فادرز ڈے
فادرز ڈے
ایک دن کی محبت یا عمر بھر کا سایہ؟
تحریر: محمد مسعود، نوٹنگھم، برطانیہ
فادرز ڈے کیا ہے؟ یہ مغربی دنیا سے شروع ہونے والی ایک رسم ہے جس میں ہر سال جون کے تیسرے اتوار کو باپ سے محبت اور شکر گزاری کے اظہار کے لیے منایا جاتا ہے۔ 2026 میں یہ دن آج بروز اتوار 21 جون کو منایا جا رہا ہے۔ اس دن اولاد اپنے والد کو تحفے دیتی ہے، کارڈ لکھتی ہے، سوشل میڈیا پر ان کے ساتھ تصویریں لگاتی ہے اور ان کی قربانیوں کو یاد کرتی ہے۔ اس دن کا مقصد بظاہر بہت خوبصورت ہے کہ ہم اس ہستی کو یاد کریں جس نے اپنی جوانی، اپنی خواہشات اور اپنی نیندیں ہماری پرورش پر قربان کر دیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا باپ سے محبت کے اظہار کے لیے سال میں ایک دن کافی ہے؟ کیا وہ رشتہ جسے ہمارے دین نے جنت کا دروازہ قرار دیا، اسے ہم صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ تک محدود کر دیں؟
ہمارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "باپ جنت کے دروازوں میں سے بیچ کا دروازہ ہے، اب تمہاری مرضی ہے اسے ضائع کر دو یا اس کی حفاظت کرو"۔ ایک اور حدیث میں فرمایا: "اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے"۔ قرآن مجید نے والدین کے ساتھ "اُف" تک کہنے سے منع فرما دیا اور حکم دیا کہ ان کے سامنے عاجزی و انکساری سے جھکے رہو۔ یہ تمام تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ والد کا مقام کوئی موسمی پھول نہیں جسے سال میں ایک بار یاد کر لیا جائے۔ والد تو وہ سایہ دار درخت ہے جس کی چھاؤں میں اولاد عمر بھر پلتی ہے۔
فادرز ڈے منانے والے اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ مصروف زندگی میں ہم والد کو وقت نہیں دے پاتے، اس لیے کم از کم ایک دن تو خاص ان کے نام کر دیں۔ یہ بات اپنی جگہ، لیکن اس میں ایک خطرہ بھی چھپا ہے۔ جب ہم محبت کو ایک دن کے خانے میں بند کر دیتے ہیں تو لاشعوری طور پر باقی 364 دنوں کو اس فرض سے آزاد سمجھ لیتے ہیں۔ تحفہ دے دیا، تصویر لگا دی، بس ذمہ داری پوری ہو گئی۔ حالانکہ والد کو ہماری سب سے زیادہ ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب ان کے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں، جب ان کی آواز دھیمی پڑ جاتی ہے، جب وہ اپنے ہی گھر میں اجنبی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اس وقت ایک دن کا کارڈ نہیں، روز کا سلام، روز کی مسکراہٹ، روز کا وقت درکار ہوتا ہے۔
اسلام نے ہمیں "دن منانے" کا تصور نہیں دیا، "زندگی گزارنے" کا سلیقہ سکھایا ہے۔ عیدین خوشی کے دن ہیں، لیکن والدین کی خدمت کا کوئی خاص دن نہیں۔ ہر فجر کے بعد ان کے ہاتھ چومنا، ہر رات سونے سے پہلے ان کا حال پوچھنا، ان کی دوائی کا وقت یاد رکھنا، ان کی بات کو غور سے سننا چاہے وہ دس بار دہرا چکے ہوں یہ اصل فادرز ڈے ہے۔ جو روز منایا جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ فادرز ڈے منانا سرے سے غلط ہے۔ اگر کوئی اولاد اس بہانے اپنے والد کو خوشی دینا چاہتی ہے، ان سے معافی مانگنا چاہتی ہے، ٹوٹا ہوا رشتہ جوڑنا چاہتی ہے تو یہ عمل بذاتِ خود اچھا ہے۔ نیکی کی طرف لے جانے والا ہر بہانہ مبارک ہے۔ لیکن اس دن کو "یکجہتی کا واحد موقع" سمجھ لینا، اور باقی سال والد کو نظر انداز کر دینا، یہ طرزِ عمل ہمارے دینی اور اخلاقی اقدار کے خلاف ہے۔
مغربی معاشرے میں فادرز ڈے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ وہاں خاندانی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ اولاد جوان ہو کر الگ ہو جاتی ہے، والدین اولڈ ہاؤس میں چلے جاتے ہیں، پھر سال بعد ملاقات ہوتی ہے۔ انہیں یاد دہانی کے لیے ایک دن مقرر کرنا پڑا۔ الحمدللہ ہمارا معاشرہ ابھی اس نہج پر نہیں پہنچا۔ ہمارے یہاں والد گھر کا سربراہ ہوتا ہے، اس کی موجودگی میں اولاد اونچی آواز میں بات نہیں کرتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس روایت کو کمزور نہ ہونے دیں۔
برطانیہ میں رہتے ہوئے میں دیکھتا ہوں کہ یہاں کے اسکولوں میں بچے فادرز ڈے کارڈ بناتے ہیں۔ وہ اپنے والد کے لیے "World's Best Dad" لکھتے ہیں۔ یہ منظر اچھا لگتا ہے۔ لیکن اس سے زیادہ اچھا منظر وہ ہے جب ایک بیٹا دفتر سے تھکا ہارا آ کر بھی باپ کے پاؤں دباتا ہے، یا ایک بیٹی ہزار مصروفیت کے باوجود روز فون کر کے ابا سے پوچھتی ہے: "کھانا کھایا؟"۔
خلاصہ یہ کہ فادرز ڈے برا نہیں، لیکن ناکافی ہے۔ باپ جنت کا دروازہ ہے اور دروازے پر سال میں ایک بار دستک دینے سے داخلہ نہیں ملتا۔ اس دروازے پر تو روز حاضری دینا پڑتی ہے، روز اس کی چوکھٹ چومنا پڑتی ہے۔ اگر ہم نے واقعی والد سے محبت کرنی ہے تو اسے کیلنڈر سے نکال کر اپنے کردار میں شامل کرنا ہو گا۔ تب ہر دن فادرز ڈے ہو گا، اور جنت کا یہ دروازہ ہمارے لیے ہمیشہ کھلا رہے گا۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اولاد کو بھی یہی سکھائیں۔ انہیں بتائیں کہ تحفہ ضرور دو، مگر ساتھ میں اپنا وقت بھی دو۔ سیلفی ضرور لو، مگر والد کی تنہائی بھی دور کرو۔ تب یہ دن منانا بھی عبادت بن جائے گا، ورنہ یہ صرف ایک رسم رہ جائے گا۔ اور رسمیں نبھانے سے جنت نہیں ملتی، رشتے نبھانے سے ملتی ہے۔
دعاؤں کا طلبگار محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ
ایک دلی گزارش ہے
اگر آپ دردِ دل، محبت، ہجرت، وطن کی یاد اور احساسات سے بھرپور شاعری و تحریریں پڑھنے کے شوقین ہیں تو میرے شعر و شاعری کے پیج کا لنک اوپن کریں، پیج کو فالو کریں، لائک اور شیئر ضرور کریں
https://www.facebook.com/share/1DKkq9V35m/
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں