پردہ داری

پردہ داری

پردے میں پورا رہنا ہے ہمت کر کے چلنا ہے
سر پر خوشی کا بوجھ لیے پھر بھی دل افسردہ ہے

ہنستے ہوئے سب سے ملنا ہے درد کو دل میں رکھنا ہے
محفل میں قہقہے بانٹیں ہیں رات کو آنسو پینا ہے

پاؤں میں چھپے چھالے ہیں راہ کی کڑواہٹ سہنا ہے
اپنے ہی کانٹوں سے الجھ کر اندر ہی اندر جلنا ہے

دنیا کو دھوکا دینا ہے خود کو بھی بہلانا ہے
آئینہ بھی حیران ہوا جھوٹی تصویر گھڑنا ہے

زخموں کو مرہم دیتے ہیں مرہم سے زخم بڑھتا ہے
مسعودؔ یہی دستور ہوا تنہائی میں سہتے رہنا ہے


یہ غزل انسانی زندگی کے اس پہلو کی عکاسی کرتی ہے جہاں انسان اپنے دکھ، تکلیفوں اور اندرونی شکستگی کو دنیا کی نظروں سے چھپا کر جینے پر مجبور ہوتا ہے۔ محمد مسعود بیان کرتا ہے کہ بظاہر خوش اور مطمئن دکھائی دینے والا شخص اپنے دل میں بے شمار غم اور درد سموئے ہوتا ہے۔ وہ لوگوں سے مسکرا کر ملتا ہے، محفلوں میں خوشی بانٹتا ہے، لیکن تنہائی میں آنسوؤں کا ساتھ نبھاتا ہے۔ زندگی کی دشوار راہوں میں اسے کئی زخم اور اذیتیں ملتی ہیں، مگر وہ خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتا رہتا ہے۔ محمد مسعود اس تلخ حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ انسان کبھی کبھی دنیا کے سامنے ایک مصنوعی چہرہ پیش کرتا ہے اور اپنی اصل کیفیت کو چھپائے رکھتا ہے۔ آخری شعر میں "مسعودؔ" اس رویے کو زمانے کا دستور قرار دیتے ہیں کہ حساس دل رکھنے والے لوگ اکثر اپنی تنہائیوں میں ہی درد سہتے اور خاموشی سے زندگی گزارتے رہتے ہیں۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

یک طرفہ محبت

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا