بن کے آتے ہیں

بہت پُرشور دنیا میں سکوں کی جستجو لے کر
ہم اکثر اپنے ہی اندر کہیں ٹھہر سے جاتے ہیں

وہ ہجر و وصل کے لمحے، وہ قصے بیتے برسوں کے
کسی پرانی بیاض کے گوشوں سے اب لرزتے ہیں

دیارِ غیر میں بھی ہم کو وہ مٹی پکارتی ہے
جہاں ہم نے پرندوں کی طرح دن گنوائے ہیں

وفا کی راہ میں جن کو کٹھن منزل ملی، وہ ہی
زمانے بھر کی آنکھوں میں حقیقت جگمگاتے ہیں

چلو اب بوجھ یادوں کا کہیں ساحل پہ رکھ دیں ہم
مسافر تھک بھی جائیں تو سفر کب چھوڑ پاتے ہیں

سخن کے اس گلستاں میں قلم کی آبرو رکھنا
مسعود اب حرفِ سادہ بھی دلوں میں گھر بناتے ہیں



یہ غزل مٹی کی خوشبو ایک گہری جذباتی اور فکری منظر کشی ہے جو انسان کی یادوں، وطن، محبت اور وقت کی گزر گاہ کو بَیانی کرتا ہے۔ شاعر محمد مسعود نے یادوں کو جگنوؤں سے تشبیہ دی ہے جو دل کے اندھیروں میں روشنی بکھیرتے ہیں، اور یہ دکھایا ہے کہ کیسے یادیں انسان کے اندر سکون کی تلاش میں بھی کبھی رک جانے کا سبب بنتی ہیں۔ ہجر و وصل کے لمحات اور بیتے ہوئے برسوں کے قصے، جیسے کسی پرانی کتاب کے گوشوں سے لرز کر سامنے آتے ہیں، یہ انسانی جذبات کی نرمی اور گہرائی کو اجاگر کرتا ہے۔
دیارِ غیر میں بھی وطن کی مٹی کی پکار انسان کو اپنی جڑوں کی یاد دلاتی ہے، اور وفا کے راستے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد کی قدر اور حقیقت وقت کی آنکھوں میں چمکتی ہے۔ شاعر محمد مسعود آخری بند میں یادوں کے بوجھ کو ساحل پر رکھنے کی تجویز دیتا ہے، مگر ساتھ ہی سفر اور زندگی کے جاری رہنے کی ضرورت کو بھی تسلیم کرتا ہے۔
یہ غزل زبان کی سادگی میں بھی جذبات کی شدت رکھتی ہے، اور شاعر مسعود نے حرفِ سادہ کے ذریعے دلوں میں جگہ بنانے کی خوبصورت کوشش کی ہے، جو قاری کے ذہن میں ایک گہرا اثر چھوڑتی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں