اشاعتیں

جولائی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تنہائی کا جال

تصویر
تنہائی کا جال نہ جانے کتنے گھر بسائے اپنا گھر بسا نہ سکی سب کی مانگ سجا دی لیکن اپنی مانگ سجا نہ سکی ہر آنگن میں گونج اٹھیں خوشیوں کی پیاری شہنائیاں اپنی ویران کوٹھری میں تنہائی سے جدا نہ سکی جوڑے کتنے ملوا ڈالے کتنی دعائیں ساتھ ملیں اپنی قسمت کے زخموں پر لیکن مرہم لگا نہ سکی مہندی کی خوشبو بانٹتی رہی ہر دل میں امید جگاتی رہی اپنے ہاتھوں کی قسمت میں کوئی رنگ رچا نہ سکی ہر بابل کے آنگن میں اس نے پھول محبت کے بوئے اپنے صحن کی سوکھی مٹی میں کوئی گل کھلا نہ سکی کہتی تھی اک روز سسک کر بیٹا! اتنا بتلا دے سب کے بگڑے کام سنوارے اپنی قسمت بنا نہ سکی رشتوں کی دلال کہلائی دنیا بھر کی خوشیاں بانٹیں اپنے دل کی ویرانی کو لیکن کبھی چھپا نہ سکی کیسا انصاف ہے مولا تیرا یہ کیسی تقدیر لکھی سب کے دیپ جلانے والی اپنا دیپ جلا نہ سکی مسعودؔ اس کی آنکھوں میں صدیوں کا اک صحرا تھا سب کو ہنستا دیکھ لیا خود ہنس کر دکھ بھلا نہ سکی یہ غزل ایک ایسی عورت کی دردناک زندگی کی عکاسی کرتی ہے جو عمر بھر دوسروں کے رشتے جوڑتی رہی، گھر آباد کرتی اور خوشیاں بانٹتی رہی، مگر خود محبت، ازدواجی سکون اور اپنے گھر کی نعم...