تیرے بعد

تیرے بعد


ہم نے اپنوں کو بھی اپنا نہ کہا تیرے بعد
دل کا دروازہ کسی پر نہ کھلا تیرے بعد

چاند نکلا تو بہت دیر تلک تکتے رہے
پھر یہ محسوس ہوا، چاند نہ تھا تیرے بعد

بزم میں بیٹھے رہے شام سے پھر صبح تلک
پر کوئی بات بھی دل کو نہ لگی تیرے بعد

خوشبوئیں رستے میں ٹھہریں نہ نظارے ٹھہرے
ہم نے منظر کو بھی مڑ کر نہ دیکھا تیرے بعد

مسکراہٹ تو لبوں پر کئی بار آئی مگر
وہ جو بےساختہ تھی، وہ نہ رہی تیرے بعد

شہر سارا بھی اگر ہاتھ ملانے آ جائے
مسعودؔ ہاتھ میں تنہائی رہی تیرے بعد




تیرے بعد ہجر اور تنہائی کی کیفیت کو بیان کرنے والی غزل ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ محبوب کے جانے کے بعد اُس نے اپنوں کو بھی اپنا سمجھنا چھوڑ دیا۔ دل کا دروازہ ہر ایک پر بند ہو گیا۔ چاند نکلے تو دیکھتا رہا، مگر روشنی کا احساس نہ ہوا کیونکہ اصل اجالا وہی شخص تھا جو اب نہیں۔ محفلوں میں شریک تو ہوا مگر کوئی بات دل کو نہ چھو سکی۔ راستے کی خوشبوئیں اور منظر سب بے معنی ہو گئے۔ لبوں پر ہنسی کبھی آئی بھی تو وہ بے ساختہ خوشی جو پہلے تھی، وہ لوٹ کر نہ آئی۔ 
آخری شعر میں محمد مسعودؔ کہتا ہے کہ اب اگر سارا شہر بھی ہاتھ ملانے آ جائے، تب بھی ہاتھ میں صرف تنہائی ہی رہتی ہے۔ غزل کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کسی ایک شخص کی کمی پوری کائنات کو ویران کر دیتی ہے، اور اس کے بعد نہ رشتے رہتے ہیں نہ رونقیں۔




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

یک طرفہ محبت

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا